تازہ ترینعلاقائیکالممحمد جاوید اقبال

حرمِ پاک بھی‘اللہ بھی‘ قرآن بھی ایک!

javid iqbalفرقہ بندی کے موضوع پر لکھنا ہو تو قرآن و حدیث کا حوالہ لازمی امر ہوتا ہے ، مضمون چونکہ بہت حساس نوعیت کا ہے اور آج اس فتنے کی وبا بھی زوروں پر ہے اس لئے لکھنا مناسب سمجھا، دوسری اہم بات یہ کہ اسلامی نقطۂ نظر سے راقم کوئی عالم و فاضل تو نہیں مگر چونکہ ماسٹر اسلامیات میں کر رکھا ہے اس لئے اسلامی معلومات کی قدرے سمجھ بوجھ ہے ، پھر بھی اگر کہیں کوتاہی و خامی سر زد ہو جائے تو راقم دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہے۔
دورِ حاضر میں جہاں ہر انسان تقلیدی نقطۂ نگاہ سے چیزوں کو دیکھنے اور بلا چوں چرا، اور بغیر کسی رد و کدکے ہر اس چیز کو ’’آبِ حیات‘‘ سمجھ کر پی جانے یا پھر کارِ خیر سمجھ کر دل کی دیواروں پہ سجانے اور عمل کے گلشن میں آبیاری کرنے لگ جاتا ہے جس کی اصل نہ قرآن میں ہے اور نہ ہی احادیثِ رسول ﷺ میں، تو بے اختیار قرآنِ پاک یہ آیت یاد آتی ہے:
مفہوم: اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے دریافت کر لو۔ اس آیت کی رو سے آج ہم کیوں تقلید اور عدمِ تقلید کی دنیامیں پھنس کر اسلام کو سبوتاز کر رہے ہیں۔
ہمیں قرآن کی یہ آیت جس کا مفہوم ہے: اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو! ’’ولا تفرقوا ‘‘ کے ذریعے فرقہ بندی سے روکا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ مذکورہ دونوں سورتوں سے اگر اختلاف کرو گے تو تمہارے درمیان پھوٹ پڑ جائے گی اور الگ الگ فرقوں میں بٹ جاؤ گے چنانچہ فرقہ بندی کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو یہی چیزیں نمایاں ہوکر سامنے آئیں گی۔
قرآن و حدیث کے فہم اور اس کی توضیح و تعبیر میں کچھ ’’اختلاف ‘‘ یہ فرقہ بندی کا سبب نہیں ہے۔ یہ اختلاف تو صحابہ رضی اللہ عنہ و تابعین ؒ کے زریں عہد میں بھی تھا لیکن مسلمان فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہیں ہوئے کیوں کہ ان اختلافات کے باوجود سب کا مرکزِ اطاعت ، محورِ عقیدت ایک ہی تھا اور وہ تھا قرآن، حدیث اور رسول اللہ ﷺ۔
لیکن جب شخصیات کے نام پر دبستانِ فکر معرضِ وجود میں آیا تو اطاعت و عقیدت کے مرکز و محور تبدیل ہونے لگے، اپنی اپنی شخصیات اور ان کے اقوال و اُفکار اوّلین حیثیت کے اور اللہ ، رسول ﷺ اور ان کے فرمودات ثانوی حیثیت کے حامل قرار پائے اور یہیں سے اُمتِ مسلمہ کے افتراق کے المیہ کا آغاز ہوا جو دن بدن بڑھتا ہی چلا گیا اور نہایت مستحکم ہوگیا۔ جو اُمت ’’ آمۃ وسط ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں ارشاد فرمایا ہے۔ مفہوم: ہم نے اس طرح تمہیں عادل اُمت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول اللہ ﷺ تم پر گواہ ہو جائیں اور جس کا کام یہ ہوگا کہ ’’ یا مرون بالمعروف و ینھون عن المنکر‘‘ لیکن آج خود کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور جو اُمت تقسیم ہو چکی ہو اور آپس میں بٹ چکی ہو ، بھائی بھائی کا خونِ ناحق بہا رہا ہو ، قرآنِ پاک اور احادیث کی رو سے وہ کیا خاک گواہی دے گی؟ ایک حدیثِ پاک میں آپ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ’’جب اللہ پیغمبروں سے قیامت والے دن پوچھے گا تم نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچایا تھا وہ اثبات میں جواب دیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہارا کوئی گواہ ہے؟ وہ کہیں گے ہاں! محمد ﷺ اور ان کی اُمت۔ چنانچہ یہ اُمت گواہی دے گی اس لئے ’’وسطا‘‘ کا ترجمہ ابنِ کثیر کی روایت کے مطابق ’’عادل ‘‘ بھی کیا گیا ہے یعنی یہ اُمت معتدل اور افراط و تفریط سے پاک ہوگی۔ ان تمام چیزوں پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو سببِ اختلاف صرف ایک ہے اور وہ ہے قرآن و حدیث سے دوری بنائے رکھنا، آج قرآن شریف گھروں میں جُلدانوں میں سجا نظر آتا ہے ، اس کی تلاوت شاذ و نادر ہی کی جاتی ہے،نماز سے دوری اوّلین امر بنا لیا گیا ہے، پیغامِ محمدیہ ﷺ سے بیزاری برتنا اور صحابۂ کرام کی محبتوں سے عاری ہونا بس۔۔۔
اس لئے عہدِ حاضر میں جس چیز کی سب سے زیادہ اہمیت و ضروت ہے وہ ہے ملّتِ اسلامیہ میں باہمی یگانگت و اخوت، اتحاد و اتفاق، اور مکالمہ بین الفرق کی نہ کہ مناظرہ اور مجادلہ بین المذاہب کی اور یہ بات بھی زہن نشین رہنی چاہیئے کہ کوئی مقصد اس وقت تک حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک ہمارے عقائد میں یکجہتی اور مماثلت نہ ہو۔ اس لئے سیدھا سادہ اور قدرتی ذریعۂ نجات پانے کا وہی ہے جس کی طرف رحمت اللعالمین ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے۔ پھر یہ ہماری کیسی ناعاقبت اندیشی ہے کہ ہم ایک قوم، ایک مذہب، ایک قرآن ، ایک پیغمبر اور ایک اللہ ذوالجلال پر ایمان رکھتے ہوئے بھی معمولی معمولی باتوں اور جُزئیات اعمال میں الجھ کر بنیادی مقاصد دین سے بعید تر ہو گئے ۔ بقول شاعرِمشرق علامہ محمد اقبال ؒ :
حرمِ پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
دورِ حاضر میں جو فقہی اختلافات ہمارے دلوں میں گھر کر چکے ہیں۔ اگر ان فقہی مسائل کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب بھی کسی مسئلہ میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث مختلف ہوتی تو اقوالِ صحابہؓ میں تلاش کیا جاتا ، نہ ملتا تو تابعین کے اقوال میں اگر یہاں بھی پیاس نہ بجھتی ، تو پھر آگے بڑھ کر تبع تابعین اور اقوالِ سلف میں تلاش و جستجو کے میدان کو آگے بڑھایا جاتا پھر بعد کے اَدوار میں ایسے لوگ پیدا ہوئے اور ہوتے رہیں گے جنہوں نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کرتے ہوئے علم کے دریا بہا دیئے۔ان چند لوگوں میں قابلِ ذکر سعید بن المسیب ؒ ، ابراہیم نخفی ؒ ، امام زہری ؒ ، امام مالک ؒ ، سفیان بن عیینہ ؒ ، امام شعبی ؒ ، عبد الرحمٰن بن مہدیؒ ، یحییٰ بن سعید القطان ؒ ، یزید بن ہارون ؒ ، عبد الرزاق ؒ ابو بکر بن منبہ ؒ ، احمد بن حنبل ؒ ، اسحاق بن راہو ؒ ، فضل بن وکین ؒ ، محمد بن ادریس المعروف امام شافعی ؒ ، نعمان بن ثابت المعروف امام ابو حنیفہ ؒ وغیرہم ہیں جن کے علم و عمل، زہد و تقویٰ ، فہم و فراست کا چہار دانگِ عالم میں چرچا رہا اور ہے۔
اختتامِ کلام بس اتنا کہ ایسی کئی مثالیں شریعت کے نام پر اسلام کے اندر موجود ہیں جو صحیح احادیث سے معارض و متصادم ہیں اب جب کہ اللہ رب العزت نے حدیث کے حاملین کی ایک بڑی تعداد ایسی پیدا فرما دی ہے جنہوں نے غلط، صحیح، قوی، ضعیف، منقطع، غیر منقطع، متصل، مفصل، حسن، غیر حسن، غریب، شاذ وغیرہ کو چھان پھٹک کر لوگوں کے سامنے پیش کر دیا ہے تو ہم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صحیح احادیث پر عمل کرتے ہوئے فقہی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ اختلافات سے اوپر اُٹھ کر چھوٹی بڑی تمام مسلم جماعتیں اطاعت کریں اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کے نطقہ پر غور و فکر کریں:بقول شاعر؛
یہ جو میکدہ کا نظام ہے اسے میں بدل کے بھی کیا کروں
یہ جو مست ہیں اِسی حال میں اُنہیں ہوش آئے تو بات ہو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button