پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

یومِ آزادی مبارک ہو

چار عشروںسے زائد ہو نے کو آئے ، میں نے یومِ آزادی پر کبھی کالم لکھا نہ آزادی کا جشن منایا ۔وجوہات تو کئی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ یہ کہ یہ وہ پاکستان ہی نہیں جو اقبال کا خواب اور قائدِ اعظم کی شبانہ روز کوششوں ، کاوشوں اور محنتوں کا ثمر تھا۔کون کہتا ہے کہ یہ پاکستان 14 اگست 1947ئ کو معرضِ وجود میں آیا؟۔بھائی یہ تو دسمبر 1971 ئ کی ٹھنڈی دھوپ میں ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں اُس وقت قائم ہوا جب ہماری عظمتوں کے تمغے نوچے گئے ۔تقسیم کی یہ نئی لکیر تو جنرل نیازی اور جنرل اروڑہ نے پلٹن میدان میں مل کر کھینچی تھی۔ کاش کہ جنرل نیازی اُس ذلت کی زندگی پر شہادت کی موت کو ترجیح دیتے ۔
قائد نے پاکستان بنایا ، ہم نے گنوا دیا ۔تب سے اب تک مختلف حوالوں سے بہت سے دانش ور اور مؤرخ ذو ا لفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن کو ملک کو دو لخت کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے چلے آ رہے ہیں ۔آج وہ دونوں ہی ہم میں موجود نہیں لیکن طُرفہ تماشہ یہ ہے کہ اُدھر مجیب الرحمٰن کی باقیات کی حکومت ہے اور اِدھر بھٹو کی باقیات کی ۔اگر واقعی یہ دونوں ملک کو دو لخت کرنے کے ذمہ دار تھے تو پھر تو گویا عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ بھٹو اور مجیب کی تقسیم درست تھی اور خاکم بدہن قائد اور اقبال کی تقسیم غلط۔اگر بھٹو اور مجیب کے پیروکار مفقود ہو جاتے ، اگر نسلِ کُہن کو اس سانحے کا دُکھ اور نسلِ نَو کو ادراک ہوتا ، اگر ہم سقوطِ ڈھاکہ پر نوحہ خواں ہوتے اور اگر ہم نے کچھ تھوڑا بہت ہی سبق حاصل کیا ہوتا تو میں بھی یہ دن بڑے شوق سے مناتی اور پُکار پُکار کے کہتی کہ
اگر کھو گیا اِک نشیمن تو کیا غم
مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں
لیکن ہمیں تو احساس ہے نہ ادراک ۔یہی نہیں بلکہ ہم نے تو سقوطِ مشرقی پاکستان کو اپنی یادوں کی سلیٹ سے یوں مٹا دیا ہے جیسے کوئی دوسری جماعت کا بچہ غلط سوال کو مٹا کر ہمیشہ کے لئے بھُلا دیتا ہے ۔آج نوجوان نسل سے مشرقی پاکستان کے بارے میں سوال کرکے دیکھ لیجیئے ۔میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ حیرت سے آپ کا مُنہ تکنے لگیں گے ۔اس کے باوجود بھی میلوں ٹھیلوں کی شوقین یہ قوم ’’ہم زندہ قوم ہیں ، پائیندہ قوم ہیں ‘‘ گاتی ہے تو گاتی پھرے ۔مجھے تو بہر حال ایسا کہتے اور سوچتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔
یہ نسلِ نَو بھلا کب جانتی ہے کہ دس لاکھ سے زائد انسانی جانوں کی قُربانی اور لگ بھگ نوے لاکھ افراد کی ہجرت کا ثمر ہے یہ پاکستان۔اُنہیں پتہ ہی نہیں کہ کتنے کرب انگیز لمحات اور دلدوز صدمات کا سامنا کرنے کے بعد اُن کے اجداد نے اِس دھرتی پر قدم رکھا ۔ تقسیم کے واقعات پرایسی بیشمارکتابیں لکھی جا چُکی ہیں جنہیں پڑھ کر پتھر بھی رو اُٹھتے ہیں لیکن ابھی بھی بیشمار قصّے لوگوں کے ذہنوں میں دفن ہیں ۔مجھے ایک قریبی عزیز نے بتایا کہ اُس کے والد تو تقسیم سے پہلے ہی یہاں آ چُکے تھے لیکن باقی پورا خاندان ہندوستان ہی میں تھا ۔وہ بتایا کرتے تھے کہ ہندوستان سے جب بھی کوئی کٹی پھٹی ٹرین لاہور پہنچتی تو وہ دیوانوں کی طرح زندہ انسانوں اور لاشوں کے درمیان اپنے پیاروں کو تلاش کرتے ، مشرقی پنجاب سے آنے والے لُٹے پھُٹے قافلوں کے ایک ایک فرد کو روک روک کر اپنے پیاروں کے حلیے بتاتے اور پھر مایوسیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب کر پلیٹ فارم کی کسی بنچ پر ڈھے جاتے ۔اُمید و بیم کی ایسی کئی کربناک راتوں کے بعد آخر کار وہ لوگ آن پہنچے لیکن اپنے ساتھ جور و ستم کی کئی کہی اور چہروں پہ لکھی ان کہی داستانوں کے ساتھ ۔کچھ ہندوستان میں ہی خاک کا رزق ہو گئے اور جو بچ رہے وہ مُردوں سے بد تر ۔اُسی خاندان کی ایک بڑی بوڑھی بتایا کرتی تھیں کہ دورانِ سفر ایک رات اُن کے لئے قیامت کی رات تھی ۔اُس رات خاندان کے سارے مرد سر جوڑ کے یہ طے کرنے بیٹھے کہ تمام عورتوں کو قتل کر دیا جائے تاکہ اُن کی عصمتیں سکھوں کے ہاتھوں تار تار ہونے سے محفوظ رہیں ۔مخالفت سب سے زیادہ ایک جوشیلے نوجوان نے کی اور جنونی حمایت انور نامی اُس کے کزن نے ۔انور کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اللہ تعالےٰ نے دُلہن کو حسن کی دولت سے مالا مال کر رکھا تھا ۔شائد اسی بنا پر وہ اِس وہم میں مُبتلا تھا کہ سکھ لازماََ اُس کی بیوی کو چھین کر لے جائیں گے ۔اُس رات انور اور اُس کی دُلہن کچھ فاصلے پر آرام کے لئے لیٹ گئے ۔اگلی صبح ایک دلخراش منظر سب کا منتظر تھا ۔دُلہن کی شہ رگ کٹی ہوئی تھی اور انور غائب۔اُس دن کے بعد کسی نے اُس کی شکل نہیں دیکھی لیکن دُلہن کے چہرے پر جمی دہشت کو دیکھ کر عورتوں کے قتل کا ارادہ تَرک کرکے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آخری دَم تک سکھوں کا مقابلہ کیا جائے اور اگر کچھ بَن نہ پڑے تو مرنے سے پہلے عورتوں کو مار دیا جائے ۔
یہ تو ایک چھوٹا سا قّصہ تھا لیکن تقسیم کی خونی تاریخ تو ایسی بیشمار داستانوں سے اٹی پڑی ہے ۔اگر کسی کو اِس خون آلود تاریخ کا احساس و ادراک ہوتا تو پھر دُکھ کاہے کا کہ’’خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا‘‘ اورتحقیق کہ آزادی کا نخلِ نَو اپنے متوالوں کے خون سے ہی تن آور درخت بنتا ہے ۔تاریخ کا سبق بھی یہی ہے، انسانیت کی معراج بھی یہی اور آئینِ فطرت بھی یہی۔ لیکن دُکھ تو یہی ہے کہ ہم نے نہ 1947ئ کے سانحات کو یاد رکھا اور نہ 1971ئ کے کَرب انگیز لمحات کو ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پوری قوم ہی مرضِ نسیاں میں مُبتلا ہو ۔البتہ یہ قوم میلوں ٹھیلوں میں جی بھر کے اُودھم مچانا نہ ہر گزنہیں بھولتی ۔اب بھی یومِ آزادی کا شور گلی گلی میں ہے ۔گزشتہ سالوں کی طرح یہ دِن بھی ’’ہا و ہو‘‘ میں گزر جائے گا اور رات ’’ون ویلنگ‘‘ میں۔اگلے دن پھر ’’وہی ہے چال بے ڈھنگی ، جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ‘‘۔ہم پھر کسی 23 مارچ ، 14 اگست یا 6 ستمبر کے انتظار میں بیٹھ رہیں گے ۔یہ پینسٹھواں یومِ آزادی ہے جو ہم آج منا رہے ہیں لیکن ان پینسٹھ سالوں میں شاید پینسٹھ گھنٹے بھی ایسے نہیں گزرے ہونگے جب ہم نے اپنے گریبانوں میں جھانک کے اپنا محاسبہ کرتے ہوئے یہ سوچا ہوکہ ہم نے کیا کھویا ، کیا پایا ۔شاید ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا ہو گا کہ آزادی حاصل کرنا بہت مشکل ہے لیکن اُس آزادی کی حفاظت کرنا مشکل تر ۔میں سمجھتی ہوں ک بد نصیب ہے یہ قوم جسے قائدِ اعظم کے بعد کوئی ایک بھی ایسا رہنما نہیں ملا جو اسے درسِ بیداری دیتے ہوئے یہ پیغام دیتا کہ
وہی ہے صاحبِ امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر ِ فردا

یہ بھی پڑھیں  کبڈی ورلڈ کپ: پاکستان اور بھارت آج فائنل میں مقدمقابل ہونگے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker