تازہ ترینصابرمغلکالم

ہمیں کیوں مار رہے ہو؟

sabir mughalروشنیوں کے شہرکراچی میں محض ایک منٹ کے دوران اورنگی ٹاؤن اور بنگلہ بازار میں سفاک انسانوں نہیں بلکہ حیوانوں نے 7۔عام پولیس اہلکاروں کو اپنی سفاکیت کی نذر کر دیا ،شہید ہونے والے یہ اہلکارجن میں وزیر احمد ،عبدالستار،غلام رسول،رستم،اسماعیل،دائم دین اور گل خان شامل ہیں اس وقت پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور تھے،یہ عام اہلکار بہت معصوم اور عام شہریوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے عظیم طبقہ اشرافیہ کی رکھوالی پر بھی مامور رہتے تھے،دہشت گردی کی اس لعنت پر بڑی حد تک پاک فوج قابو پا چکی ہے فوج اپنے افسران اور جوانوں کی سینکڑوں شہادتوں کے باوجود انتہائی پر عزم ہے ان کی ہمت اور حوصلہ بلند تر ہے وہ یقیناً اب اس ناسور اور ان کے سہولت کاروں (خبیثوں)کو ختم کر کے ہی رہیں گے،،گذشتہ ماہ مسیحی برادری کے مقدس تہوار ۔ایسٹر ۔پرپاکستان کے دل شہر لاہور کے گلشن اقبا ل میں درندوں نے خون کی ہولی کھیلی تھی انہوں نے گلشن اقبال کو گلشن خون میں بدل کے رکھ دیا،،حالیہ دنوں کراچی ،مردان اور لاہور میں ہونے والے ان المناک اور سفاکانہ واقعات یاان سے قبل ہونے والی دہشت گردی کے نتیجہ میں جن گھروں میں صف ماتم بچھی وہ سبھی کے سبھی وہ لوگ تھے جنہیں پاکستانی عوام (عام)کہا جاتا ہے،چھوٹے ملازمین کی بات کی جائے تو ان کا شمار بھی ۔عام ۔میں ہی ہوتا ہے، الراقم کا تعلق بھی اسی عام طبقہ سے تعلق ہے جس کوئی پر سان حال نہیں،جس کا جب دل چاہے اس طبقہ کو دبوچ لے،خون میں نہلا دے،لوتھڑوں میں بدل ڈالے،ہمارے آباء نے اس عظیم اور پاک دھرتی کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں مگر ہم پر مسلط طبقہ آج بھی ہر دور میں ہمیں سے قربانیاں طلب کرتا ہے ،کڑوی گولیوں کھانے کا بھی ہمیں کہا جاتا ہے،ہمارے بچے بے روز گار،صحت اور تعلیم کی سہولیات سے یکسر محروم،ہسپتالوں میں جائیں تو وہاں ہمیں اتنی دوائی نہیں ملتی جتنے دھکے ہمارے نصیب میں ہوتے ہیں اور اگر انوکھی مخلوق جو ہم پر حکمران بھی ہے وہاں وارد ہو جائے تو ہمیں باہر دھکیل دیا جاتا ہے،،کہیں سفر کرنا ہو تو دنیا جہاں کی سب سے گندی پبلک ٹرانسپورٹ ہمارے لئے ہے،آئے روز کے ٹریفک حادثات سے شاہرائیں بھی ہمارے خون سے رنگی رہتی ہیں،جہاں جہاں بھی سیاست زدہ پولیس ہے وہ بھی ہر مقام پر ہمیں بے عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی،موٹر سائیکلوں کے چالان اور جعلی مقدمات ہمارے لئے ہیں،ہر پولیس ناکہ عوام کے لئے پل سراط ،کرپٹ پولیس کا بس بھی ہمیں پرچلتا ہے،لٹیروں کے لئے سیلوٹ اور ہمارے لئے۔بوٹ،پاکستان بھر کی جیلوں چلے جائیں جن میں 80فیصد بے گناہ افرادبھیڑ بکریوں کی طرح قید نظر آئیں گے،ہم ہر چیز پر ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر سہولیات ہم سے کوسوں دور۔ اور اشرافیہ جو بے پناہ سرکاری مراعات کے سائے تلے عیاشی کر رہی ہے دنیا جہان کی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچادی جاتی ہیں،ہم بھوکے رہتے ہیں ،ہمارے بچے بھوکے رہتے ہیں،اول تو رہائشی سہولت کا نام تک نہیں اور اگر ہے تو وہ ڈربا نما۔ہمارے پینے کے لئے صاف پانی تک دستیاب نہیں مضر صحت پانی ہمیں مہلک بیماریوں میں دھکیل رہا ہے اور بیماریوں کا شکار ہونے پر صحت کی سہولیات شرمناک صورتحال سے حکمرانوں کا منہ چڑاتے ہیں، اس کے باوجود حکمرانوں کی ملک اور عوام دشمن پالیسیوں کی بدولت ہمارا ہر بچہ یہودیوں کامقروض ہے، گھر میں فاقہ زدگی کی اذیت ناک زندگی گذارنا بھی ہمارا مقدر بنا دیا گیا ہے، ہم گھر کے سات افراد ہیں اور سرکار نے یہودیوں سے حاصل کیا گیا یوں840000ہزار روپے کا قرضہ ہمارے ذمہ سرکار نے لگا رکھا ہے،اعداد وشمار کے گورکھ دھندے کے ماہر نام نہاد معاشی ماہرین بالخصوص وزیر خزانہ اپنی تجوریوں کو بھرنے کے لئے قرضے پے قرضہ لئے جا رہے ہیں قرضوں کے حصول کی یہ انتہا ماضی میں دیکھنے میں کبھی نہیں دیکھنے آئی تھی ہمیں ۔گدھے ۔سمجھ کر قرضوں کا مزید بوجھ ہم کر لاداجا رہا ہے،ان کی پالیسیوں کا کمال دیکھیں کروڑوں پاکستانی خط غربت کے عالمی پیمانہ سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں مگر ان کی شان و شوکت ،ان کی آمدن ،ان کے بزنس میں ۔حیرت انگیز۔حد تک اضافہ ہوتا جا رہے ہے،ان کے لئے ،ان کے بچوں کے لئے ،ان کے خاندان کے لئے سیکیورٹی کے حصار،ملک بھر میں قائم پولیس کا تیسرا حصہ ان کی حفاظت پر مامور ہے،جب ان کی شاہی سواری جلوہ افروز ہوتی ہے تو سڑکوں پر کرفیو کا سماں نظر آتا ہے،جنگل کے قانون کا یہاں نفاذ ہے طاقت ور ہی یہاں سب کچھ ہے،اس ملک میں بسنے والے ہمارے جیسے غریب طبقہ پر طاقتور طبقہ پنجہ زن ہے،ایک طرف جہاں ہر شعبہ زندگی میں ہمارا بری طرح استحصال کیا جا رہا ہے وہیں دنیا کا ذلیل ترین گروہ جو۔ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے نام سے جانا جاتا ہے وہ بھی ہمیں ہی لوتھڑوں میں تبدیل کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے، ۔کیوں؟؟ ہمارا قصور کیا ہے؟ہمیں کیوں مارا جا رہاہے؟یہ سب دہشت زدگی اور دہشت گردی صرف ہمارے مقدر میں ہے؟جب ہمارے پیارے منوں مٹی تلے دب جاتے ہیں تب سرکار کو امدادی رقم کا خیال آ جاتا ہے جیسے اس رقم سے یہ شہید پھر سے اٹھ بیٹھیں گے،کراچی میں شہید اہلکاروں کی شہادت پر بھی صوبائی حکومت نے 20۔20لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے،کیا یہ رقم پولیس فورس کی بہتری کے لئے نہیں لگائی جا سکتی تھی ؟ان پولیس گاڑیوں پر لگے کیمرے ہی خراب تھے، جس روز کراچی میں موت کا یہ کھیل ایک بار پھر کھیلا گیا اسی روز ہی سپریم کورٹ نے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹررائزڈ کیس میں فرمایا جب تک ۔شاہ ۔رہیں گے سندھ کے حالات درست نہیں ہو سکتے،سائیں سرکار تو وہ ہیں جنہیں تھرپارکر میں موت کے رقص پر بھی میٹھی نیند آ جاتی ہے ،ایک طرف جنازے اٹھ رہ ہوتے ہیں اور دوسری جانب پروٹوکول کی شاہکاریاں جلوہ افروز ہوتی ہیں،یہ شہید ہونے والے یہ اہلکار وہی ہیں جو سائیں سرکار کے کانوائے کی دھول کی چاٹتے تھے ،زرداری خاندان کی نقل و حمل کو محفوظ بنانے پر بھی ان اہلکاروں کے بھائی ہی شامل ہیں،رائے ونڈ محل کے ارد گرد 24گھنٹے اذیت ناک ڈیوٹی بھی یہی سر انجام دیتے ہیں،پاکستان میں پولیس کی بہت بڑی تعداد محض ۔بڑوں۔کی حفاظت پر تعینات رکھی جاتی ہے،اس طبقہ کی زندگیوں کی حفاظت کے لئے ان کے ارد گرد سیکیورٹی کے حصار ہمہ وقت قائم رہتے ہیں ان کی نقل و حمل کے لئے کمیونیکیشن کس سارا نظام معطل کر دیا جاتا ہے، سوائے ایک دو واقعات کے باقی دہشت گردی کے سبھی واقعات میں فورسزکے ساتھ ساتھ بچوں،عورتوں،بوڑھوں اور بے گناہ نوجوانوں کے خون کو بہایا گیا،ان ۔بڑوں ۔کے نزدیک دہشت گردی کے واقعات بھی منافع بخش کاروبار کی طرح ہیں،یہ بعد میں امدادی رقم کا تو اعلان کرتے ہیں مگر نظام کی بہتری ان کے نزدیک مذاق سے کم نہیں، تازہ ترین اطلاعات کراچی میں اس دہشت گردی کے تانے بانے ۔لشکر جھنگوی۔سے ملتے ہیں ،کوئی یہ تو بتائے فرقہ ورایت کی اس ہولناک جنگ کے ذمہ داران کون ہیں؟بنکروں اور سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں رہنے والو یہ ۔عوام عرف عام بھی ۔انسان ۔ہیں ،ان کا قصور کیا ہے ؟یہ کیوں غیر محفوظ اور آپ محفوظ ترین ہیں؟آپ لوٹ مار کرتے ہیں یہ فاقے کرتے ہیں،اغیار کی رقم پر پلنے والے درندوں اس عوام عرف عام کا قصور آپ بھی بتا سکتے ہیں؟اگر ہمارا کوئی قصور نہیں تو آئے روزہمیں کیوں کشت و خون میں نہلا دیتے ہو؟اب تو ہماری آنکھوں کے آنسو بھی رو رو کے نکلنا بند ہو چکے ہیں،لاشے اٹھا اٹھا کر ہمارے بازو شل ہو چکے ہیں،ہمارے گھروں میں بیواؤں،یتیموں اور جگر گوشوں کے لئے تڑپنے والوں کی بہتات ہو چکی ہے آپ ہم سے اور کیا چاہتے ہیں؟یہ ریاست،یہ وطن اور یہ ملک صرف چند خاندانوں کے لئے ہی قائم کیاگیا تھاکہ وہ صرف حکومت ہی کریں ؟،قوم کو ۔گروی بھی رکھ دیں ،ہمیں ہر کوئی مار رہا ہیں ۔خدارا بس کریں اب ہمیں نہ ماریں ہم تو پہلے ہی نیم مردہ زندگی گذار رہے ہیں،،،،

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button