شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / اُم المومنین حضرت خدیجۃالکبریٰ ؓ

اُم المومنین حضرت خدیجۃالکبریٰ ؓ

ُُُاُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال اقدس دس رمضان البارک کو پچیس (25)سال کا عرصہ رسالت آبﷺ کے ساتھ گزارنے کے بعد ہجرت کے تین برس قبل 65 سال کی عمر میں مکہ معظمہ میں ہوا۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے دست شفقت سے خود بہ نفس نفیس قبر مبارک (جنت المعلیٰ) میں اتارا۔ اُم المومنین حضرت خدیجۃالکبریٰ کے وصال کے وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہیں آیا تھا اس لئے آپکا نمازہ جنازہ نہیں پڑھا گیا۔
اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زندگی اُمت محمدیہ ﷺ کی بیٹیوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ امت محمدیہ ﷺ کی بیٹیاں اماں حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی زندگی کا ایک ایک پہلو کو اگر سمجھ کر اپنی زندگی کا اُوڑھنا بچھونا یعنی مقصد حیات بنا لیں اور اس پر عمل شروع کر دیں تو دنیا اور آخرت کی کامیابی اُمت محمدیہ ﷺ کی بیٹیوں کے نام ہو جائے گی۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے شادی سے لیکر اس دنیا فانی سے کوچ کرنے تک پچیس سال رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کے ساتھ گزارے۔ اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہمیشہ مخلصانہ فکر مندی، چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال،ہمیشہ خوش گوار استقبال، پرشانیوں اور دکھوں کے لمحوں میں بوجھ بڑھانے کی بجائے، مضبوطی کے ساتھ حوصلہ بڑھانا اور ساتھ دینا اور امید دلانا کہ شوہر کے مشن کو اپنا مشن تصور کرنا، اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شوہر کی جذباتی و نفسیاتی ضرورتوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سمجھنا حالانکہ عمر کے فرق کے باوجود آپﷺ اور اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے درمیان ایک بھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔سبحان اللہ!
تاریخ گواہ ہے۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا دولت و ثروت میں بھی اعلیٰ مقام رکھتی تھی اور حسن صورت اور حسین سیرت میں بھی آپ کا مقام و درجہ اعلیٰ و بالا تھا۔زمانہ جاہلیت میں بھی آپ کو طاہرہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ جو بہت بڑے اعزاز کی بات تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے تاجر نامور سرداروں نے آپ سے نکاح کے پیغام دیئے مگر آپ نے سب کے سب رد کر دیئے۔ زمانہ جاہلییت میں کسی خاتون کامکہ کے عرب میں طاہرہ کے لقب سے مشہور ہونا۔ جہاں ایک اعزاز کی بات ہے وہاں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آپ اسلام سے قبل بھی پاک دامن اور طاہرہ و صدیقہ تھی۔آپ کی عمر مبارک چالیس سال تھیں جبکہ حضور اکرمﷺ کی عمر مبارکہ پچیس سال تھی جس وقت آپ نبی مہربانﷺ کے عقد نکاح میں آئیں۔حضرت ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور پانچ سو درم کے برابر سونا حق مہر مقرر ہوا۔اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لازم تکریم و لائق تعظیم خاتون تھیں۔آپ کی زندگی حضور نبی غفور ﷺکے نور سے سب سے پہلے منور ہوئی۔ آپ نے خواتین میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ کو حضور کریم ﷺکے ساتھ سب سے پہلے خواتین میں نماز وضو سیکھنے کی فضیلت حاصل ہوئی۔
اسلام کے ابتدائی دور میں جب ہر طرف دشمنی کا طوفان کھڑا ہوا، ہرطرف سے تاجدار مدینہ سرور سینہ نبیﷺسے بغض حسد کینہ اور مخالفت برائے مخالفت ہو رہی تھی ایک آپ اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھی جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں مونس حیات بن کر آپ کا ساتھ بھی دیا۔ حوصلہ بھی دیا۔ آپ نے ایسے خوفناک اور خطرناک حالات میں استقلال اور استقامت کے ساتھ آپ ﷺ کے شانہ بشانہ کھڑی رہ کر اپنا تن، اپنا من، اپنا دھن، سب کچھ دربار رسالت ﷺ میں قربان کر کے اہل کفار کا مقابلہ کیا ایک بار اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دریافت کرنے پر آقا دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا۔۔ اللہ کی قسم خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی،جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا آپ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں،اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے۔ اُس وقت اُنہوں نے میری تصدیق کیاور جب لوگ مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہیں تھے، اُس وقت حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنا سارا مال مجھے پیش کر دیا۔ اور حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اولاد عطا فرمائی جن میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔
اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی حیات مقدس کا اگر بخوبی اندازہ لگایا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آپ شروع سے ہی رسالت مآب و کی مزاج شناس تھیں، جب حضور اکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو آپﷺ غار حرا سے واپس لوٹنے کے بعد سارا واقعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو من و عن سنایا تو آپ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا، آپ سچ فرماتے ہیں۔غریبوں کی دستگیری کرتے ہیں،مہمان نواز ہیں،صلہ رحمی کرتے ہیں، امانت گزار ہیں،دکھیوں کے خبر گیر ہیں،اللہ تعالیٰ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا اُم المومنین حضرت خدیجۃالکبریٰ کا مقام اور اللہ کے نبیﷺ میں آپ کی حب کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے اُم المومنین حضرت خدیجۃالکبریٰ کو دنیا میں جنت کا انگور کھلایا تھا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روات ہے کہ حضور نبی آخر الزماں ﷺ اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دنیا فانی سے بچھڑنے کے بعد جب آپ گھر سے باہر جاتے تو کافی دیر تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تعریف کرتے رہتے اسی طرح جب گھر واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے اور کافی دیر تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تعریف کرتے۔
آپ ﷺ کی اُم المومنین حضرت خدیجہ ضی اللہ عنہا سے بے حد محبت تھی۔اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فات کے بعد جب بھی قربانی کرتے توقربانی کا گوشت سب سے پہلیحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے رشتے داروں اور سہلیوں کے گھر بھیجتے۔ آپکے مقام کو اللہ اور اللہ تعالی کا رسولﷺ ہی بہتر جانتے ہیں ایک حدیث بخاری شریف کا حوالہ دیکر آپ سے اجازت چاہونگا۔ االلہ ایسے انعام یافتہ ہیں لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے آمین بخاری شریف میں لکھا ہے کہ ”ایک بار حضرت جبرائیل امین علیہ اسلام نے حضرت محمد ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کھانے کا ایک برتن لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہی ہیں۔ جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو آپ ان سے ان کے رب کا اور میرا سلام فرمائیں۔ اور ان کو جنت میں موتی کے ایک عالیشان محل کی خوشخبری سنادیں۔جس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی تکلیف ہوگی۔یعنی یہ اعزاز بھی اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہے کہ دنیا میں ہی جنتی پھل کھانے اور دنیا میں ہی جنتی محل دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔

یہ بھی پڑھیں  سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا دورہ پاکستان ملتوی