تازہ ترینساحر قریشیکالم

ہیپی نیو ایئر!

sahir-qureshi’’ہیپی نیو ایئر‘‘ مسلمانوں کا تہوار نہیں، مذہبی لحاظ سے مسلم سال محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے دین اسلام نے ہیپی نیو ایئرجیسے بیہودہ تہوار منانے سے منع فرمایا ہے ، مانا کہ انسانی فطرت ہے وہ تفریح طبع کیلئے الٹے سیدھے امور میں بہت جلد مگن ہوجاتا ہے لیکن ایسے کاموں میں انسان قرآنی آیات اور اسلامی احکامات کو بھی پس پشت ڈال دیتا ہے’’ ہیپی نیو ایئر ‘‘تہوار ہر سال 31دسمبر کی رات کو یکم جنوری کی صبح طلوع ہونے تک منایا جاتا ہے اور منچلے نوجوان اور بگڑے رئیس زادے غیر مسلموں کے ساتھ ملکر شراب و شباب کی محفلوں کو رنگین کرتے ہیں ، ہوٹلز بک کروا کر دیسی اور ولائتی برانڈز کی مہنگی ترین شراب کے نشہ میں دھت ہو کر حدود و قیود کی تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں اور نئے سال کو ویلکم کرنے کے بہانے ناچ گانے کی محفلیں سجائی جاتی ہیں، اس ایک رات میں کروڑوں روپے بے دریغ عیاشی و فحاشی کی نظر کئے جاتے ہیں ، ’’ ہیپی نیو ایئر ‘‘ کا تہوار دیگر مغربی اور غیر مسلم تہواروں کی طرح اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان میں انتہائی تیزی سے فروغ پارہا ہے اور اس میں خاصا کردار این جی اوز کا بھی ہے جو ایسے مغربی اور غیر مسلم تہواروں کو پاکستانی نوجوان نسل میں فروغ دلوارہے ہیں آج کی نوجوان نسل جہاں تفریح طبع کی خاطر اپنی تہذیب و ثقافت بھول رہی ہے وہاں یہ بیہودہ تہوار مناتے مناتے جانی و مالی نقصان سے بھی دوچار ہے ، کیونکہ اکثر منچلے نوجوان شراب کے نشہ میں دھت ہو کر ہوائی فائرنگ کرتے ہیں اور خود پر کنٹرول نہ رکھ سکنے کی وجہ سے دوسروں کو لہو لہان کردیتے ہیں ان کی اس ہوائی فائرنگ سے رات بھر کے جشن کا حصہ بننے والے بہت سے دوسرے لوگ نشانہ بن کر ہسپتالوں میں جا پہنچتے ہیں اور زرا سی ہنسی و خوشی کی خاطر بہت سے لوگوں کے گھر اجڑ جاتے ہیں جبکہ ان نوجوانوں میں کوئی اپنی پڑھائی میں فائنل ایئر کا سٹوڈنٹ ہوتا ہے، کوئی رشتہ ازدواج میں تازہ تازہ ہی بندھا ہوتا ہے اور کسی کی شادی سر پر ہوتی ہے، کئی نوجوان اپنے بوڑھے والدین کی اکلوتی اولاد نرینہ ہوتے ہیں تو کوئی گھروں کے واحد کفیل ہوتے ہیں جن کے اہلخانہ کی تمام تر امیدیں انہیں سے وابستہ ہوتی ہیں ، اکثر نوجوان دین سے دوری کے سبب یہ دن منا کر مصیبتوں میں پھنس جاتے ہیں ، فرمان نبوی ﷺ ہے کہ ’’ میں علم کا شہر ہوں اور علی ؑ اسکا دروازہ ہیں‘‘ قارئین! شہر علم کی روشنی کی چند کرنیں جو حضرت علیؓ کے اقوال پر مبنی ہیں اصلاح و احوال کیلئے پیش کی جارہی ہیں، آپ ؑ کا قول ہے کہ’’ علم سے عزت حاصل ہوتی ہے اور خداتعالیٰ کی فرمانبرداری تمام آفتوں سے بچاتی ہے‘‘’’نفسانی خواہشیں شیطان کے جال کے پھندے ہیں‘‘ ’’دنیا بدبختوں کا گھر اور جنت پرہیزگاروں کا مقام ہے‘‘ ’’ متوسط طور پر خرچ کرنا آدھی کمائی اور سوچ بچار سے کام کرناآدھا مدد گار اور پاک دامنی بہترین خصلت ہے‘‘ ’’ مال فتنوں کا سبب ،حوادث کا زریعہ، تکلیف کا باعث اور رنج و مصیبت کی سواری ہے‘‘ ’’عقلمند وہ ہے جو گناہوں سے پرہیز کرے اور عیوب سے پاک رہے‘‘’’مومن دولت مندی کی حالت میں بھی گناہوں سے بچتا ہے اور دنیا کی آلائشوں سے صاف ستھرا رہتا ہے‘‘ ’’ کمینے شخص کی پہچان یہ ہے کہ جب اسے مرتبہ ملتا ہے تو اس کے حالات بگڑ جاتے ہیں اور چال چلن خراب ہوجاتا ہے‘‘ ’’ آدمی جو حالت اپنے لئے پسند کرتا ہے اسی حالت میں رہتا ہے اگر خود کو باعزت رکھے تو باعزت اور اگر خود کو ذلیل رکھے تو ذلیل رہتا ہے‘‘ ’’ گناہوں پر خوش ہونا گناہ کرنے سے زیادہ ہے‘‘ ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال و جان خرچ کردینا مقربین کی عبادت ، اسکے عذاب سے ڈرنا متعین کی عادت اور گناہوں سے پاک رہنا توابین (یعنی توبہ کرنیوالے) کی عطائت ہے‘‘ ’’ شراب کا ایک قطرہ پورے سمندر کو نجس کردیتا ہے‘‘ شراپ پی لینے والے شخص کی عبادت اور دعا چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی‘‘،
قارئین! ان اقوال کو بیان کرنے کا مقصد فقط ’’ ہیپی نیو ایئر ‘‘جیسے قبیح و بہبودہ اور غیر اسلامی تہواروں سے ممانعت اور اسلامی کلچر کے فروغ کو یقینی بنانے کیلئے راہ فراہم کرنا ہے یقیناًان اقوال میں جو سنہری اصول بیان فرمائے گئے ہیں ان پر چل کر ہم دنیا و آخرت کی کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ’’یوم تکبیر‘‘ پاکستان کی بقا کا دن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker