امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

ہائے مہنگائی ،ہائے ملاوٹ

imtiaz shakirمہنگائی اور ملاوٹ جہاں غریبوں کے لئے ہلاکت ہے ونہی امیروں کے لئے بھی وبال جان بن چکی ہے ۔کوئی کتنی بھی کوشش کرلے مہنگائی اور ملاوٹ سے جان چھوٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے ۔زیادہ آمدنی والے افراد کو مہنگائی کم اور ملاوٹ زیادہ پریشان کررہی ہے ۔ایک تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ہر سال 40ہزار بچے پیدائشی طور پر دل کی بیماریوں میں مبتلاہوجاتے ہیں۔جن کا پیدائش کے بعد ایک ماہ کے اندر آپریشن کرنا اُن کی زندگی کیلئے ضروری ہے ۔اگر والدین ملاوٹ زدہ غذا کھائیں گے تو کیا پیدا ہونے والے بچے صحت مند پیداہونگے ؟یقینابیماریاں والدین کے ساتھ ساتھ اُن کے بچوں کو بھی اپنی آغوش میں لے کرموت کی میٹھی نیند سلانے کی کوشش کریں گی اور علاج کی طرف آئین گے تو مہنگائی کا جن بڑا سا منہ کھولے ابن آدم کو چبانے کیلئے بیتاب نظر آتاہے ۔فروری کے تیسرے مہینے کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ہفتے مہنگائی میں 0.61فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ۔مرغی،کیلا،انڈا،گھی،پیاز،مسورکی دال،تیل،چائے،گیس ،دودھ ،دہی سمیت تمام ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مزدور کی آمدنی میں کہیں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔مہنگائی اور ملاوٹ کا چولی دامن کا ساتھ ہے جب جب مہنگائی بڑے گی زیادہ منافع کمانے کی غرض سے ملاوٹ بڑھتی جائے گی ۔ میرے خیال میں ملاوٹ مہنگائی سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔جسمانی صحت کیلئے ضروری ہے کہ انسان جو غذائیں کھائے ،پیئے وہ ناقص ۔،ملاوٹ زدہ ، مضر،جلی ہوئی،کچی ،اتنی باسی کے بدبودار ہوجائیں اور بدذائقہ نہ ہوں بلکہ صاف ستھری ، عمدہ اور جسم کی ضرووت کے مطابق تعداد میں ہوں تاکہ جسم کو پوری توانائی میسر آسکے۔آج انسان جسمانی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لئے حد سے زیادہ فکر مند ہے ۔اپنے جسم کو آرام و سکون فراہم کرنے کیلئے ہم اپنے روحانی سکون کو تباہ کرچکے ہیں ۔ہروقت جسم کی فکر میں زیادہ کمانے کی کوشش میں ایک دوسرے کو ملاوٹ زدہ اشیاء فروخت کرکے ہم نے جسم و روح دونوں کی صحت کو تار تار کررکھا ہے ۔آج معاشرے میں عام پائے جانے والا لالچ،حسد،حرس،تکبر ،زر ،زمین اور دولت کے ساتھ حد سے زیادہ محبت نہ تو جسمانی صحت کیلئے اچھا ہے اور نہ ہی روحانی صحت کیلئے جبکہ انسان کے جسم و روح کی بہترین غذائیں جن میں ایمان،خلوص ،ایک دوسرے سے محبت ،اور سب سے بڑ کر اللہ تعالیٰ کی یاد آج مسلمان معاشرے میں بھی ناپید ہوتی جارہی ہیں ۔اللہ تعالیٰ قرآن قریم میں فرماتا ہے کہ’’بلکہ ان کے دلوں پر زنگ ہے ان کے گناہوں کے سبب ‘‘نبی کریمؐ کا فرمان عالیٰ شان ہے کہ ’’جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگ جاتا ہے ۔پھر جب وہ توبہ استغفار کرتا ہے تواس کا دل صاف ہوجاتا ہے لیکن جب وہ پھر گنا ہ کرتا رہتا ہے تو وہ سیاہ داغ پھیل کر سارے دل پر چھا جاتا ہے پس یہ ہے زنگ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن قریم میں فرمایا ہے ‘‘ہماری دنیاوی ملاوٹ نے نہ صرف ہمارا دنیاوی سکون و راحت چھین لیا ہے بلکہ اس بے ایمانی نے ہمارے دلوں کو بھی سیاہ داغ بنا دیا ہے ۔اگر یوں کہا جائے کہ جب ہم کسی کھانے پینے کی چیز میں ملاوٹ کرتے ہیں تو اپنے اوردوسروں کے جسم و روح کو بیمار تو کرتے ہی ہیں اُس کے ساتھ ساتھ بارگاہ الٰہی سے بھی ردکردئیے جاتے ہیں۔یعنی ہماری صرف ایک ملاوٹ جو وقتی طور پر بہت فائدہ مند لگتی ہے سوائے خسارے کے کچھ نہیں۔ میری نظر میں کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنے والا بھی بہت بڑا ظالم ہے ،کسی شخص پر تشدد کرنے والا ظالم تو صرف ایک فرد پر ظلم کرتا ہے لیکن کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنے والا پورے معاشرے کی رگوں میں زہر گھول دیتا ہے ۔ہر ظالم اپنے ظلم کو چھوٹا اور کم تصور کرتا ہے یہی وجہ ہے جو ظالم کے ظلم کو تما م حدو دسے تجاوز کرنے پر اُکساتی ہے ۔گوالا دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرتے وقت اپنے آپ کو مخاطب کرکے یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ دودھ میں پانی کی ملاوٹ کرنا غلط ہی نہیں بلکہ گناہ بھی ہے ،ابھی گوالے کے اندر کا اچھاانسان دودھ میں پانی کی ملاوٹ نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کرپاتا کہ اندرکا طاقتورظالم،لالچی ،حرسی،خبیث شیطان فورا سینکڑوں دلیلوں کے ساتھ حملہ کردیتا ہے ۔دودھ میں پانی نہیں ڈالوگے توجانوروں کامہنگا چارہ کہاں سے خریدوگے؟گاڑی خراب ہوگئی تو کہاں سے ٹھیک کرواؤگے؟کل مہمان بھی آسکتے ہیں اُن کے کھانے پینے کا انتظام بھی تو کرنا ہے ،کل اگر گھر میں کوئی بیمار پڑگیا توبھیک مانگ کر علاج کرواؤ گے ؟آنے والے دنوں میں دودھ کی ڈیمانڈ بڑجائے گی نئی گائے ،بھینس بھی تو خریدنا ہوگی؟ہاں پرسوں چچا کے بیٹے کو جیل میں ملنے بھی جانا ہے وہاں بھی دوچار ہزار کی ضرورت پڑے گی ؟اس برے انسان کے پاس اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہوتے جو اچھے لیکن کمزور انسان کو زیر کردیتے ہیں اور وہ دودھ میں پانی کی ملاوٹ کردیتا ہے بات یہاں ختم نہیں ہوتی جب گوالا دودھ فروخت کرتا ہے تویہ بُراانسان پھر سے حملہ آوار ہوتا ہے اور اُسے بتاتاہے کہ اگر ایک لیٹر دودھ کے پیسے لے کر تھوڑا کم دو گے تو کسٹمر کو پتا بھی نہیں چلے گا اور تجھے اچھا حاصا فائدہ ہوجائے گا۔قارئین محترم یہ مثال تو میں نے آپ کے سامنے گوالے کے نام سے پیش کی ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں ہر فرد اپنی حیثیت کے مطابق دوسروں کوملاوٹ زدہ اشیاء ناپ تول میں بے ایمانی کے بعد فر

یہ بھی پڑھیں  سانحہ اسلام آباد کے بعد پولیس اور سیکرٹری داخلہ میں آنکھ مچلی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker