بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

ہماری للکار اور امریکی یلغار۔۔۔۔۔؟؟؟

اے بلبلِ ناداں تیری فریاد غضب ہے
کر بات بھی آہستہ کہ صیاد غضب ہے
دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ معظم احمد خان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے غیر قانونی اور ہماری خود مختاری کے خلاف ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہیں ۔حکومت نے پہلی بار امریکہ کی جانب سے مداخلت کاری کے خلاف واضح،دو ٹوک اور پُرزور موقف اختیار کرنے پر عوام میں مثبت تاثر پیدا ہوا ہے۔ڈرون حملوںکے خلاف احتجاج اور مشترکہ آپریشن سے انکار کے بعد امریکہ کی جانب سے ڈرون ایٹک میں غیر معمولی اضافہ انتہائی تشویش کا باعث ہے۔دوسرے لفظوں میں امریکہ مشکوک دوستی سمجھ کر دشمنی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق تازہ ترین ڈرون حملوں میں بے شمار بے گناہ بچے ،بوڑھے شہید اور زخمی ہورہے ہیںبلا شبہ دہشت گردی کے خلاف پوری ملت اسلامیہ ہے اور نہ ہی اسلام کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوںکی جانوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے بلکہ جمہور علمائ کرام نے دہشت گردی کو نا جائز اور ملوث افراد کو خارج اسلام قرار دیا ہے۔
وطن عزیز چاروں اطراف سے گھرا ہوا ہے۔دہشت گرد ی نے ملک کو اس وقت تک ایک ارب ڈالرز سے زیادہ معاشی نقصانات سے دوچار کر رکھا ہے ،دہشت گردوں نے دنیا بھر کی نسبت پاکستان کو ٹارگٹ بنایا ہوا ہے اور سب سے زیادہ ہم ہی متاثر ہو رہے ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ ہماری قیمتی جانوں کی شہادت اور املاک تباہ ہو رہی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں زندگی ابھی تک معمول پر نہ آسکی اور خوفناک حد تک بے روزگاری،غذائی قلت،تعلیمی اداروں کی تباہی کے بعد جہالت کی شرح میں تشویش ناک اضافہ اور بحالی کے مسائل کے ردعمل میں دہشت گرد متاثرین کی اخلاقی حمایت حاصل کرنے میں آسانی محسوس کر رہے ہیں۔امریکہ نے وعدوں کے باوجود امدادی کارروئیوں کی بجائے ڈرون حملوں میں شدت اختیار کر رکھی ہے۔ رواںہفتہ کے دوران افغان شدت پسندوں کا سیکورٹی فورسسز پر حملہ جو حفیظ کوچوان گروپ نے کیا ہے اس امر کی دلیل ہے کہ شدت پسند افغان سرحد سے مداخلت کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ڈرون حملے امن کے بجائے نفرت اور شدت پسندی میں معاون کر دار ہیںکیونکہ اب تک مجموعی طور پر بے گناہ شہریوں جن میں معصوم بچے اور عمر رسیدہ افراد کی شہادت ہو رہی ہے۔جس سے صورت حال بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتی جا رہی ہے۔وطن عزیز کا ہر شہری سوچنے پر مجبور ہے کہ امریکہ کا توسیع پسندانہ رویہ کسی بھی طور ہمارے ملکی مفاد میں نہیںہے۔پاکستان کے خلاف جہاں امریکی پالیسی نقصان دہ ہے وہیں بھارتی ،اسرائیلی اور افغانی خفیہ ایجنسز کا طرز عمل بھی باعث تشویش ہے۔افغانستان سے در اندازی اور بھارت کا معاندانہ رویہ دہشت گردی کی جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
دہشت گردی سے جنم لینے والے مسائل نے ہماری خود مختیاری کو شدید متاثر کیا ہوا ہے۔ان حالات میں حکومت پاکستان نے جس جرات مندی سے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس کے بعد ہماری قومی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔یہ وقت ملت اسلامیہ کے احیائ کے لئے جد جہد کرنے کا ہے نہ کہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے،جگت بازی کرنے،خوشنما نعروں اور ذہینی عیاشی پر مبنی انقلابی ماحول پیدا کرنے کا ہے۔۔علامہ اقبال(رح) نے ان حالات میں کہا
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مومن
قدم اٹھا یہ مقام انتہائے راہ نہیں
اس وقت عوام بے پناہ مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔بے روزگاری ،مہنگائی ، جہالت،فکری پسماندگی،توانائی کا بحران،منافع بخش اداروں کا خسارے میں جانا،فرائض سے غفلت،رشوت و سفارش،انصاف گراںاور سماجی ناہمواری سے عوام دلدل میں پھنستی جا رہی ہے۔عوام کی ان دگرگوں صورت حال سے اربابِ اختیار نظریں چرا کر نہ جانے کس خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔اگر حالات پر باریک بینی سے مشاہدہ نہ کیا گیا تو ہوس ِ اقتدار کے پجاری عوام کو کسی المناک سانحہ کا شکار کر سکتے ہیں۔اب انتخابی ماحول بن رہا ہے ،سیاسی قوتوں کو چاہئے کہ وہ جمہوری طرز عمل اختیار کریں۔ماضی کی کسی غلطی سے اجتناب کرتے ہوئے عوام کے بہتر مستقبل کی صف بندی کرنے کے لئے شعوری مہم چلائیں ، یہ امر خوش آئند ہے کہ الیکشن کمیشن فعال اور شفاف انتخابات کی تیاری کے لئے موثر اقدامات کر رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مشکل حالات سے نکلنے کے لئے تمام سیاسی قوتیں جمہوری فکر کو پیش نظر رکھتے ہوئے قومی سلامتی کے تقاضوںکو مدِ نظر رکھیں اور امریکہ سمیت پاکستان مخالف قوتوں کے عزائم کا متحد ہو کر مقابلے کی منصوبہ سازی کریں۔یہ امر باعث ِ اطمینان ہے کہ اقوام متحدہ نے ڈرون حملوں بارے انسانی حقوق کے منافی امریکی حکام سے ویڈیو فلمز طلب کی ہیں ،حکومت سمیت جملہ سیاسی رہنمائوں کو امریکہ کی ہٹ دھرمی اور بے انتہائ مظالم کے خلاف یک زبان ہو کر قومی یکجئتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ،وطن عزیز کو کمزور کرنے کے لئے امریکہ،اسرائیل اور بھارت پیش پیش ہیں ان کی مکروہ سازشوں کے نتیجہ سے ماضی میں ملک دو لخت ہوااور مسلسل آمرانہ ادوار میں بہت سی ایسی غلطیاں کی گئیں جن کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔آج ہم جن بحرانوں میں مبتلا ہیںان کا جنم بد قسمتی سے داخلی و خارجی غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔اس بات کا خدشہ ہے کہ انتخابات کے اس ماحول میں کہیں 1958ئ ،1971ئ ،1977ئ اور 1999ئ جیسے تجربات کو دہرانے کی سازش نہ کی جائے۔دراصل اداروں کو یرغمال بنانے کے لئے آمرانہ فکر کے حامل عناصر نے ہمیشہ ’’ملٹری ڈیموکریسی‘‘ کا ناجائز سہارا لیا ،سیاسی اصطلاح کو بدلنے میں ماضی کی عدلیہ نے ’’نظریہ ضرورت‘‘ جیسے فیصلوں سے آئین و قانون کو پامال کرنے سے گریز نہ کیا ۔ان سازشوں کے تانے بانے پینٹاگون سے ملتے ہیں جن کا ہمیں جرات مندی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہو گا۔امریکہ کو ان حالات میں نظر انداز کرنے کے مضر اثرات بے شک واضح ہیںکیونکہ ماضی کے حکمرانوں نے امریکہ کا جس طرح استقبال کیا اور امریکی نفوز بڑھتا ہوا اب ہماری شہ رگ کو چھو رہا ہے ایسے پُر خطر حالات میں ہوش مندی اور قومی اتحاد کا تقاضہ ہے کہ عوامی مسائل کے حل اور عوام کی خوشحالی کے لئے تمام قوتیں اپنے وسائل کو وقف کریں ،معاشی ناہمواری کے خاتمے کے لئے پوری یکسوئی سے منصوبہ عمل سامنے لایا جائے تاکہ قوم مایوسی کے بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں  الزام خاں کی نئی دُر فشانی

یہ بھی پڑھیے :

5 Comments

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker