تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

ہم بھی چل نکلے ہیں اُسی راہِ فنا پہ شاید

Tajammal Janjuaتنزّلی اُس وقت کسی قوم کا مقدر بن جاتی ہے جب وہ اپنے آباء کی روایات کو بھلا کر عیش پرستی میں مگن ہو جائیں، جب مالدار بخل پہ اتر آئیں، فقیر تکبر کرنے لگیں، علماء طمع کرنے لگ جائیں، عورتیں حیاداری سے کنارہ کرنے لگ جائیں، جوانوں پہ سستی اورآرام پسندی غالب آنے لگ جائے، جب اہلِ ثروت لوگوں کو بھوک سے بلکتے معصوم بچے نظر نہ آئیں،جب غریب مائیں بہنیں دو وقت کی روٹی کمانے کی فکر میں در در کے دھکے کھانے پہ مجبور ہو جائیں اور جب حاکم ظلم پہ اُتر آئیں تو قانونِ فطرت ہے کہ فطرت سے بغاوت کرنے والی ایسی قوم کو قدرت اس صفحہءِ ہستی سے مِٹا دیتی ہے۔
ذرا غور کیجیئے، کیا یہ سب خصلتیں ہم میں عام نہیں ہو چکیں؟کیا ہم ایسے دور میں نہیں رہ رہے جہاں خواہشاتِ نفسانی کو شریعت، تکبر کو عزت و علم،کِینہ کو حلم، بے مطلب بحث کو مناظرہ،جھوٹی آرزو کو اِرادت،ہذیانِ طبیعت کو معرفت،کج روی کو فقراور ترکِ شریعت کا نام طریقت رکھ دیا گیا ہے؟؟؟
اگرتاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہلاکو خان نے جب بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجائی تواس وقت کے علماء انتہائی سطحی باتوں پر آپس میں دست و گریباں رہتے اور مختلف گروہوں میں بٹے رہتے۔ سارا سارا دن اداروں میں، چوپالوں میں ان موضوعات پر بحث مباحثے ہوتے کہ اگر براق (جو سفرِ معراج پر نبی پاک ﷺ کی سواری تھی)زمین پہ آ جائے تو کیا وہ حلال ہو گی یا حرام یا یہ کہ سوئی کے ناکے سے ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔حالانکہ اِن سوالات اور بحث مباحثے کا شریعت سے دور دور کا تعلق نہیں۔ اِس سے ملتی جلتی صورتِ حال کے متعلق اِمام غزالی بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ قوم کی صحیح راہنمائی اور راہبری صرف اور صرف علماء کر سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ علماء کے سر پر جب شیطان سوار ہو جائے تو اُن سے زیادہ بے فائدہ اور بے فیض اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔بغداد میں ہونے والے یہ مباحثے اِس قدر سطحی ہوتے تھے ذرا اندازہ کیجیئے کہ علماء آپس میں اِس بات پر دست و گریباں رہتے کہ اگر صحرائی سفر کے دوران پانی میسّر نہ ہو اور کسی کو تربوز مل جائے تو کیا تربوز کے پانی سے وضو کیا جا سکتا ہے؟ اور ملاحظہ ہو کہ یہ بات بہت علمی نوعیت کی تصور کی جاتی تھی کہ بغیر دیکھے بتایا جائے کہ مرغے کی چونچ میں دانت ہوتے ہیں یا نہیں۔ مرغی اور انڈے کی بحث اس کے علاوہ ہے۔ علماء کی ایک بہت بڑی تعداد اس بات پر دو گروہوں میں بَٹ چکی تھی کہ ولالضالین (walazzualeen) ہوتا ہے یا (waladdualeen) ہوتا ہے۔ایک دن ہلاکو خان اس بحث میں آ کے بیٹھ گیا اور کہا کہ مجھے بھی بتاؤ تم کس بات پر جھگڑ رہے ہو۔ اُسے ساری بات بتائی گئی اور فیصلہ کرنے کو کہا گیا۔ اس نے جلّاد بلوائے اور وہیں سب کے سر قلم کر دئیے۔یہ تھے وہ حالات جن میں ہلاکو خان نے بغداد کو درہم برہم کیا تھا۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ پاکستان میں کوئی ہلاکو آ چکا ہے اور وہ قدم قدم پر آپ کو شرمندہ کر رہا ہے؟
قابلِ فکر امر یہ ہے کہ کیا ہم بغدادیوں کی مانند کسی ہلاکو خان کی تلوار کی زد میں آ کے کچلے جائیں گے، کیا یہ ملک جو لاالہ اللہ کی بنیاد پر بنا تھا، کیا ہم اپنی عیش و عشرت کی نذر کردیں گے؟
جب تک امراء عیش پرستی چھوڑ کر غرباء کو ان کا حق نہیں دیں گے، جب تک اس قوم کے جوان متحد ہو کر تندہی کے ساتھ اس ملک کی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں نہ جٹ جائیں، جب تک تمام علماء اپنی دُکان چمکانے کی بجائے قوم کو متحد نہیں کرتے اور صحیح راہنمائی نہیں کرتے، جب تک اس ملک کے حکمران اپنی جیبوں پہ نظر رکھے ہوئے ہیں تب تک ارضِ پاک کو ترقی یافتہ ممالک کی صفِ اوّل میں دیکھنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کی راہوں پہ گامزن ہو تو ہم سب کو ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر بھرپور لگن اور قوی ارادے سے ارضِ پاک کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کیلئے شب و روز کام کرنا ہو گا۔ اللہ پاک سب کو سوچنے اور سمجھنے کی توقیق عطا فرمائے۔ آمین

یہ بھی پڑھیں  بلدیاتی نظام کا متفقہ حل تلاش کرلیا جائے گا، صدر زرداری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker