تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

ہما را انگریزی نصاب

hakeem karamatحصول تعلیم ہر معاشرے کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے ۔میری نظروں کے سامنے ملتان کے ایک پروفیسر منصور ائے ناصر صاحب کی کتاب ہے ۔انہوں نے کتاب کے شروع میں ،میری بات ،کے نام سے لکھا ہے جو واقع ایک عظیم سبق ہے ۔اور ان کے الفاظ سے ان کے اندر کا اضطراب دکھائی دیتا ہے ۔انگریزی سیکھنے کا ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم کسی انگریزی جاننے والے انگریز سے کی بات کو سمجھ بھی سکیں اور اسے اپنی بات سمجھا بھی سکیں ۔میڈیا نے جس تیزی کے ساتھ انگریزی کو ہماری زندگی کے کونے کونے میں شامل کر دیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ،اب ہر شخص کو خواہ وہ کم پڑھا لکھا ہے یا زیادہ اسے انگریزی کو بولنا اور سمجھنا ہو گا ۔اب منصور ائے ناصر صاحب کے وہ الفاظ نقل کر رہا ہوں جو انہوں نے لکھے ،،، اورمیرے دل کو بہت ہی اچھے لگے ،،ایک درد دل انسان کے الفاظ ،،
،،آپ سب کو مبارک ہو کہ آخر تیس سال بعد His First Flight سے جان چھوٹ گئی اب دیکھیں کتنا عر صہ Button, Butto کر تے رہیں گے۔ ہما ر ے وہ ما ہر ین تعلیم جو نصا ب تر تیب دیتے اور نئی کتب لکھتے ہے اور لکھوا تے ہیں بہت معصو م لو گ ہیں۔ وہ تبد یلی کی جر ات نہ کر سکے۔ پر انی Short Stoies کی جگہ نئی کہا نیا ں آگیءں ، پر انے تین Plays کی جگہ نئے تین Plays نے لی اور پرا نی نظموں کی جگہ نئی نظمیں آ گیءں۔ گو یا نصا ب اسا تذہ کے لیے بد لا گیا ہے طلبا کے لئے نہیں۔ کیو نکہ ہو سا ل فر سٹ ایئر میں داخلہ لینے والے طلبا کے لیے تو His First Flight تو نئی تھی اور اب Button Button بھی نئی ہو گی۔ فر ق تو صر ف پڑ ھا نے وا لوں کو پڑا کہ جس نصا ب سے وہ اچھی طر ح وا قف ہو چکے تھے اور جن کو پڑھا نے کا ان کو خا صہ تجربہ اور مہا ر ت حا صل ہو گئی تھی اب وہ پھر سے نئی چیزیں تیار کر یں گے اور دو چار سال میں انہیں سمجھنے اور سمجھانے کا طریقہ سیکھ لیں گے۔
لیکن کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ نصاب میں صرف کتابوں کی تبدیلی کی بجائے ایسی بنیادی تبدیلیاں کی جاتیں کہ استاد اور شاگرد دونوں انگریزی کو ایک زبان کی طرح سیکھتے اور سیکھاتے تاکہ دونوں کو روز مرہ زندگی میں اپنا ما فی الضمیربیان کرنے کی سہولت ہو جاتی ہم اپنے بچوں کو کیوں اس کے لیے تیار نہیں کر رہے کیوں پچاس سال پہلے کی طرح انہیں زبان کی بجائے لٹریچر پڑھانے پر تلے ہوئے ہیں ۔
زیا دہ افسو س کی با ت یہ ہے کہ ہم یہ غلط کام بھی صحیح طر یقہ سے نہیں کر رہے ۔ لٹر یچر پڑ ھا نا چا ہتے ہیں بڑے بڑے نا مو ں وا لے شا عر وں اور ا دیبو ں کی نگا ر شا ت سے قو م کو روشنا س کرا نا چا ہتے ہیں لیکن اس طر ح کہ اگر ادیب یا شا عر آ سما ن کی با تیں کر رہا ہے تو ہم اسے زمین کی با تیں سمجھ اور سمجھا رہے ہیں۔ مو جو دہ نصا ب سے اس کی بہت سی مثا لیں دی جا سکتی ہیں جہا ں تبصرہ نگا ر صا حبا ن نے شا عر یا نثر نگا رکی با ت کو اس کے اصل معا نی سے ہٹ کر بیان کیا ہے۔ میں اس پر مکمل تبصر ہ اسا تذہ کے لئے اپنے تیا ر کر دہ کتا بچہ Teacher’s Manual میں کیا ہے۔ لیکن اس وقت ایک مثا ل دینا ضر روی سمجھتا ہو ں ۔ احمد ند یم قا سمی ہما رے ملک کے ایک عظیم شا عر ہیں۔ ان کی شا عر ی کا مطا لعہ کر تے ہو ئے ہمیں اس با کا خیا ل رکھنا چا ہئے کہ وہ جو با ت کہہ رہے ہیں اسکے پو شیدہ معا نی کیا ہے۔ ہمیں عظیم شا عر وں اور نثر نگا روں کی با توں کے صرف ظا ہر ی معنوں کو نہیں دیکھنا چا ہئے کیو نکہ وہ عمو ماََ سید ھے سا دے الفا ظ میں بڑی با ت کہتے ہیں۔ قا سمی صا حب کی نظم :چو گا: کو The Feed کے نا م سے نصا ب میں شا مل کیا گیا ہے۔ اس خو بصورت نظم کو پہلے تو اس کے صحیح مفہو م کے سا تھ انگریزی میں منتقل نہیں کیا گیا ۔ دوسرا تبصرہ نگار نے اس کے صر ف سطحی معنوں کو ذہن میں رکھ کر اس کے theme بیا ن کر دی ہے جو اصل نظم سے با لکل مختلف ہے۔ یہ با ت صر ف طلبا کے ساتھ ہی نہیں بلکہ خو د احمد ند یم قا سمی صا حب کے سا تھ ز یا دتی ہے ۔ اگر اصل نظم کو بغور پڑھا جا ئے تو یہ بات وا ضح ہو جا تی ہے کہ قا سمی صا حب اس نظم میں صر ف چڑیا ما ں کی اپنے بچوں کے سا تھ محبت کو ہی ظا ہر نہیں کر رہے اور نہ اس کی اس پر یشا نی کو کہ با جرے کے ایک دانے کو کس طر ح تو ڑ کر دس بچوں میں تقسیم کر ے، بلکہ اس منظر کو سا منے رکھ کر قا سمی صا حب عا لمی ضمیر کو جھنجھو ڑ رہے ہیں۔ وہ ہیر و شیما اور نا گا سا کی کی تباہی کو ذہن میں رکھ کر یہ کہنا چا ہتے ہیں کے تم نے با جر ے کے دانے سے بھی چھو ٹی چیز ایٹم کو تو ڑ کر ایٹم بم بنا لیا جس نے لا کھوں لو گوں کو ہلا ک کر دیا ۔ کیا اس سے بہتر یہ نہیں کہ تم اپنے خوراک کے ذرائع کو تقسیم کر کے بڑھا ؤ تا کہ دنیا سے بھو ک کا خا تمہ ہو جا ئے۔ لیکن ہما رے تبصرہ نگا رنے نظم کے صر ف ظا ہر ی معنوں کو لیا۔ افسو س کی با ت یہ ہے کہ کتا ب پر جو خلا صے یا امدادی کتب لکھی گئی ہیں ان میں بھی لکھنے والوں نے محض اپنی کتا ب کو جلدی سے ما ر کیٹ میں لا نے کے لئے اصل کتا ب کے تبصرے کو ہی نقل کر دیا ہے۔ اپنا ذہن استعمال نہیں کیا۔
یہ وہ الفاظ تھے جو پروفیسر منصور ائے ناصر صاحب نے بیان کیے ، اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم انگریزی کا ایک ایسا نصاب تیار کریں جو ہماری روز مرہ زندگی میں ہماری مدد کرے تاکہ ہم کسی بھی انگریزی جاننے والے سے بات کر سکیں۔جبکہ اس موجودہ نصاب سے ہمیں نہ تو کوئی اخلاقی سماجی اور سبق ہی ملتا ہے بلکہ ہمارا تعلیمی معیار مشکل کیا جا رہا ہےnote

یہ بھی پڑھیں  مولانا فضل الرحمان کا مذاکرات نہ کرنا ملک کیخلاف سازش ہوگی: پرویز خٹک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker