ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

دہشتگردی اور ہما ری ذمہ داریا ں

تمہیں دنیا حسیں لگنے لگے گی جو تم                  تلوار اور خنجر سے نکلو
اجا لے ہر طرف ہو نے لگے ہیں            سو تم بھی تیرگی کے ڈر سے نکلو
دہشتگردی نے اس وقت پو ری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے اور ہر کو ئی غم اور خوف و ہراس میں مبتلا دکھا ئی دیتا ہے بالا لخصوص دہشتگردی کا محور و مسکن تر قی پذیر ممالک ہی دکھا ئی دیتے ہیں دنیا میں قوت کے عدم توازن کی بد ولت بھی یہ سارا ماجرا پروان چڑھ رہا ہے ملک پا کستان کے اندر آئے روز بم دھما کے، ٹا رگٹ کلنگ ، قتل و غا رت ، خو د کش حملے ، جلا ؤ گھیراؤ اور دہشتگردی کے بے شما ر واقعات جیسے معمول کا حصہ بن گئے ہیں یو ں محسوس ہو تا ہے کہ اب تو سینکڑو ں نفوس کی مو ت بھی کوئی انہو نی یا عجیب با ت نہیں لگتی ہے ہما ری روزمرہ زندگی میں یہ حا دثا ت اس قدر سراعیت کر چکے ہیں کے ہمیں بے شما ر قیمتی جانو ں کے ضیاع پر بھی کو ئی افسوس اور ندا مت کا احساس نہیں ہو تا ہے اس کے بر عکس مغربی دنیا میں ایک جا نور کی مو ت کو بھی اہمیت دی جا تی ہے اور اس پر بھی ما تم اور پشیمانی کا احساس کیا جا تا ہے کیا ہما ری جانیں اتنی سستی اور حقیر دکھا ئی دیتی ہیں کہ جن کے کھو جا نے پر کوئی کمی واقع نہیں ہو تی اور اس کے سد باب اور احتیا ط پر کوئی تو جہ دینا بھی گوارا نہیں کیا جا تا ہے بے شک ایک مسلمان کی یہ زندگی عارضی اور محض پل دو پل پر محیط ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس زندگی کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے اس کے چلے جا نے سے کسی کو کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔ زندگی نظام قدرت کے اصولو ں کے مطا بق اختتام پذیر ہو تو کوئی غم نہیں لیکن غیر فطری اور منفی انداز میں اس کا کھو جا نا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ اس جان کی قیمت اگر پو چھنی ہے تو اس بچے سے پو چھو کہ جس کے والدین اسے نا با لغ عمر میں تنہا چھو ڑ جا تے ہیں اور در بدر ٹھو کریں کھا نے کے بعد اسکی ساری زندگی غربت ، افلا س اور پر یشانی میں گزرتی ہے یا کسی ان بو ڑھے ما ں با پ سے پو چھو جن کے بڑھا پے اور بیما ری کی حا لت میں انہیں پو چھنے والا کو ئی نہیں ہو تا ہے یا اس بے سہارا شخص کو پو چھو جس کے پیچھے دعا کر نے والا کوئی نہیں ہو تا ہے ۔ زندگی کا چراغ روشن ہے تو ساری کا ئنا ت کا نظام اور تسلسل رواں دواں ہے اس کی روشنی ما ت پڑ جا ئے گی اور اس کو گل کر دیا جا ئے گا تو پھر کا ئنا ت کا نظام کہا ں قائم رہ پا ئے گا کہا ں خو شی اور غمی کا احساس ہو گا کہا ں پر اپنے اور پرا ئے کی پہچان ہو گی اور کہا ں پر اچھا ئی اور بر ائی کی تفریق وضح کی جا ئے گی سب کام کاج سب معاملا ت سب خو شیا ں اور آسائشیں تو زندگی سے تعبیر ہیں تو پھر اس زندگی کی قدر جا نو نا کہ اس کے مٹ جا نے کے بعد ندا مت اور پشیمانی کا سامنا کر نا پڑے جو لو گ انسانی زندگی کو محض ایک ادنیٰ اور عام شے سمجھ کر بربا د کر نے کی کو شش کر تے ہیں اور غیر فطری انداز میں اسے تباہ و برباد کرنے کی سعی کرتے ہیں ان پر ہمہ وقت نظر رکھنی چا ہیے ان کا احتساب ضروری ہے ان پر چیک اینڈ بیلنس وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ہما ری قوم ہر سمت میں خو د کفیل ہو جا ئے تو تر قی اور خو شحالی کی روشن مثال قائم کی جا سکتی ہے لیکن افسوس ہم ہر بات پر دوسروں پر انحصار کرتے ہیں دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں اور دوسروں سے چھیننے کی بھی کوشش کرتے ہیں اس بد امنی ، اور پر خطر فضاء کو با رود سے پاک کر نے اور دہشتگردی اور انتہا پسندی کا ناسور ختم کر نے کے لیے ہمیں چا ہیے کہ ہر شخص چلتا پھرتا سیکیورٹی گارڈ دکھا ئی دینے لگے اپنے اردگرد ما حول کی خبر رکھیں اور گلی ، محلو ں اور گھر و ں میں با ہر سے آئے ہو ئے جو مشکو ک افراد ہو ں ان پر مکمل نظر رکھی جا ئے ان کی نقل و حرکت کو واچ کیا جا ئے اور کسی فیکٹری ، کا رخا نے میں دوسرے شہر سے آئے ہو ئے مزدور ، سیکیورٹی گا رڈ اور ورکرز افراد کی بھی خبر رکھی جا ئے کہ وہ کہا ں آتے ہیں کہا ں جا تے ہیں اور کس سے میل ملا پ کرتے ہیں اور کس کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا ہے ۔ ہما رے ارد گرد ماحول میں ہی دہشتگرد اور شدت پسند آبا د ہیں اوربا لواسطہ یا بلا واسطہ شر اور بد امنی پھیلا نے کا با عث بننے والے عنا صر بھی وسیع تعداد میں پا ئے جا تے اپنی بقا ء اپنے تحفظ اور اپنی سلامتی کی خا طر ہمیں کھلی آنکھو ں اور کھلے ذہنو ں سے ان پر نظر رکھنی چا ہیے کہ وہ کہیں ہما رے گھر اور ہما رے محلے اور شہر کو نقصان پہنچا نے کا با عث نہ بن پا ئیں اگر کسی بیما ری یا تکلیف کا تدارک اور سد باب قبل از وقت کرلیا جا ئے تو اس سے رونما ہو نے والے ممکنہ خد شا ت اور خطرات سے بخوبی بچا جا سکتا ہے ۔ ان تما م معاملا ت کے لیے کسی بہت زیادہ فہم و فراست ، قا بلیت اور مہا رت کی ضرورت نہیں ہے ہر ذمہ دار اور عام شہری اس کام کو بخوبی سر انجام دے سکتا ہے جس کسی میں ایک رتی بھر بھی ذمہ داری کا احساس پا یا جا ئے اور اسے اپنے گھر اور اس کے مکینو ں اپنے شہر اور اس کے رہا ئشیو ں اپنے ملک اور اس کے با سیو ں سے پیا ر ہو اور محب وطنی کے جذبہ سے سرشار ہو تو بآسانی یہ ساری خدما ت سرانجام دے سکتا ہے جس کیلیے کسی رو پے پیسے یا تعلیم کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر ہر شخص احساس ذمہ داری اور فرائض کی بجا آوری سمجھ کر اگر اپنا حق ادا کرے تو کسی کی جرات نہیں ہے کہ کوئی ہما رے شہر اور ہما رے گلی محلو ں میں با رود کا کھیل ،کھیل سکے اور ہما رے امن اور سکون کو بے چینی اور بد امنی میں تبدیل کرسکے اپنے لیے تو سبھی جیتے ہیں مزہ تو تب ہے کہ جب دوسروں کیلیے بھی با عث چین و قرار بنیں دل میں یہ عہد کریں کے دہشتگردوں کی کاروائیوں سے بچنے کیلیے اور اپنے وطن کو بد امنی ، بے سکونی اور وحشت سے پاک کر نے کے لیے اپنی تمام تر کا وشیں اور صلا حیتیں برو ئے کا ر لا ئیں گے اور دہشتگردی اور ان کے مواخذ کو آزادانہ ما حول میں جینے کی اجا زت ہر گز نہ دیں گے ہر اس سوچ اور نظریے کا مقا بلہ کریں جو ہما رے اعصاب اور ہما ری نفسیا ت پر دبا ؤ ڈا لے ہو ئے ہیں اور ہما ری آزادی اور خو دمختا ری کو ہمہ وقت نشانہ بنا نے کے لیے تیا ر ہیں وہ ہما رے اپنے ہو ں یا پر ائے سب کی شناخت اور احتساب ضروری ہے ۔ تا کہ ہما رے گلی ، محلو ں ، ہما رے قصبو ں ، شہروں ، صو بو ں اور ملک میں امن و محبت اور پیا ر کے چراغ جلنے لگیں اور اپنے ان محا فظو ں کا مکمل ساتھ دیں اور خیال رکھیں جو ہما ری زندگیو ں میں خو شیا ں بکھیرنے میں ہر وقت مصروف عمل ہیں اپنے خفیہ اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر مکمل بھروسہ کریں جو ان دہشتگرودں اور انتہا پسندوں کے کھلے دشمن ہیں اور وطن پر ستی کیلیے جیتے مرتے ہیں۔
جو شہر وحشت میں جا بسا ہو وہ کیا سکون و قرار رکھے         کسے ہے یہ حو صلہ کہ بکھرے تو کر چیو ں کا شما ر لکھے
کبھی سنائی نہیں کسی کو بھی داستان دل دریدہ               بہت قرینے سے زخم لکھے بہت سلیقے سے خا ر لکھے

یہ بھی پڑھیں  ایران نے سعودی عرب جانے والی تمام عمرہ پروازیں منسوخ کردیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker