پاکستانتازہ ترین

این آراوقومی مفاہمت کے لئے نہیں بلکہ کرپشن کو دوام بخشنے اورایک دوسرے کو بچانے کے لئے کیا گیاہے:حمید گل

ٹیکسلا ( انٹرویو:ڈاکٹر سید صابر علی/نامہ نگار)دفاعی تجزیہ نگار سابق سربراہ آئی ایس آئی ریٹائرڈ جنرل حمید گل نے کہا ہے کہ این آر او قومی مفاہمت کے لئے نہیں بلکہ کرپشن کو دوام بخشنے اورایک دوسرے کو بچانے کے لئے کیا گیا،حکومت کو بین جہادی تنظیموں یا مدارس پر لگانے کی بجائے ان پارٹیوں پر لگانا چاہئے جن کے ملٹری ونگز ہیں جو بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کی سیاست کر رہے ہیں،مسلہ کشمیر کو اگر پاؤں تلے روندا گیا تو پاکستان کا وجود بے معنی ہوجائے گا،ہندوستان پانی بند کر کے پاکستان کو سحرا میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے،نائن الیون کی طرح بے حس حکمرانوں نے اب بھی مذاحمت نہ کی تو قوم خود مذاحمت پر مجبور ہوگی،امریکہ افغانستان میں اسامہ بن لادن کے لئے نہیں بلکہ شرعی نظام کو ختم کرنے آیا تھا،مسلہ کشمیر پر مدد کرنے والے جہادیوں کو کچلا جارہا ہے پرویز مشرف نے ریورس کر کے ملک کو تاریخی نقصان پہنچایا، امریکہ کی چاپلوسی چھوڑ کرحکمرانوں کو قومی مفاد میں اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی،ان خیالات کا اظہار انھوں نے زیلدار ہاوس ٹیکسلا میں اورنج فیسٹیول کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے موقع پرپاک نیوز لائیوکو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا انھوں نے کہا کہ مسلم لیگی اپنے آپ کو قائد اعظم کا وارث کہتے ہیں ،راجہؓ ظفرالحق سمیت تمام دم بھرنے والے مسلم لیگیوں میں جرات نہیں کہ وہ میاں نواز شریف کو کہے کہ میاں صاحب آپ ہمارے لیڈر ضرور ہیں مگر اس طرح آپ پاکستان کی اسا س کے ساتھ نہیں کھل سکتے،پارلیمنٹرین نے بھی چپ سادھ رکھی ہے سانحہ ماڈل ٹاون میں چودہ پندر افراد ہلاک ہوئے،گلو بٹ کے ساتھ ملکر معصوم لوگوں کا قتل عام کیا گیا،کوئی انکوائری نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی نے پارلیمنٹ میں اس پولیس گردی ، غنڈہ گردی کے بارے میں سوال اٹھایا،این آر او قومی مفاہمت کے لئے نہیں بلکہ ایک دوسے کو بچانے کے لئے کیا گیا،ایک دوسرے کی لوٹ مار پر دہ ڈالنے کے لئے این آر او کا سہارا لیا گیا،حکمران اپنے لوگوں پر اعتماد کرنے کی بجائے برطانیہ ، امریکہ اور اب ہندوستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ بچاے گا انکو،قوم کو سبز باغ دکھانے والے آج تک کالا باغ ڈیم تو بنا نہیں پائے،دہشتگردی کے سدباب کے لئے حکمرانوں کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی،امریکہ کی چاپلوسی بند کی جائے آج پھر امریکہ کو ہماری ضرورت پڑ گئی ہے،حکمرانوں نے امریکہ کے مفادات کو سنبھالتے سنبھالتے ملک کا پہلے بھی بیڑا غرق کیا اب پھر اسی ڈگر پر چل نکلیں ہیں،جن لوگوں کے بچے بوڑھے اور خواتین ڈرون اٹیک میں مارے گئے،ان کے لئے کاونٹر نیریٹیو لایا جاے،جن لوگوں کو این آر او کے تحت چھوڑا گیا ان کے کیس ری اوپن کئے جائیں،وہ جرائم پیشہ افراد جن پر مقدمات قائم ہوئے، جو عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں جن میں ہمارے ملک کے بڑے بڑے لیڈر جو ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں شامل ہیں،بلاشبہ یہ لوگ قومی مجرم ہیں اور کیا یہ حق انھیں ہے کہ وہ انھیں اس طرح چھوڑ دیں،سپریم کورٹ اس کا برملا اظہار کرچکی ہے کہ تین چار پارٹیوں کے ملٹری ونگز ہیں،وہ بات دب گئی اب حکومت مدارس اور جہادی تنظیموں کو بین کرنے کی بات کرتی ہے ،ان پارٹیوں پر بین کیوں نہیں لگایا جاتا جن کے ملٹری ونگز ہیں،جو بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کی سیاست کو پروان چڑھا رہے ہیں،انکا کہنا تھا کہ اب امریکہ کے جانے کا وقت آچکا ، ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ پہلے افتخار چوہدری کے دور میں سپریم کورٹ پالیسیاں بناتا تھا،اور اب فوج کو اس میں گھسیٹا جارہا ہے فوج کو براہ راست اس میں نہیںآنا چاہئے،اگر اسیا ہوا تو نہ صرف یہ غلط ہوگا بلکہ فوج بری طرح اس دلدل میں پھنس جائے گی،میری ناقص رائے کے مطابق فوج کو اس سے د ور رہنا چاہئے تاہم کوئی بات کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا،انکا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی اصل وجہ وہ عناصر ہیں جس کی وجہ سے ملک میں کرپشن فروغ پارہی ہے،قوم خون دینے کی بھی عادی ہے مگر اب ہمیں خون لینے کا بھی عادی ہونا پڑے گا،ریٹائرڈ جنرل حمید گل نے پاک نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے ،وہ افغانستان میں اسامہ بن لادن کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ شرعی نظام کو ختم کرنے آیا تھا اسے خوف تھا کہ کہیں یہودیوں کا نافذ کردہ اکانومی نظام ختم نہ ہوجائے ،آج حکمرانوں نے ہمیں ہاتھ پاؤ ں باندھ کر ان قوتوں کے سامنے ڈال دیا ہے جو اسلام دشمن ہیں جو ہمارے مرکز و محور محبت کو پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کی شان میں بار ہا گستاخی کی جسارت کی ،جنہوں نے مسلم امہ کو خون کے آنسو رلایا انکے جذبات کو مجروع کیا،انھوں نے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی اصل وجہ ان عناصر کو قرار دیا جنہوں نے ملک میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے،انکا کہنا تھا کہ یونائیٹڈ چارٹر کے آرٹیکل تین کے مطابق معصوم ، مظلوم ، محکوم قوموں کو حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کریں جیسے افغانستان نے روس کے خلاف کیاور اب افغانستان کے طالبان کر رہے ہیں،جس طرح کشمیر میں ہمارے مجاہدین کر رہے ہیں،جسے ہندوستان دہشتگردی کا نام دیتا ہے اصل میں یہ آزادی کی جدوجہد ہے،یہ دہشتگردی نہیں بلکہ پولیٹیکل ایکسپریشن ہے،ایسے عوامل کو سمجھے کی ضرورت ہے،انکا کہنا تھا کہ انسانیت کو نیا نظام دینے کے لئے پاکستان کا بہت بڑا کردار ہے،انکا کہنا تھا کہ میں حقیقت منتظر پر نظر رکھتا ہوں ،امریکہ افغانستان میں اسامہ بن لادن کے لئے نہیں آیا تھا نائن الیون سب جھوٹ تھا،دراصل وہ شرعی نظام کو ختم کرنے آیا تھا تاکہ دنیا کو سوشو مانیٹری سسٹم نہ مل جائے جس میں یہودیوں کا نافذ کردہ اکونومی سسٹم خیر باد ہوتا نظر آرہا تھا،انکا کہنا تھا کہ امریکہ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف رہا ، انھوں نے کہا کہ اب تو جنگ بجلی گیس کی نہیں رہی اب آنے والی جنگ پانی کی ہوگی خواجہ آصف نے کہہ دیا کہ قائد اعظم کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ کیوں قرار دیتے تھے کیوں کہ آج اسی کشمیر کے پانی سے ہماری فصلیں سیراب ہورہی ہیں ،پانی بندہوگیا تو ملک میں خدا نخواستہ قحط پڑ سکتا ہے ،ہمارے پالیسی میکرز کو اب یہ جرات پیدا کرنا ہوگی کہ وہ قائد اعظم کی طرح یہ کہنے کے لئے تیار رہیں کہ بخدا ہم جنگلوں ، پہاڑوں ،دریاوں ، سمندروں میں جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں حتی ٰ کہ ہمارے دشمن ہمیں بحرہ عرب کے اندر اٹھا کر نہیں پھینک دیتے،باجوڑ اور دیگر مقامات کے لوگ جنہیں آج ہم کچل رہے ہیںآج ہم مغربی بارڈر جہاں پہلے ہمیں کوئی خدشہ نہیں ہوتا تھا ،وہاں چھاونیاں بسا رہے ہیں،قائد اعظم نے 24دسمبر 1947 کو 48 گھنٹوں کے اندر ان چھاونیوں کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا،اب جبکہ ایک تاریخٰ غلطی سر زدہوگی اسے سنبھالنے اور ریورس کرنے کی ضرورت ہے،اگر ہم نیا نیریٹیو لیکر آجائیں تو حالات سنور سکتے ہیں،انکا کہنا تھا کہ دہشتگرد خواہ کسی طبقہ ، پارٹی یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو بلاتفریق اسے سزا ملنی چاہئے،انکا کہنا تھا کہ امریکہ کے مفادات کا تحفظ کرتے کرتے حکمرانوں نے ملک کو بیڑا غرق کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker