تازہ ترینصفدر علی حیدریکالم

حقیقت کا روپ

” ماما آپ کا ٹیلی پلے
 ”  درگزر ” بڑا شاندار تھا ۔
اور آپ کی ادکاری بھی کمال کی تھی ۔
ڈرامے کا آخری سین تو اتنا متاثر کن تھا کہ کوئی بھی روئے بنا نہیں رہ پایا ہو گا ۔
آپ نے اپنے شوہر کو  معاف کر کے ڈرامے کو لازوال کر ڈالا "
” بہت شکریہ بیٹا ۔ اس ڈرامے کا اتنا فیڈ بیک ملا ہے کہ کیا بتاؤں ۔ یہ میرے کیریئر میں ایک شاندار اصافہ ہے اور اس نے میری شہرت کو چار چاند لگا دئیے ہیں ” ۔
” ایک ایسی خاتون جس نے کبھی کسی کو خاطر میں نہ لایا ہو اس کا اپنے شوہر کی اتنی بڑی غلطی معاف کر دینا اور ساتھ رہنے کا فیصلہ کر لینا واقعی خوب صورت تھا ۔
ماما آپ کو ادکاری کے لیے کچھ زیادہ محنت تو نہیں کرنا پڑی ہو گی ‘ ہیں ناں "
” وہ کیسے بیٹا ؟ ۔
میں کچھ سمجھی نہیں "
” آپ اپنی حقیقی زندگی میں بھی تو ایسی ہی ہیں ۔ کیا آپ نے غور نہیں کیا ‘ یہ ڈرامہ یوں لگتا ہے کہ آپ کی زندگی کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے ۔ آپ نے بھی تو معاف کرنا نہیں سیکھا ۔ ایک معمولی سی بات پر آپ نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور اب تک بابا کو معاف نہیں کیا ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جو ہم ہوتے ہیں ویسے نظر کیوں نہیں آتے؟
 اور ویسے کیوں نظر آتے ہیں جیسے ہوتے نہیں ہیں "
وہ اپنے بارہ سالہ بیٹے کو حیرت سے دیکھے گئی ۔ باپ سے دو سالہ جدائی نے اسے کتنا مچیور کر دیا تھا ۔ اس نے تو واقعی غور نہیں کیا تھا یہ ڈرامہ سچ میں اس کی حقیقی زندگی پر فٹ  یٹھتا  تھا ۔
” امی ” ۔
” جی بیٹا "
 وہ اپنے بیٹے کی آواز پر  چونکی تھی ۔
” تو پھر کیا خیال ہے چلیں ابو کے پاس ؟ اور دے دیں اس ڈرامے کو حقیقت کا رنگ ” ۔
اور الماس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
صدیوں کا فاصلہ لمحوں میں کٹ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker