انور عباس انورتازہ ترینکالم

حقیقت اورا فسانہ

anwar abasمیاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکمران پانچ سال بھنگ پی کر سوتے رہے ہیں اور قوم اندھیروں میں ڈوب گئی ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ھکمران عشاشیوں میں مصروف رہے ہیں۔مجھے انکے بیان میں آدھے سچ سے اتفاق ہے اور آدھے کو میں افسانہ قرار دیتا ہوں۔اسکی وجہ یہ ہے کہ دونوں باتیں ایک ساتھ حقیت نہیں ہو سکتیں۔عیاش ھکمران یا تو سو ئے رہے ہوں گے یا پھر پانچ سال جاگ کر عیاشیوں میں مصروف رہے ہوں گے۔میاں شہباز شریف صاحب کو اپنی بات کے ایک حصے کو ختم کرنا ہوگا۔کیونکہ جاگ کر عیاشیاں کرنا اور بھنگ پی کر سوئے رہنا دو متضاد چیزیں ہیں۔اگر اسلام آباد کے حکمران سو رہے ہیں اور وہ بھی بھنگ پی کر تو پھر وہ عیاشی نہیں کر سکتے اور اگر وہ عیاشیوں میں مصروف رہے ہیں تو پھر وہ سو نہیں سکتے۔اب میاں شہباز شریف بہتر بتا سکتے ہیں کہ ان کی بات کونسی سچ ہے اور کونسی افسانہ۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ میاں صاحب کیا سویا ہوا کوئی انسان کسی کو اندھیروں میں غرق کر سکتا ہے؟قارئین اسی لیے تو سیانے اور دانؤں نے کہا ہے کہ کچھ کہنے سے قبل کہی جانے والی بات کو اچھی طرح سوچ لیا کرو۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق میاں شہباز شریف نے تمام مسلم لیگی ارکان پارلیمن کو ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ روزانہ میٹرو بس کے سٹیشنز پر حاضری دیا کریں اور عوام کو اس منصوبے کی افادیت اور اہمیت سے آگاہی دیں۔یہ پتہ نہیں چلا سکا کہ میرو بس کے سیشنز پر ارکان پارلیمنٹ کی حاضری کون لگایا کرے گا۔؟کیا خادم اعلی پنجاب اس زریں مقصد کے لیے کوئی الگ سٹاف تعینات کریں گے۔لوگ یہ بھی تو میاں شہباز شریف سے دریافت کر دکتے ہیں کہ جناب مان لیا کہ اسلام آباد والے پانچ برس بھنگ پی کر سوتے رہے ہیں لیکن آپ تو مسلسل جاگ رہے تھے اور ابھی تک جاگ رہے ہیں۔ توپھر آپ نے قوم کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے۔ تیس ارب روپئے ہی سہی میٹرو بس منصوبے پر خرچ کیے گے ہیں اتنی بڑی رقم سے کتنے نئے بجلی گھر قائم کیے جا سکتے تھے اور ان بجلی گھروں سے کم از کم پنجاب کے عوام کو تو اندھیروں سے نجات دلائی جا سکتی تھی۔ خداناخواستہ میں میٹرو بس منصوبے کی مخالفت نہیں کر رہا ۔عوامی تکالیف دور کرنے اور انکے مسائل کے ھل میں کلیدی کردار ادا کرنے والے منصوبوں کی سیاسی مفادات کی بنا پر مخالفت کرنے کو میں اچھا نہیں سمجھتا۔جس طرح مجھے زرداری حکومت کا ایران سے گیس پائیپ لائن منصوبے پر ثابت قدم رہنا اور اسکے لیے امریکہ سمیت دیگر بڑے ممالک کی جانب سے اس منصوبے کو ترک کرنے کے لیے ڈالے گے دباؤ کو خاطر میں نہ لانے کی ستائش نہ کرنا انتہائی نا معقول بات ہوگی۔پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی سب سے زیادہ مخالفت ہمارے درینہ دوست اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اتحادی امریکہ کی جانب سے کی جا رہی ہے۔اس امریکہ کے سامنے ڈٹے رہنا جس کے دباؤ کے سامنے سپر پاور بننے کا خواب دیکھنے والا ہمارا پڑوسی ملک بھارت ڈھیر ہو کر رہ گیا اور خود کو اس عظیم منصوبے سے الگ کرلیا۔لیکن اسلام آباد کی کمزور ترین حکومت نے امریکی اور اسکے اتحادیوں کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ہر قیمت پر پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیا ہوا ہے۔اس عظیم الشان منصوبے پر ایک کھرب پچاس ارب روپئے لاگت آئے گی۔اور اس مقصد کے لیے ایران پاکستان کو قرض بھی دیگا۔ایران سات سو اکیاسی کلو میٹر پائپ لائن صرف اور صرف سولہ ماہ میں مکمل کریگا۔یہ گیس پائپ لائن پاک ایران سرحد سے گبد نواب شاہ کے مقام تک بچھائی جائیگی۔اس منصوبے کی خصوصی بات یہ ہے کہ ایران اس منصوبے کے تحت سات سو پچاس ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کریگا۔ اس منصوبے کی برکت سے پاکستان کی چار ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی دور ہو سکے گی۔پھر آہستہ آہستہ گیس کی یومیہ پیداوار ایک لاکھ کیوبک فٹ ہو جائیگی جس سے بجلی کی قلت میں میں پانچ ہزار میگاواٹ کی کمی واقع ہو سکے گی۔آجکل اسلام آباد کے بھنگ پی کر سوئے حکمران برادر ملک ایران کے حکام کے ساتھ ملکر اس منصوبے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور ہماری توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا ہی۔لیکن یہ منصوبہ پاک ایران تعلقات کو مید مستحکم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریگا۔یہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جہاں میرو بس منصوبہ ایک اہم منصوبہ ہے ۔اور جس کے اثرات آنے والے سالوں میں نظر آئیں گے وہاں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی بینالااقوامی اہمیت کا منصوبہ ہے اس منصوبے کی تکمیل سے پورا پیارا پاکستان اس کے ثمرات سے مستفیض ہو گا۔انشاء اللہ ۔۔۔یہاں میں یہ کہنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتا کیونکہ بقول محترم منو بھائی کے کہ اچھے اور عوامی بھلائی کے منصوبوں کی محض سیاسی مفادات کی خاطر مخالفت نہیں کرنی چاہئے الحمد للہ میں تو شروع دن سے ہی ایسی پالیسی پر چل رہا ہوں کہ اچھے کام کی ستائش کرنی ہے اسے سراہنا ہے تاکہ حکمرانوں کو مید اچھے کام کرنے کی جانب راغب کیا جا ئے۔اور پیپلاز پارٹی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس نے اپنے ہر دور حکومت میں پاکستانی قوم کو کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور عنایت کیا ہے ۔سیل ملزہویا واہ آرڈیننس فیکٹری کا منصوبہ ہو۔یا پھر ایٹم بم کا حصول ہو یا پھر شمالی کوریا سے مزائیل ٹیکنالوجی کا حصول ہو سب پیپلز پارٹی کے عظیم تحفے ہیں ۔محض سیاسی پوائینٹ سکورنگ کرنے کی خاطر کہہ دینا کہ حکمران بھنگ پی کر سوتے رہے اور قوم اندھیروں میں ڈوب گئی۔قرین قیاس اور لائق تحسین قرار نہیں دیا جا سکتا۔میں اپنے ہر دل عزیز میاں شہباز شریف کی خدمت میں اتنا عرض کروں گا کہ اگر آئندہ انتخابات میں پاکستان کے عوام انہیں حق ھکمرانی عطا فرمائیں تو پنجاب کے دوسرے شہروں کے عوام کے لیے بھی میرو بس جیسے منصوبے بنائیں تاکہ لاہور کے باہر کے عوام احساس محرومی کا شکار نہ ہوں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button