پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

ہزاروں ہی شکوے ہیں

riffat-mazharجب چوہدری ذکاء اشرف کی چیئرمینی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی نظر کھا گئی تو جنابِ وزیرِ اعظم کی نگاہِ انتخاب نجم سیٹھی پر پڑی اور اُنہیں کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ذکاء اشرف دہائی دیتے ہائی کورٹ چلے گئے اور جب بحال ہو کر لَوٹے تو سیٹھی صاحب کی چیئرمینی کی چڑیا پھُر سے اُڑ کر چوہدری ذکاء اشرف کے کندھے پر جا بیٹھی ۔پھر ایسی بادِ سموم چلی کہ ذکاء صاحب کی چیئرمینی کا چمن ایک مرتبہ پھر اُجڑ گیا اور چڑیا بوستانِ سیٹھی صاحب میں چہچہانے واپس آ گئی ۔کہا تو چوہدری ذکاء اشرف نے یہی تھا کہ اب وہ چیئرمینی کی دَوڑ سے بیزار ہو گئے ہیں لیکن وہ ’’اندرواندری‘‘لگے رہے اور اپنی ’’مٹی پاؤ‘‘ پالیسی کا شور مچاتے مچاتے پھر سے بحال ہو گئے ۔نجم سیٹھی صاحب کو چوہدری صاحب کی اِس بحالی پر بہت ’’وَٹ‘‘ چڑھا کیونکہ بَد خواہوں نے بغلیں بجاتے ہوئے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ’’بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے ‘‘ ۔سیٹھی صاحب کی اِس بیقراری کو بھانپتے ہوئے اُنہیں ’’اونچے ایوانوں‘‘ کی طرف سے تسلی دے دی گئی اور بین الصوبائی رابطے کی وزارت نے ہائی کورٹ کے اِس ’’ظلمِ عظیم‘‘ پر سپریم کورٹ میں نوحہ خوانی شروع کر دی جس سے متاثر ہو کر سپریم کورٹ نے چوہدری ذکاء اشرف کی بہتر گھنٹے کی چیئرمینی کو ’’پھَڑکا‘‘ کے رکھ دیا اور یوں چوہدری صاحب کی چیئرمینی سے محبتّؓت نے اُنہیں بقول میر اُس مقام تک پہنچا دیا کہ
پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اِس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی
سچّی بات تو یہ ہے کہ ہمیں چوہدری ذکاء اشرف ہی پسند تھے کیونکہ وہ جنابِ آصف زرداری کا انتخاب تھے اور ہم سمجھتے ہیں کہ زرداری صاحب کا ’’انتخاب‘‘ کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا ۔اگر کسی کو یقین نہ آئے تو زرداری صاحب کے پانچ سالہ دَورِ حکومت کو دیکھ لے ، یقین کیے بنا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔دوسری طرف سبھی جانتے ہیں نجم سیٹھی صاحب کو اُن 35 پنکچروں کی بدولت چیئرمینی ملی جن کا تذکرہ ہمارے کپتان صاحب بار بار کر رہے ہیں۔یہ 35 پنکچر قوم کو بہت کنفیوز کر رہے ہیں ۔میری ایک جاننے والی نے پوچھا ’’باجی! یہ ہر ٹی وی چینل پرہر روز 35 پنکچروں کاشور مچا ہوتا ہے ، کیا ٹی وی والوں نے پنکچروں کی دوکانیں کھول لی ہیں ؟‘‘۔میں نے مُسکرا کر کہا ’’نہیں ، در اصل نواز لیگ پر الزام آتا ہے کہ اُس نے الیکشن 2013ء میں نجم سیٹھی کے ذریعے دھاندلی کرکے تحریکِ انصاف کے 35 اُمیدواروں کو ہرا دیا ہے ‘‘۔وہ بولی ’’اچھّا ! اب سمجھی کہ نجم سیٹھی صاحب نے تحریکِ انصاف کے 35 اُمیدواروں کی ’’پھُوک‘‘ نکال دی ‘‘۔میں نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ نجم سیٹھی نے نواز لیگ کے 35پنکچر اُمیدواروں کو پنکچر لگا کر جتوا دیا ہو ۔
میری جاننے والی تو چلی گئی لیکن بات پتے کی کر گئی کہ ’’کیا ٹی وی والوں نے پنکچروں کی دوکانیں کھول لی ہیں؟ ‘‘۔اُس نے جو بات کہی وہ ’’بات تو سَچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘۔ ہمارے نیوز چینلز کا حُسنِ کرشمہ ساز جو چاہے کر سکتا ہے ۔خاک کو عالمِ پاک میں ڈھالنا اُن کے بائیں ہاتھ کا کھیل ، شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنانے کے ماہراور پگڑیاں اچھالنے میں اُن کا کوئی ثانی نہیں ۔وہ جب اور جسے چاہیں کئی کئی گھنٹے کی ’’لائیو کوریج‘‘ دے کر آسمان کی رفعتوں تک پہنچا دیں اور جسے چاہیں ’’غضب کرپشن کی عجب کہانیاں ‘‘ سُنا سُنا کر برباد کر دیں ۔ایک نیوز چینل کا اپنے ’’مَن بھاتے‘‘ کپتان صاحب سے آجکل ’’پھَڈا‘‘ چل رہا ہے ۔یہ وہی نیوز چینل ہے جس نے الیکشن کے دنوں میں تحریکِ انصاف کو 376 منٹ اور نواز لیگ کو 336 منٹ کوریج دی اورکپتان صاحب کے گِر کر زخمی ہونے پر 167 منٹ جو دیگر نیوز چینلز سے کہیں زیادہ تھی ، وہی نیوز چینل آجکل خاں صاحب کے خلاف اپنی تمامتر توانائیاں صرف کر رہا ہے اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے اُن کے بیانات پر مشتمل ایسی ’’ویڈیوز‘‘ نکال کر نَشر کرتا جا رہا ہے جس سے ہم ’’سونامیوں‘‘ کا حَشر نَشر ہو رہا ۔اُدھر ہمارے کپتان صاحب بھی عجیب ہیں کہ ’’ایویں خوامخواہ‘‘ اُس چینل سے پھَڈا لے بیٹھے ۔پتہ نہیں اُنہیں یہ اعلان کرنے کا کِس ’’حکیم‘‘ نے مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی نیوز کانفرنس میں اُس چینل کے خلاف ثبوتوں کے ’’ٹوکرے‘‘ بھَر کر لائیں گے ۔لیکن جب کپتان صاحب نیوز کانفرنس کرنے بیٹھے تو اُن کی ’’پٹاری‘‘ سے کچھ بھی نہ نکلااور ایک دوسرا چینل جو ثبوت ملنے کی خوشی میں ’’ڈَنڈ بیٹھکیں‘‘ لگا رہا تھا ، اُس بیچارے کا معاملہ بھی ٹائیں ٹائیں فِش ہو گیا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ سارا قصور خاں صاحب کے اُن ’’صلاح کاروں‘‘ کا ہے جو اُنہیں اُلٹی پٹیاں پڑھاتے رہتے ہیں اور وقت آنے پر صاف مُکر بھی جاتے ہیں ۔خاں صاحب نے میاں نواز شریف کی ’’وِکٹری سپیچ‘‘ کے بارے میں یہ فرمایا کہ اُس نیوز چینل نے سب سے پہلے میاں صاحب کی وِکٹری سپیچ کروا کر دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ۔یہ وِکٹری سپیچ دراصل ریٹرننگ آفیسرز کے لئے پیغام تھا کہ میاں صاحب کو اتنی سیٹیں ضرور مل جانی چاہییں جن سے وہ کسی کی مدد کے بغیر حکومت بنا سکیں۔خاں صاحب کے اِس اعتراض پر ’’نون لیگیئے‘‘یہ کہتے ہیں کہ اگر ریٹرننگ آفیسرز اتنے ہی میاں برادران کے قبضۂ قدرت میں تھے تو اُنہیں پہلے ہی یہ ہدایات جاری کر دی جاتیں ، ٹی وی پر آ کر سب کے سامنے کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس چینل کے خلاف آجکل خاں صاحب آگ اُگل رہے ہیں ، اُس چینل نے یہ وکٹری سپیچ سب سے پہلے نہیں کروائی ۔یہی بات جب محترمہ شیریں مزاری صاحبہ سے پوچھی گئی تو اُنہوں نے صاف مُکرتے ہوئے کہا کہ ایسی تو کوئی بات ہی نہیں۔خاں صاحب نے الزام لگایا کہ نجم سیٹھی کی وجہ سے اُس چینل کو سری لنکا کے خلاف سیریز کے نشریاتی حقوق دیئے گئے لیکن بڈنگ کمیٹی کے ہیڈ ، احسان مانی ، جو شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے ممبر اور آڈٹ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں ، اُنہوں نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ ’’بڈنگ‘‘ میں کسی قسم کی کوئی دھاندلی نہیں ہوئی اور نشریاتی حقوق انتہائی دیانتداری سے دیئے گئے ۔کپتان صاحب نے یہ الزام بھی لگایا کہ اُس نیوز چینل نے گیارہ بج کر بیس منٹ پر میاں صاحب کی وِکٹری سپیچ کرا دی جو کہ نا مناسب اور کھلی دھاندلی تھی ۔اب جبکہ تمام ٹی وی چینلز نے نارووال کے حلقہ پی پی 136 کے ضمنی انتخاب کا رات ساڑھے سات بجے ہی نواز لیگ کے اُمیدوار کی فتح کا اعلان کر دیا تو کسی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی ۔سچ تو یہی ہے کہ انتخابات 2013ء کے ہنگام ہمارے کپتان صاحب تو ہسپتال میں داخل تھے اور یہ سب کیا دھرا اُن کے صلاح کاروں کا ہے کہ جنہوں نے جو کچھ بتلایا، خاں صاحب نے وہی سچ جانا ۔اگر خاں صاحب ہمیں اپنا مشیرِ خصوصی مقرر کر لیتے تو ہم یقیناََ کوئی ایسا چکر چلاتے کہ ہمارے دو تہائی امید وار بِلا مقابلہ ہی منتخب ہو جاتے کیونکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ ’’دھاندلے ‘‘ کرنے والی نواز لیگ تو سیدھے ہاتھوں ہمیں ایک صدی بعد بھی جیتنے نہیں دے گی ۔افسوس کہ تحریکِ انصاف نے ہماری خدمات سے استفادہ نہیں کیا اور اب ’’اب پچھتائے کیا ہوت ، جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت‘‘۔ہم نے تو تحریکِ انصاف کی خاطر پرویز مشرف صاحب کو سمجھانے کی بھی بہت کوشش کی لیکن وہ تو تھا ہی فاشسٹ۔لوگ کہتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ سے ’’پنگا‘‘ لینے کی وجہ سے پرویز مشرف کو یہ دن دیکھنے پڑے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اُن کا زوال تو اُسی وقت شروع ہو گیا تھا جب وہ اپنے وعدے سے مُکر گئے اور کپتان صاحب کی جگہ میر ظفر اللہ جمالی کو وزیرِ اعظم بنا دیا ۔اگر پرویز مشرف صاحب یہ غلطی نہ کرتے تو وہ آج بھی صدر ہوتے اور ہمارے عظیم خان صاحب وزیرِ اعظم ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!