تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

ہمار ے معاشرے میں شادیاں دشوار کیوں ہو رہی ہیں؟

انسان اپنی راہ میں خود ہی بعض اوقات کانٹے بچھا لیتا ہے ۔اپنے لیے خود ہی کئی قسم کی مشکلات پیدا کر لیتا ہے ۔صرف اپنی جھوٹی انا کے لیے ۔ معاشرتی رسوم کو اپنا کر تا کہ وہ معاشرے میں اپنا ناک اونچا رکھ سکے ہالنکہ ناک ہوتا ہی اونچا ہے ۔اور یہ معاشرتی رسمیں نبھاتے نبھاتے انسان کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے کہیں قرضوں میں جکڑا جاتا ہے ۔کبھی کئی قسم کی پریشانیاں اس کا مقدر بن جاتیں ہیں اگر ہم معاشرتی رسومات کو چھوڑ کر اسلام کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں تو ان پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں۔
اللہ تعا لیٰ نے جو ہمیں نظا م حیا ت کتا ب و سنت کی شکل میں دیا ہے اگر اس کے مطا بق ہم اپنی زند گیوں کو ڈ ھا ل لیں تو پور ی امت مسلمہ امن کا کہوارہ بن سکتی ہے اور آ خرت بھی ہما ری سنور جا ئے گی۔ اگر نبی اکر م ﷺکی ایک بھی سنت کو رواج دیں تو معا شر ہ امن کا کہوارہ بن جا ئے ۔ یو ں تو ہما ری قو م میں بہت سی رسو ما ت پا ئی جا تی ہیں اس لحا ظ سے پاکستا نی معا شر ے پر ہندؤ وں کی تہذیب کی پر چھا ئیا ں ہیں ۔ یعنی ہم نے کچھ رسوما ت ہند و معا شر ے سے لی ہیں جو صد یو ں کے میل جو ل کانتیجہ ہیں اور کچھ عا دات مغرب کی نقا لی میں شما ر ہو تی ہیں جن کی و جو ہا ت سے ہم سار ے وا قف ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معا شر ے سے اسلا می ثقا فت کی روح کمزور ہو گئی حتیٰ کہ ہما ری آ بادی کا وہ حصہ جو نما ز ، روزے اور دیگر اسلا می احکا ما ت کا پا بند ہے معا شر تی رسو ما ت میں لا شعو ری طو ر پر غیر اسلا می رسوما ت پر عمل کر تا ہے۔ یو ں تو بہت ہی قبیح رسوما ت ہیں لیکن مجھے ان تما م رسو ما ت میں جو رسم قبیح لگی وہ ہے….. ” جہیز”
جہیز کا ما دہ ” جہیز ”ہے۔ جس کا مطلب ہے ساما ن کی تیا ری یہ چا ہے مسا فر کی ہو ، چا ہیے دلہن کی اسی ما دہ سے تجھیز کا لفظ بنا جو میت کے لیے تکفین کے اضا فے کے سا تھ استعما ل ہو تا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ میت کو قبر میں پہنچا نے کے لیے ساما ن تیا ر کرنا اور اب جہیز کا لفظ خا لصتاََ اس ساما ن کو کہا جا تا ہے جو دلہن کو نیا گھر بنا نے یا بسا نے کے لیے وا لدین کی طر ف سے دیا جا تا ہے جہا ں کہیں بھی حد یث یا فقہ میں نکا ح کے مسا ئل اور ا حکا م بیا ن ہو ئے ہیں ۔ وہا ں پر یہ بیا ن نہیں کیا گیا کہ لڑ کی کو وا لد ین کی طر ف سے گھر بنا نے کے لیے سا ما ن دیا جا ئے ۔ اگر یہ جہیز نکا ح کا حصہ ہو تا تو و ہا ں پر اس کے متعلق یہ ضر ور بیا ن کیا جا تاہے۔ سو رہ نسا ء میں ا ر شا د ہے۔ اے لو گو !جو ایما ن لا ئے ہو ایک دو سر ے کا ما ل با طل طر یقوں سے نہ کھا ؤ۔پھر لڑکی کے وا لد ین سے ان کی مر ضی اور ان کی خو شی کے بغیر ان سے جہیز بنو ا نا یقیناًبا طل طر یقے سے ما ل کھا نے کے زمر ے میں آ تا ہے جو کہ صر یحاَ َ ظلم ہے اور حد یث میں ہے کہ ظلم قیا مت کے اند ھیر وں میں سے ایک اند ھیر ا ہے(بخا ری و مسلم)
لڑکی کے وا لد ین سے جہیز حا صل کرنا ظلم ہے ۔ ایسا ظلم کر نے و الوں کو اللہ سے ڈ ر نا چا ہیے ۔ ہند و جو اپنی بیٹیوں کو شا دی کے مو قع پر جہیز دیتے ہیں اسے وہ ” دان”( خیر ات)کہتے ہیں ، ورا ثت میں ان کا حصہ انہیں نہیں دیتے، ہند و ستان سے جو غیر مسلم اسلام میں دا خل ہو ئے ان میں اکثر و بیشتر کی دینی تر بیت نہ ہو سکی۔ اس کی و جہ سے ان میں دینی تعلیما ت ، عقا ئد و اعما ل کا فقدان رہا ۔ لٰہذ ا انہوں نے جہا لت کی و جہ سے ان میں ہندووں کی مذہبی رسومات سما گی۔مثلاََجہیز دینا یا لینا مہندی کی رسم مایوں۔ہندووں کی تمام رسومات اسی طرح ادا ہو رہی ہیں منگنی سہرہ بندی کی رسم اور منہ دکھائی مکلاوہ دیگر خرافات اسی طرح ادا ہو رہی ہیں جیسے ہندو ادا کرتے ہیں مسلم اور ہندو شادیوں میں اگر فرق رہ گیا ہے تو۔وہ ہے مولوی صاحب سے نکاح پڑھانے کا اور ولیمے کا رہ گیا ہے ۔یہ رسم ہندوں کی ہے اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں اب بھی عرب ممالک ہو یا یو ر پ و غیر ہ ان میں کہیں بھی جہیز کا رو اج نہیں ہے۔ سو رہ نقمان میں ار شا د ہے اللہ تعا لیٰ کسی اترا نے اور فخر کر نے والے آ د می کو پسند نہیں کر تا ،
حد یث شر یف میں ر سول اللہﷺ نے بڑا عبر تنا ک و ا قعہ سنا یا ہے ۔ جسے اما م مسلم نے رو ا یت کیا ہے ۔ رسو ل اللہ ﷺ فر ما تے ہیں ،،ایک آدمی دو چا دریں پہن کر ا کڑکر چل ر ہا تھا اور جی ہی جی میں (اپنے لبا س پر ) اتر ا ر ہا تھا ۔ اللہ تعا لیٰ نے اسے زمین میں د ھنسا دیا ۔ اب وہ قیا مت تک زمین میں دھنستا چلا جا ر ہا ہے۔ پھر لڑ کوں کے وا لدن کا اپنی بہو کے گھر والوں سے جہیز حا صل کر کے فخر اور اترانا نہیں اور کیا ہے؟ اور با قا عدہ لو گ گھر وں میں صر ف جہیز دیکھنے جا تے ہیں ۔ اللہ کے ر سو ل ﷺ نے سید نا علی ر ضی اللہ عنہ کا نکا ح اپنی بیٹی فا طمہ رضی اللہ عنہا کے سا تھ اس طر ح کیا کہ جنا ب علی ر ضی اللہ عنہ کی زرہ جو انہوں نے فا طمہ ر ضی اللہ عنہا کو ،، حق مہر ،، دی تھی ۔ اسے فر و خت کر وا کے اس کی قیمت فر و خت سے فا طمہ رضی اللہ عنہا کو لبا س اور مختصر سا ما ن خر ید کر یا۔ جسے لو گ جہیز کا غلط نا م دیتے ہیں۔ یہ یا د ر ہے کہ آ پ ﷺ کے پا س ما ل و دولت کی کو ئی کمی نہ تھی ۔ ما ل غنیمت کے ڈھیر لگ جا تے، سو نا ، چا ند ی ، جو ا ہرا ت ، و غیر ہ کے مگر گھر میں کئی کئی دنو ں تک چو لہا نہ جلتا اور آ پ ﷺ اپنی چا در چھا ڑ کر لو گو ں کو دکھا کر خا لی ہا تھ گھر جا تے تھے۔ اگر آپ ﷺ چا ہتے تو بیٹی کو خو بصو رت محل نو کر چا کر و غیر ہ جہیز میں دے سکتے تھے۔لیکن جب بیٹی نے ایک غلا م کا مطا لبہ کیا تھا کہ وہ کا م کا ج کر کے تھک جا تی ہیں۔ لٰہذا ایک غلا م مجھے بھی میسر کیا جا ئے۔ حا لا نکہ اس و قت آ پ ﷺ غلا م لو گو ں کے در میا ن تقسیم کر رہے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کو تسبیح ، تہلیل و تکبیر کا حکم دیا ۔ آپ ﷺ نے اپنی دو بیٹیا ں یک بعد دیگر ے عثما ن رضی اللہ عنہ کے نکا ح میں مر حمت فر ما ئیں مگر ایک پا ئی تک اپنی طر ف سے نہیں دی ۔ سید نا علی رضی اللہ عنہ غر یب تھے وہ اس سے زیا دہ اپنی بیو ی کو نہ دے سکتے تھے اور ان کی بیو ی نے بھی اتنا قبو ل کیا ۔ یہ با ہم محبت و ا لفت کی با ت ہو تی ہے ۔ مگر عثما ن ر ضی اللہ عنہ نے بیو یو ں پر اپنی حیثیت کے مطا بق جتنا چا ہا خر ح کیا ۔ سید نا ابو بکر صد یق ر ضی اللہ عنہ نے ر سو ل ﷺ کے غز و ہ کے لیے اپنے گھر کا تما اثا ثہ ر سو ل اللہ ﷺ کی خد مت میں لا کر ڈھیر کیا مگر اپنی بیٹی سید ہ عا ئشہ صد یقہ رضی اللہ عنہا کے سا تھ نکا ح کے مو قع پر جہیز نا می کو ئی چیز نہ دی ۔ نیز صحابہ کر ام رضی اللہ عنھم اور سلف صا لحین کا طر یقہ نکا ح اس طر ح رہا ۔ یہ نمو نے ہما رے لئے اسو ۂ جسنہ ہیں۔ جن پر عمل پیر ا ہو کر ہم دنیا و آخرت میں فلا ح پا سکتے ہیں۔ اس کے علا وہ قر آن و سنت اور فقہی کتب اس کے نا م اور احکا م سے یکسر خا لی ہیں ۔ وا لدین اپنی کو شی سے اگر استطا عت ہے تو بیٹی کو تحفہ دے سکتے ہیں۔ یہا ں ایک با ت ضر ور ذہن میں ر کھیں وہ یہ کہ جہیز اور تحفہ دے سکتے ہیں ۔ یہا ں ایک با ت ضر ور ذہیں رکھیں وہ یہ کہ جہیز اور تحفہ میں بہت فر ق ہے۔
ہندؤ وں کی دیگر ر سو ما ت کی طر ح ہم نے اس ر سم کو بھی گلے کا طو ق بنا ر کھا ہے۔ لیکن مو جو دہ دو ر میں الٹی گنگا بہتی ہے ۔ شو ہر اپنی بیو ی کی کفا لت کر نے کی بجا ئے اپنا اور بیو ی کی ضر و ریا ت کا بو جھ بھی سسرال پر ڈال دیتا ہے شر یعت نے عو ر ت کو ہر حا ل میں ما لی تحفظ فر اہم کیا ہے۔ اگر وہ بیوی ہے تو سا را خر چ شو ہر کے ذ مے ہے کیو نکہ سو ر ۂ نسا ء میں اللہ نے مر دوں کو قوام ، نگہبا ن و محا فظ کے لفظ سے مخا طب ہی اسی لئے کیا ہے کیو نکہ اس نے بیو ی و بچوں سمیت و لد ین کو بھی سنبھالنا اور پیٹ پالنا ہے ۔ اسی با ت کو پیش نظر ر کھتے ہو ئے شا دی سے پہلے دن ہی سے تما م اخر ا جا ت ، گھر بنا نا اور نا ن و نفقہ ہر صو ر ت میں مر د کی ذمہ دار ی ہے۔ خوا ہ عور ت کتنی ہی ما لد ار کیوں نہ ہو ۔ نکا ح کے و قت شر یعت نے مر د پر یہ فر ض عا ئد کیا ہے کہ وہ حسب استطا عت عو ر ت کو ،، مہر ،، دے یہ بھی اس با ت کا و ا ضح ثبو ت اور اس با ت کی و ضا حت ہے کہ اسلام کی نظر میں مر د عو رت پر خر چ کرنے کا پا بند ہے۔ عو رت خر چ کر نے اور اپنا گھر خو د اپنے وا لدین سے بنو انے کا حق نہیں رکھتی۔ قر �آن و حد یث کے علا وہ ایسے جہیز کے دنیا وی مفسدات اس قد ر ہیں کہ ان کا شما ر نا ممکن ہے ۔ فر ما ن نبو ی ﷺ ہے کہ ،، جس نے کسی قو م کی مشا بہت اختیا ر کی وہ انہی میں سے ہے ڈر نا چا ہیے کہ آ خر ت میں ہما ر ا کن کے سا تھ شما ر ہو گا۔
بیٹی کے ہو نے والے سسرال کی طر ف سے بھا ری بھر کم جہیز کامطا لبہ ایک مسلم حق بن چکا ہے۔ بیٹی سسرا ل وا لوں کو یہ احسا س تک نہیں ہو تا کہ بہو ا ور اس کے و ا لدین کی کما ئی میں ان کا شر عاَ َ اور اخلا قاََ سر ے سے ہی کو ئی حصہ نہیں بنتا ۔ سنت نبو ی ﷺ کے مطا بق بیٹی کے نکا ح اور جملہ ضر وریا ت (لبا س، زیو راور دیگر ساما ن )کے اخرا جا ت کا بو جھ بیٹی کے و ا لدین پر قطعاَ َ نہیں ہو تا بلکہ بیٹی کے شو ہر پر ہو تا ہے ۔ قر آن نے مر د کو ،، قوا م ،، کر کے مخا طب کیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر لڑکی کو جہیز نہ ملے تو اور اس کا شوہر اسے طلاق دے دے تو وہ دستِ نگر ہو جاتی ہے اسلام نے شادی تک لڑکی کی کفالت اس کے باپ کے ذمے کی ہے شادی ہونے پر شوہر کفیل ہو گا ۔شو ہر و فا ت پا جا ئے تو ایک طر ف با پ کی ورا ثت میں حصہ دار ہو گی۔ نیز بیوہ ہو نے کی صو رت میں نکا ح ثا نی کس دروازہ کھلا ہے۔ عو ر ت کو کسی صو ر ت میں خا ندان کے کسی فر د کی کفا لت کا ذمہ دار نہیں ٹھہر ایا گیا جبکہ مختلف ورا ثتوں میں اس کا حصہ ر کھا گیا ۔ لٰہذا دو سر ے مذ ا ہب میں عو رت مظلو م ہے ۔ مگر اسلا م میں ہر گز مظلو م نہیں اگر نکا ح سنت نبو یﷺ کے مطا بق ہو تو جس کی دس بیٹیا ں بھی ہوں تو میں و اللہ پو ری امید سے کہتی ہوں اسے کو ئی فکر نہ ہو گا۔ معا شر ے کی اس ہند و انہ ر سم کی و جہ سے نحو ست کی علا مت بن جا تیں ہیں۔ بیٹیا ٰں علیحدہ ذ ہنی ا ذ یت اور ا حسا س کمتر ی کا شکا ر ر ہتی ہیں۔ ایک عا لمی ادا رے کے مطا بق پا کستا ن میں ایک کر وڑ لڑ کیا ں شا دی کے انتظا ر میں بیٹھی ہیں ۔ جن میں سے چا لیس 40 لا کھ لڑ کیوں کی شا دی کی عمر گزر چکی ہے۔ وا لدین بچیوں کے ہا تھ پیلے کر نے کی فکر میں بو ڑھے ہو چکے ہیں۔اگر جہیز دینا سنت ہو تا ہے تو اپنی لڑ کیا ں وا لد ین کے در پر ٹھو کر یں نہ کھا تیں ۔ ہم لڑ کیوں کے وا لدین سے گز ا رش کر تے ہیں کہ معا شر ے میں اس خطر نا ک نا سو ر کوختم کر نے کے لئے ہی پہلا قدم اٹھا سکتے ہیں اور انہیں ہی اٹھانا چا ہیے۔ بعید نہیں کہ اللہ تعا لیٰ کی ر ضا کے لئے جہیز کی رسم کے خلا ف جہا د کر نے و الوں کو اللہ تعا لیٰ اپنے فضل و کر م سے دنیا و آ خر ت میں نو ا ز دے اور بعید نہیں کہ ظلم سے جہیز حا صل کر نے والوں کو کل کلا ں اپنی بیٹیوں کے معا ملے میں بہت زیا دہ پر یشا ن کن اور تکلیف دہ صو ر ت حا ل سے سا منا کر نے کے لیے مقا بلے کی سکت نہ ہو کیو نکہ سو ر ۃ آل عمر ان میں ار شا ر ہے کہ ،، یہ زما نے کے نشیب و فر از ہیں جن کو ہم لو گوں کے در میا ن بد لتے ر ہتے ہیں،،
اکثر ا و قا ت یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پہلے پہل لڑکے والے انکا ر کر دیتے ہیں اور منع بھی ۔ لیکن شا دی کے بعد اگر کو ئی لڑا ئی یا کو ئی اور با ت ہو تو پھر اس کو طعنے اور با تیں سننی پڑ تی ہیں ایسا کرنے وا لوں کو اللہ سے ڈر نا چا ہیے جہیز کی یہ لعنت وا لدین کو یہ احسا س د لا تی ہے کہ اگر بیٹی کو کم جہیز دیا جا ئے تو وہ تما م عمر سسرال کے طعنے بر داشت کرنے پر مجبو ر ہو گی یا پھر وہ تیل کے چو لہے کا شکا ر ہو کر مو ت کی آ غو ش میں چلی جا ئے گی۔ اگر کو ئی غر یب اس ر سم کو ختم کرنے میں پہل کر ے اسے یہ کہا جا تاہیکہ دو لت نہیں ہے اس لئے سنت یا د آ گئی ان طعنوں سے بچنے کیلئے اسے دیناپڑتا ہے۔ صو نہ سر حد اور بلو چستا ن میں عام طو ر پر لڑکے والے لڑکی والوں کو اپنی طر ف سے یعنی حیثیت کے مطا بق منا سب ر قم دے دیتے ہیں جو دلہن پر خر چ کر نے کے لیے ہو تی ہے۔ عو ام میں یہ با ت مشہو ر ہے کہ وہ اپنی بیٹیا ں فر و خت کر تے ہیں۔با ت کچھ بھی ہو بیٹی کی شا دی کا بو جھ اسلام نے بیٹی کے والدین پر نہیں ڈالا۔ ایک اور رسم چل نکلی ہے کہ لڑکے والے کہتے ہیں۔ جہیز تو دینا ہے وہ تو اپنی بیٹی کو لیکن ہمیں کیا ملے گا۔ اس طر وہ کا ر ، مو ٹر سا ئیکل یا کو ئی اور قیمتی جہیز بھی اپنی ضر ور ت کی انہیں سے حا صل کر تے ہیں۔ اس مو ضو ع اور وا قعا ت پر جتنی بھی بحث کی جا ئے کم ہے۔ لیکن با ت عمل سے اور کچھ کر کے دکھا نے سے بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ہمیں اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا ہوگی، پرویز رشید

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker