آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

عوام اورحکمران میں فاصلہ۔۔۔ ہماراموجودہ معاشرہ

asif langoveانسان میں لسانی ،ریاستی ، مذہبی اور خاندانی تفریق کی ہرگز اجازت نہیں ہے ۔

ہمارے معاشرے کو دو بنیادی حصوں میں صرف دولت کی وجہ سے تقسیم کیا گیا ہے ۔غریب ایک ایسا طبقہ ہے جو دولت کے لحاظ سے بہت پیچھے ہے مگر تعداد کے حساب سے بانسبت دوسرا طبقہ 1000 گناہ زیادہ اکثریت کے ساتھ ہے ۔دوسر ا امیر طبقہ جو دولت کے حساب سے بہت زیادہ دولت مند ہوتا ہے۔ہمارے موجودہ معاشرے میں غریب کی جرم بہت جلدی نظر آتی ہے ۔ جسے قانوں نافذ کرنے والے ادارے بہت جلد گرفتار کرتے ہیں ۔ تشدد کرتے ہیں ۔اور بہت جلدی عدالت میں پیش کرتے ہیں ۔ عدالت صورتحال کو مد نظر رکھ کر بند کتابوں سے صلاح و مشورہ کرکے غریب کو عبرت ناک سزا سناتی ہے ۔ بعض اوقات غریب بغیر جرم کے بھی امیروں کی کیے کرتوں کی سزا بھگتا ہے۔ سالوں سال جیل خانہ میں قید رہتا ہے ۔ ریمانڈ بھی برداشت کرتا ہے ۔اور عدالت اپنی ہی عدالت سے جرم ثابت نہ ہونے پر اسے باعزت بری کرتا ہے ۔ درحقیقت سالوں سال قیداور پیشی جیسے سزا برداشت کر کے بھلا کوئی با عزت ہو سکتا ہے، جی نہیں بے عزت بری کرتا ہے۔غریب کو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا ہے کہ اس سے جرم کب کہاں ہو ا ہے اور جرم ہوا کیا ہے؟ جبکہ امیر جرم کرتا ہے اور گرفت میں بھی نہیں آتا ہے ۔ پولیس کچہری اس کے دوست و احباب ہی ہوتے ہیں اور اپنی دولت کی بنا پر اپنی جرم مٹاتی ہے اور گواہوں کو خریدتا ہے ۔ اور اس کے تمام راستے ہموار ہوتے ہیں

ہمارے معاشرے میں لڑائی و جھگڑے صرف ایک” خواہشات "کی ہی وجہ کی بنا پر ہوتی ہے ۔ کسی کو دولت اکھٹا کرنے کی، کسی عیاشی کی، کسی کو نام کمانے کی، کسی عزت کمانے کی، کسی کوالگ پہچان بنانے کی، کسی کو عالیشان سفر و بسر کی، کسی کو اپنی اولاد کے لیے دولت کی، کسی کواپنی نفس کی ہربار خواہش کو پوری کرنے کی، کسی کو گاڑی، بنگلے، نوکر چاکر اور خادم رکھنے کی خواہشات ہوتی ہیں۔ ہر انسان کی الگ الگ سوچ ہے ۔ معاشرے میں اپنی اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی الگ الگ طریقے اختیار کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں خواہشات کو پورا کرنے کے لیے دولت کا ہونا انتہائی زیادہ ضروری ہوتا ہے ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ دولت کے بغیرہمارے معاشرے میں کوئی بھی چیز نہیں ملتا ہے ۔ خواہشات کوپوراکرنے کے لیے دولت مند ہونا ضروری ہوتا ہے توکچھ لوگ حد سے بھی زیا دہ پیسہ کماتے ہیں ۔ پیسہ کمانے کے لیے گمراہ ہو جاتے ہیں ۔کوئی سیاست میں آکر عوام کے ساتھ دھوکہ کرتا ہے غلط پالیسیاں مرتب کر کے عوامی تجوری سے مشترکہ طور پر دولت لوٹنے کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ کوئی صحافت کی دنیا میں غلط اور جھوٹی تعریفیں کر کے پیسا کماتا ہے ۔ کوئی غیر سرکاری این جی او یا فلاحی ادارے قائم کر بھی ادھر اُدھر کرپشن تو ضرور کرتا ہے۔کوئی بیوروکریٹس کی شکل میں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتا ہے ۔ کرپشن کرتا ہے ۔ تو کوئی جاگیر دار ، وڈیرہ،سردار ، نواب بن کراپنی رعایا کوپیار محبت کے ساتھ لوٹتے ہیں۔کوئی چوری ،ڈاکہ ،لوٹ مار کرکے پیسہ کمانے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ تو کوئی تاجر بن کر عوام سے دگنی قیمت میں اشیا ء فروخت کرتا ہے ۔ تو کوئی ڈاکٹر بن کر جعلی ادویات اور مہنگے فیس کے ساتھ مریضوں کو لوٹتے ہیں۔توانجینئر بن ، ٹرانسپورٹر بن کر بھی مختلف طریقے سے لوٹتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں حد سے زیادہ دولت اکھٹا کرتے ہیں اور بینکوں میں جمع کرتے ہیں مگر اپنے ارد گرد معاشرے میں بھوکے رات گزانے والوں کی مدد تک نہیں کرتے ہیں۔اتنا پیسہ کس کام ہے ۔ ؟ کیوں اپنی پچھلے آنے والی نسل کے لیے سوچتے ہیں؟ کیا ہم اُن پرندوں ، جانوروں سے سبق نہیں سیکھتے ہیں جوآج کے لیے سوچتے ہیں ۔اپنی ضرورت پوری کرکے تمام دانے دوسروں کے حوالے کرتے ہیں ۔اور خالی چونچ گھر لوٹ جاتے ہیں۔ دوسرے دن اللہ پر توکل کر کے نکلتے ہیں۔
اس حوالے سے شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ”
توکل سیکھنا ہے تو پرندوں سے سیکھوکہ وہ جب شام کو گھر جاتے ہیں تو ان کے چونچ میں کل کے لیے کوئی دانا نہیں ہوتا ہے”
کیا ہمارے موجودہ معاشرے میں پرندے سے بھی کم ایمان ہے ؟ جو خالی چونچ لیکر گھر لوٹ جاتا ہے نہ چونج میں کل کے لیے دانا نہیں لے جاتا ، کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے آج کی طرح اللہ کل کو بھی اس کو اس طرح رزق دیگا۔ہم انسان اتنے بے فکر کیوں ہیں ؟کسی کے گھر میں سال بھر کے لیے اناج ہوتا ہے تو کوئی ایک وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوتا ہے۔جو رات بھر بھوکا سوتے ہیں۔ کسی کے گھر میں صندوق بھر زیورات ہوتے ہیں تو کوئی اپنی بیٹی کو گھر سے رخصت کرتے وقت چھوڑی دینے کے لیے بھی پریشان ہوتاہے۔کسی کے گھر ، بینک میں لاکھو ں روپیہ ہوتے ہیں تو کوئی ایک ایک روپیہ کے لیے لوگوں کے سامنے بھیک مانگ رہے ہوتے ہے۔کوئی اپنی جسم بیچتا ہے تو کوئی اپنی ضمیر ۔کوئی لاکھوں کا سوٹ خریدتا ہے تو کوئی اپنی مردے کو کفن دینے کے لیے بھی پریشان ہوتا ہے۔کسی کے بچوں کے لیے اربوں روپیہ بینکوں میں محفو ظ رکھے ہیں ،تو کسی کے بچے ایک روپیہ کے لیے ترس رہے ہیں۔ایک طرف نصف پاکستان غربت میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ جن کے پاس دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور نہ ہی علاج و معالجہ کے لیے کوئی چند روپیہ اضافی ہوں۔
فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کی اسلامی دنیا میں ایک عظیم حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں ۔چار ملکوں پر بادشاہ رہنے والے کا جب انتقال ہوا تو گھر میں کفن کے لیے پیسے موجود نہیں تھے۔اور ایک امام بزرگ نے کچھ پیسے ڈال کر کفن کا بندوبست کیا ۔اسے کہتے ہیں ۔ خدا پر توکل ۔اسے کہتے ہیں ایک مسلمان ۔اسے کہتے ہیں عزت مرتبہ ۔ایسے لوگو ں کو دنیا یاد کرتی ہے ۔ہمارے معاشرے میں لوگ ایسی خواہشات کو تر جیح کیوں دیتے ہیں جو ایک پل بعد ساتھ چھوڑ دیتی ہے ۔
ہم کم از کم سلطان صلاح الدین ایوبی سے تو سبق سیکھیں۔ہم تمام مسلمانوں کو پرندوں اور جانوروں سے سبق سیکھنا ضروری ہے کہ رزق کا زمہ اللہ نے لیا ہے تو اُس پر توکل رکھیں کہ وہ ہمیں ضرور رزق دیگا۔ کیونکہ اربوں لوگ پیدا ہو کر مر چکے ہیں لیکن کوئی بھوک سے نہیں مرا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ رزق دینے والا ہے رازق ہے۔ ہمیں کل کی نہیں آج کی فکر کرنا چاہئے تاکہ ہمارے معاشرے میں مساوات پیدا ہو جائے نہ کہ کسی کے گودام میں گندم خراب ہو جائے اور کوئی افلاس سے ہلاک ہو جائے ۔ہمارے موجودہ معاشرے میں دولت مند کا جینا تو بہت آسان ہے مگر غریب کا جینا اور مرنا انتہائی مشکلات کے ساتھ گزر رہی ہے۔ غریب کو ہی غریب بنانے کی پالیسوں پر عمل ہو رہا ہے ۔غریب کو زکواۃ دیکر اسکی امداد کرنے کاحکم ہے لیکن برعکس ہی ہو رہا ہے۔طاقتور اپنی تمام خواہشات کو پورا کرنے کی کوشیش کرتا ہے جس میں غریب کومتاثر ہونا پڑتا ہے۔ اور غریب کی خواہشات دفن ہو جاتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں ایسانظام نافذ ہو چکا ہے کہ غریب کا جینا دشوار ہے ۔ہمارے معاشرے میں مساوات کی فقدان ہے جس وجہ تمام حالات بگڑ چکے ہیں۔ معاشرہ کے لیے منٹو نظریات کو مد نظر رکھ کر حتمی فیصلہ کی اشد ضرورت ہے کہ اگر غریب کے ساتھ ناروا سلوک کو جاری رکھا جائیگا تو غریب کو پیدا ہونے ہی نہیں دیں۔موجودہ معاشرہ کومساوات کی پالیسی کے تحت ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے و دیگر صورت ہابیل و قابیل پیدا ہوکر انسانیت کا قتل کرتے جائیں گے اور معاشرے میں بھائی بہن کی عزت ختم ہو جائیگا۔خدارا موجودہ معاشرے کو غریب اور امیر کی دلدل سے بچا جائے اور انصاف و مساوات کی حکمرانی نافذ کی جائے تاکہ غریب پر امیر کو فضیلت حاصل نہیں ہو۔ہمارامعاشرہ بد اخلاقی اور فحاشی کی شکار ہو چکا ہے ۔معاشرہ سدھارنے والے اساتذہ اکرام و علماء کرام سُستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ کیونکہ اس طبقے کو ظاہری کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے نہ اس کو معاشرہ میں کوئی احترام کی نگاہ سیے دیکھتے ہیں ۔ایسی سوچ رکھنے والوں کو دنیا والے پاگل کہتے ہیں
عیاشی و فحاشی کی دوڑ نے ہمارے موجودہ معاشرے سے ماں، باپ ،بہن، بیوی ، بھائی ، بھابی ،دادا ، دادی ،چچا و چچی جیسے مقدس رشتہ کی اہمیت ختم کر دیا ہے ۔ رشتے برائے پہچان رہ گئے ہیں۔عورت کی عزت ایک عدد روٹی سے بھی کم ہے ۔ انسانی زندگی کو کھلونے کے سہارے برباد کرنے میں تلے ہوئے ہیں۔ ہر اک کو اپنی نفس کی خواہشات کی پڑی ہے۔ہمارے معاشرے میں موزن ،امام،اور معتدی بہت کم رہ گئے ہیں۔ دیکھنے و سننے میں بھی بہت آتا ہے کہ موزن، امام،و معتدی میں سے ہی کافی حضرات شراب و جووا خانوں میں،عیاشی و فحاشی کے مراکز میں بہت بار نظر آتے ہیں۔معصوم طلبہ کے ساتھ زنا بھی کرتے ہیں۔اپنے اپنے فرقہ بھی بناتے ہیں۔اسلام کو استعمال کر کے سیاست و حکمرانی بھی کرتے ہیں۔عام انسان کی گمراہی کی وجہ تعلیم کی فقدان تو سمجھ آتی ہے مگر جب علماء و اساتذہ اکرام ایسے افعا ل کرتے ہیں تو ہم لرز اٹھتے ہیں۔
خالی کفن و اعمال کے ساتھ فانی دنیا کو چھوڑنے پر یقین رکھنے والے ہی خواتین و حضرات ہی بُرے اعمال تو کرتے ہیں پر یتیموں و مفلسوں کی جائیداد پر قبضہ کرتے ہیں ، لوٹ مار کرتے ہیں، جان و مال کو دشمن بھی جلدی بن جاتے ہیں،انکی خون چوستے ہیں ۔ سیاستدان و حکمران عوام کو تحفظ و سہولیات کا دعویٰ جلدی کرتے ہیں ۔ دیکھتے نہیں کہ ایک ہی دن میں سینکڑوں افراد قتل کیے جاتے ہیں ۔ قتل کو پتہ اورنہ ہی مقتول کو پتہ ہے کہ کس کو ؟ کیوں ؟ کس وجہ سے ؟ کہا ں قتل کر رہا ہے۔
معاشرے کو مساوات کی پالیسی سے در ست کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں پر تمام رہنے والوں کی حقوق برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوں اور حکمران و عوام میں کوئی فاصلہ نہ ہو۔ حکمران عوام کے دروزے پر اسے تمام سہولیات فراہم کرے جو عوام کی بنیادی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button