تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

حقیقی ادیب

hakeem karamatادیب کا لفظ ،ادب، سے ماخوذ ہے اور ادب کے معنی خلوص اخترام میں آتے ہیں ۔باالفاظ دیگر ادیب ادب والا اخترام والا اخلاق والا ہوتا ہے ۔اگر اسی لفظ کو لے کر آگے جائیں تو یہ ہی لفظ ایک اچھے صحافی کے لیے بھی ہو گا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا موجودہ ادب کیسا ہے کیا ہمارا ادبی نظام یا ادبی لوگ ادبی محفلیں ادبی مجلسیں ،ادب کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں ۔میرے الفاظ شاید کسی دوست کو برے لگیں تو میں معذرت کر لیتا ہوں مگر لکھنا میری مجبوریِ جبلت ہے ۔کیوں کہ ادیب یا کالم نگار کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ ہر برائی کو سامنے بھی لائے اور اس کے ازالہ کی تدابیر بھی کرے۔عوام الناس میں اچھائی اور برائی کو جاننے اور اچھائی کی طرف راغب کرنا تدبیر رغبت کے ذریعے۔اس لحاظ سے صحافت ایک تبلیغ کا بہترین ذریعہ بھی بن جاتی ہے ۔
مگر موجودہ دور میں صحافت کا یہ حال ہو چکا ہے کہ کسی بھی اخبار سے ایک کارڈ بنوا لیا اور اسے اپنے گلے میں ڈال کر بلیک میلنگ شروع کر دی ۔کسی بھی محکمے کا کوئی بھی آفیسر یا ملازم قانونی طور پر اوراخلاقی طور پر قابلِ احترام ہو تا ہے ۔مگر موجودہ دور کے ادیب یا رپورٹر اخلاقی اقداروں سے نا آشنا ہر کسی سے بدتمیزی اور غلط الفاظ و افعال کا مظاہرہ کرتے ہوئے روڑ پر گنہگار آنکھوں نے کئی بار دیکھا ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ رک کر موصوف سے تعلیم و تجربہ کے بارے میں استفسار کیا تو حیران رہ گے کہ میٹرک بھی پاس نہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ علم ڈگریوں کا محتاج نہیں مگر عملی مظاہرے کا متقاضی ضرور ہے ۔اور ایسے افراد حقیقی ادیبوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔اصلی صحافیوں کا وقار بھی مجروح کرتے ہیں ۔آخر ایسا ہوتا کیوں ہے ؟اس کی وجہ کیا ہے ؟
ایک میڈیا ادارے کو خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرنک کے لیے ایک آدمی صحافتی ذمے داری سونپنے سے پہلے کچھ چیزوں کی تصدیق و تحقیق ضروری سمجھتا ہوں ۔میری ناقص رائے کے مطابق ۔ سب سے پہلے ایک صحافتی امیدوار کی تعلم اس کا لب و لہجہ اس کی شخصیت اس کی ذہانت اور اخلاق دیکھنا ضروری ہے ۔ اور اس چیزوں سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ اس کا ذریعہ معاش دیکھا جائے کہ آیا وہ اس کام کو پروفیشنلی لے رہا ہے یا واقع درد دل رکھتا ہے ۔اور اپنے اندر چھپے ہوئے ادیب اور ادبی خوبیوں کو باہر لانا چاہتا ہے ۔اپنے علم سے عوام میں ہر قسم کی شعور و اگاہی پیدا کرنا چاہتا ہے ۔اگر اس کی تعلم مکمل ہے اور ذہانت اس کی اندازِ گفتگو سے ظاہر ہو رہی ہے ۔اور وہ بر سر روزگار ہے ۔اس کا کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش ہے ۔جس کی اسے پریشانی نہیں ۔تو ایسا آدمی واقع ادیب ہے اور اگر اس کا نظریہ ہی یہ ہے کہ میں ایک بار کارڈ حاصل کر لوں نمائیندہ بن جاوں پھر کماوں گا ۔تو یہ ہی وہ لوگ ہیں جو آج کل صحافت و ادب کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔کئی انچارج صاحبان خود رپورٹروں کو بریف کرتے ہیں کہ کس طرح روپے کمانے ہیں ۔جو کہ انتہائی شرم ناک بات ہے
اب آتے ہیں دوسری طرف کہ اگر کوئی صحافی ایمانداری اور سچائی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے تو اس کے لیے ہمارا معاشرہ ہمارا قانون مشکلات کی دیواریں تعمیر کر رہا ہے حتیٰ کہ کئی صحافیوں کو قتل کر دیا گیا محض اس لیے کہ وہ حقائق سامنے لا رہا تھا ۔ اس پر کنٹرول کرنا حکومتی اداروں کا کام ہے جو کہ نہیں کرتے صحافت پر بار ہا حملے ہوتے ہیں ہو رہے ہیں مگر کوئی خاص نوٹس نہیں لیا جاتا ۔آخر میں میں اپنے صحافی بھائیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ صحافت کو سچائی اور ایمانداری سے کریں ۔آپس میں متحد رہیں اور اپنے حقوق کے لیے جو کہ جائز ہوں اور واقع ایک صحافی کا حق ہو اس لیے جنگ لڑیں note

یہ بھی پڑھیں  پاکستان اور بھارت کے درمیان مثالی تعلقات چاہتی ہوں، گلوکارہ جینوراے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker