بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

بشیر احمد میر

bashir ahmad mirقائد اعظم ؒ کی 136یوم پیدائش کے موقعہ پر شہر قائد میں 18بے گناہ شہریوں کا خون کیا گیا جن میں ایک اہم شخصیت اہل سنت والجماعت کے مولانا اورنگ زیب شامل ہیں،دوسری خبر یہ ہے کہ پی آئی اے نے تین ہزار سے زائد ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،تیسری خبر یہ ہے کہ فیصل آباد سمیت ملک کے ایک کروڑ صنعتی محنت کشوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے ،ان کا موقف ہے کہ ملز مالکان انہیں ملازمت سے فارغ کرنا چاہتے ہیں،ایسی ہی خبریں ملک کے کئی شہروں سے موصول ہو ئی ہیں جو شہری حقوق کے حوالے سے قابلِ توجہ ہیں۔جہاں تک معمول کی سماج دشمن وارداتوں کا تعلق ہے ان کا شمار کرنا مشکل ہے ،اگر سارا ڈیٹا جمع کیا جائے تو اس کے لئے باقاعدہ ایک وزارت کی ضرورت ہے۔جو روزانہ کی بنیاد پر ملک بھر میں ہونے والے دہشتگردی سمیت سماج دشمن وارداتوں کی تفصیلات اکھٹی کرئے ۔بہرحال آج جب ہم یوم ولادت بانی پاکستان منا رہے ہیں یہ خبریں ہمارے قول و فعل کا کھلا تضاد ظاہر کرتی ہیں ۔جب ہم ملک کی نظریاتی حیثیت کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں کچھ اور نظر آتا ہے جب ہم اپنے اعمال پر نظر ڈالتے ہیں تو یکسر صورت حال مختلف دکھائی دیتی ہے ۔
ان گھمبیر حالات میں مستقبل کے حوالے سے کافی خدشات سر اٹھاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ایک طرف سیاسی حالات نے بھی عجیب صورت حال پید کر رکھی ہے۔انتخابات جوں جوں قریب آتے جا رہے ہیں ،سیاسی لہروں میں اسی تناسب سے طوفانی کیفیت عیاں ہو رہی ہے ۔خاص کر ہمارے ملک کے مذہبی رہنما ڈاکٹر طاہر القادری نے ’’سیاست نہیں ریاست‘‘ کے فارمولے پر نئی سیاسی کروٹ لے لی ہے ۔ان کا لاہور میں 22دسمبر کو ہونے والا جلسہ ان کے حامیوں کی نظر میں 2ملین یعنی بیس لاکھ شرکاء تک پھیلا ہوا تھا جبکہ دیگر ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ مینار پاکستان کے احاطے میں اتنی گنجائش نہیں ہے ،البتہ مینار پاکستان میں ہونے والے ماضی کے جلسوں کے تناسب سے بڑا جلسہ تھا۔اس جلسے میں ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ ’’اگر انتخابی اصلاحات نہ کیں گئیں تو 14جنوری کو اسلام آباد میں 4ملین، مطلب یہ ہوا 40لاکھ کا اجتماع ہوگا اور وہاں (خود ساختہ) پارلیمنٹ کا اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا‘‘۔ڈاکٹر صاحب متاثر کن مذہبی شخصیت ہیں، بلا مبالغہ ان کے حامیوں کی تعداد بھی کافی حد تک موجود ہے ۔ویسے بھی ہلا گلاکرنے کے لئے لاکھوں افراد کی ضرورت نہیں ہوتی ،مگر اسلام آباد ڈیرا ڈالنے کا جس ناعاقبت اندیش نے انہیں مشورہ دیا ہے اس سے ممکن ہے کہ ان کی سیاست کا تابوت ننگا کرنا مطلوب ہو۔ایسا ماضی میں جماعت اسلامی نے ملین مارچ اور دھرنوں کے نام پر جو گل کھلائے ہیں اس سے پوری قوم آگاہ ہے ۔کیونکہ ہر دھرنے کے بعد مارشل لاء کی چھتری سے قوم کو جو سایہ دیا گیا اس کے بد اثرات ہی ہیں کہ آج پوری قوم دہشتگردی،مہنگائی ،بے روزگاری سمیت طرح طرح کے مسائل سے نبرآزما ہے۔اب چالیس لاکھ انسانوں کو اسلام آباد لانے کا دعویٰ ،اعلان اور عزم کیا رنگ لاتا ہے اس سے بھی عوام ناعلم نہیں ،یہ پورے ملک کو انارکی کی ذد میں لانے کی سازش کہلا سکتی ہے اس سے پہلے ڈاکٹر صاحب کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسے عمل سے کس قدر سود مند اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔بہرحال ڈاکٹر صاحب دانشمند انسان ہیں انہیں بتانے ،سمجھانے اور پڑھانے کی ضرورت نہیں ۔14جنوری دور نہیں سب کچھ سامنے آجائے گا ! ان کی آمد ،استقبال،خطاب اور سیاسی سرگرمیوں پر تحریک انصاف،ایم کیو ایم نے ان کا ساتھ دینے کی حامی بھری ہے ،یہ ڈاکٹر صاحب کی بڑی کامیابی ہے کہ انہیں پہلے روز دو اہم قومی سیاسی جماعتوں نے ہمرکاب کر دیا ہے۔مخالفت اور حمایت کو الگ رکھتے ہوئے غور طلب بات یہ ہے کہ ’’ کیا ڈاکٹر طاہر القادری کا تحریکی عمل کسی انقلاب یا تبدیلی لائے جانے میں مدد گار ثابت ہو سکے گا‘‘۔۔۔؟؟؟ایسا ہونا ابھی ممکن نہیں ،ہاں یہ بات ہو سکتی ہے کہ ہلے گلے کے نتیجے میں تیسری قوت 1977ء کی طرح براجمان ہو کر جمہوریت کا جنازہ نکال دے۔لیکن حالات اس طرف بھی جاتے ہوئے نہیں دکھائی دے رہے ہیں ،انتہائی باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ امریکہ رائٹ اور لفٹ سمتوں کو واضح کرنے کے لئے فلمبندی کر رہا ہے تاکہ شدت پسندوں اور امن پسندوں کا تعین کیا جا سکے۔اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ انتخابات بر وقت ہونگے ،جس کے لئے الیکشن کمیشن پوری طرح مصروف کار ہے۔ایک بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آئین کی دفعہ 254کا جو حوالہ دیا ہے اس روشنی میں انتخابات کو التواء کا شکار کرنا مناسب نہیں ہوگا جہاں تک دفعہ62/63کا تعلق ہے تو یہ آئین کا حصہ ہیں یقیناًان دفعات کے تحت ہی الیکشن کا عمل شفاف اور غیر جانبدارانہ ہو سکتا ہے ۔قریباً سبھی جماعتیں اسی آئینی حدود و قیود پر متفق ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے انگریزی میں جس جوش سے 254دفعہ کا ذکر فرمایا ہے اس کا اطلاق انتہائی ناگزیر حالات میں ممکن ہوتا ہے جب اس عمل کے سوائے کوئی چارہ نہ ہو۔اس وقت ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی ہے ۔جہاں تک کسی تبدیلی کا تعلق ہے اس کے لئے عوام کو شعوری طور پر بیدار کرنا پڑے گا ،کسی بھی تبدیلی کے لئے کم از کم تبدیلی کے دعوے داروں کو دو ہزار سے زائد ایسے افراد تیار کرنا ہونگے جو قومی ،صوبائی اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں اور کم از کم پانچ ہزار ایسے افراد کی ضرورت ہے جنہیں ملک کے نظام کو چلانے کی صلاحیت ہو،جن میں کم و بیش پانچ سو’’ سی ایس پی ‘‘لیول کے افراد کا ہونا ضروری ہے۔تب جا کر کسی بڑی تبدیلی کی بات سمجھ میں آ سکتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ ایسے نعروں اور جذباتی تقریروں سے ہر گز تبدیلی کا سوچنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے سوا کچھ نہیں۔ہمیں آج یوم ولادت قائد اعظم محمد علی جناح کے موقعہ پر پاکستان کی سلامتی کے لئے فکر مندی ہے ۔دہشتگردی نے ہمارے چمن کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے ،سماج دشمن ہمارے ہر ادارے کو تباہی کا شکار کر رہے ہیں ۔وطن عزیز میں کسی چیز کی کمی نہیں ،صرف احساس ذمہ داری مفقود ہو چکی ہے۔آج اگر ہمارے سیاسی قائدین یہ مل کر فیصلہ کر لیں کہ ملک کو ان بحرانوں سے نکالنے کے لئے وہ یکسو ہو چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم آئندہ یوم ولادت قائد اعظم بہتر حالات میں منانے کی اہلیت پا لیں گے اور ریاست بچاؤ کا فارمولا بھی کار آمد ثابت ہوسکے گا۔اگر یونہی بے گناہ انسانوں کے لاشے گرتے رہے،روزگار دینے کے بجائے بے روزگار کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو خاکم بدہن ریاست کون بچائے گا ؟لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست دان مل کر ان مشکل حالات سے عوام کو چھٹکارہ دلانے کی کوشش کریں۔ورنہ پھر سوچنے کا وقت بھی ملنا محال نظر آ رہا ہے ،وقت کا احساس کرتے ہوئے سنجیدہ روی کا مظاہرہ ناگزیر ہو چکا ہے۔تاکہ سیاست اور ریاست دونوں اغیار کے پنجوں سے آذاد ہو کر عوام کی خوشحالی کی نوید ثابت ہو۔

یہ بھی پڑھیں  چناب نگر:باراتی بن کرآنے والی5حسیناؤں نے دلہن کوزیورات سےمحروم کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker