تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں

حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا غلام روزانہ اپنی کمائی سے کھانے کا سامان لے کر آتا وہ خود تو کھا لیتا مگر آپؓ اس وقت تک نہ کھاتے جب تک یہ تسلی نہ کر لیتے کہ کہاں سے اور کس طرح سے کمایا ہے۔ایک دن ایسا اتفاق ہو ا کہ غلام کھانا لایا مگر آپ نے خلاف معمول بغیر دریافت فرمائے ایک لقمہ اُٹھا کر کھا لیا تو غلام کہنے لگا آپ ہمیشہ مجھ سے پوچھا کرتے تھے مگر آج کیا ہوا کہ دریافت نہیں فرمایا ارشاد فرمایا بھوک کی جلدی میں ایسا ہو گیا ہے مگر اب تو ضرور بتاؤ کہ کہاں سے کما کر لائے ہو وہ بولا میں نے جاہلیت میں کچھ لوگوں پر دم کیا تھا اور انہوں نے مجھے کچھ دینے کا وعدہ کر رکھا تھا ۔آج میں نے ان کے ہاں شادی کی تقریب دیکھ کر انہیں وعدہ یاد دلایا جس پر یہ کھانا مجھے ملا ۔حضرت ابو بکرؓ یہ سن کر اناللہ وانا الہ راجعون پڑھنے لگے۔اور قے کرنے کی کوشش کی۔سو جتن کیے اور مشقت اُٹھائی کہ کسی طرح وہ لقمہ پیٹ سے نکل جائے مگر بھوکے پیٹ میں ایک لقمے کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔قے کرتے کرتے چہرے کا رنگ سیاہ و سبز ہو گیا مگر قے نہ ہو سکی۔حتیٰ کہ بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ پیالہ پانی کا پیو تو شاید کامیابی ہو سکے۔چنانچہ ایک مشک پانی کی لائی گئی جسے پی پی کرقے پر قے کرتے رہے حتیٰ کہ وہ لقمہ باہر نکال دیا۔لوگوں نے کہا کیا اس لقمے کے لیے اتنی مشقت اُٹھائی ہے ۔ ارشاد فرمایا میں نے رسول ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ہر ایسے جسم پر حرام کیا ہے جس کی غذا حرام ہو۔
یہ تو تھے اللہ تعالیٰ کے نیک اور پرہیزگار بندے جنہیں حرام چیزوں سے سخت نفرت تھی جسے وہ اپنے لیے زہر قاتل تصور کرتے تھے ۔انہیں معلوم تھا کہ ایک حرام کا لقمہ کھانے سے ساری عبادت غارت ہو جائے گی اور اندر جنم لینے والی روحانیت برباد ہو کر رہ جائے گی ۔اس دور میں بھی چند ایک اللہ تعالیٰ کے نیک بندے موجود ہیں جو کسی حرام خور کے گھر کے پانی کا گھونٹ بھی نہیں پیتے۔مگر بہت سوں کو حرام خوری کی عادت نے آن لیا ہے۔آج کل جتنا بڑا رشوت خور ،بدعنوان اور حرام خور ملازم ،آفیسر تاجر یا زمیندار ہے جب کبھی ان کے گھروں میں روحانی محفلیں سجتی ہیں تو پھر خوفناک منظر دیکھنے والا ہوتا ہے۔لمبی چوڑی تقاریر ہوتی ہیں،نعتوں کا لامتناہی سلسلہ چلتا ہے ۔قرآن پاک کی تلاوتوں سے پورا محلہ گونج اُٹھتا ہے اور اختتام پر کھانے پینے کا لمبا چوڑا انتظام ہوتا ہے ۔مختلف قسم کی ڈشیں ہوتی ہیں۔یعنی کہ مرغن غذائیں اور لذیذ کھانوں سے ہال بھرا پڑا ہوتا ہے لیکن بد نظمی سے ساری کی ساری محفل میں غدر مچ جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو پچھاڑتے ،غٹر غوں کرتے ہوئے مولوی کھانوں پر اس طرح جھپٹتے ہیں جیسے جانور۔ اس وقت لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ جس گھر میں مزے اڑا رہے ہیں وہ ایک راشی کا گھر ہے جو ہم جیسے شہریوں کی جیبو ں کو نقب لگا تا ہے اور دولت اکٹھی کر کے اپنے گھر کو دوزخ کی بھٹیوں سے مزین کرتا ہے۔
اس وقت بد نظمی کا سلسلہ انتہا کو چھو رہا ہوتا ہے۔مولوی اور اس کے ساتھ آئے ہوئے مدرسے کے شاگرد ان کے درمیان جنگ سی چھڑ جاتی ہے۔احترام کی حدیں پھلانگتے ہوئے شاگرد شوربے سے اپنے مولویوں کو لہولہان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہی مولوی جب منبر پر تقریر کر رہے ہوتے ہیں تو ایک حرام کا لقمہ کھانے والے کو جہنمی قرار دے رہے ہوتے ہیں لیکن جب وہ ایسے حرام خوروں کی محفلوں میں براجمان ہوتے ہیں تو بعد از طعام لنگر ان کی بھلائی اور بخشش کے لیے نہ ختم ہونے والی دعاؤں کا سلسلہ دراز ہوتا جاتا ہے۔جتنا کوئی بڑا حرام خور ہو گا اتنی لمبی چوڑی اس کے لیے دعائیں ہوں گی۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے مولویوں کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔چونکہ ایک لقمہ حرام کھانے سے چالیس دن تک دعا قبول نہیں ہوتی اور یہاں سینکڑوں لقمے روزانہ پیٹ کے دوزخ میں انڈیلے جاتے ہوں وہاں کئی سالوں تک دعا قبول نہیں ہوتی بلکہ وہ راستے میں اٹک کر رہ جاتی ہے۔منبر پر کھڑے ہو کر ہم نمازیوں کو لقمہ حرام کے بد اثرات بتانے والے جب خود ہی حرام خوروں ،بد قماشوں بھتہ خوروں ،بدعنوان ٹھیکیداروں ،حرام خور تاجروں اور رشوت خور ملازموں اور افسروں کی روحانی محفلوں کو چار چاند لگا کر حرام خوری کے مرتکب ہوں گے تو معاشرے میں بہتری کی امید کیسے رکھیں گے۔
یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ حکمرانوں کے خلاف لمبی لمبی بد دعائیں کرانے والے مولوی انہی کے گھروں میں میلاد اور روحانی محفلیں سجا کر پیٹ کی آگ بجھانے نہیں بلکہ اندر جلانے کے لیے کلف لگا کر بڑے طمطراق سے شرکت کرتے ہیں اور پھر صرف اکیلے ہی نہیں اپنے نامور ساتھی مولویوں اور نعت خوانوں کو بھی ہمراہ لیے جاتے ہیں۔میری گناہ گار آنکھوں نے یہ بھی منظر دیکھا ہے کہ جس رشوت خور کے گھر میں محفل سج رہی ہوتی ہے وہاں نعتیں پڑھنے والے اور قوالوں پر نوٹوں کی بارش ہوتی ہے۔یہ وہ نوٹ ہوتے ہیں جو مظلوموں کی جیبوں سے نکالے ہوتے ہیں اور یہ احترام بھی بھول جاتے ہیں کہ ان نوٹوں پر ہمارے قائد محمد علی جناح کی تصویر اور گورنر اسٹیٹ بنک کا نام کندہ ہے یہ ہمارے قدموں تلے روندا جا رہا ہے ۔خدارا باز آؤ ۔ایسے میلادوں اور روحانی محفلوں سے جہاں دوزخ کی آگ کہیں ہم سب کو جلا کر راکھ نہ کر دے۔ہمارے ہاں آج کتنے جعلی عامل،کامل،پیر،فقیر جو سادہ لوح شہریوں سے دموں ،ٹونوں اور تعویزوں کے بدلے ہزاروں روپے بٹور رہے ہیں اور دوزخ خرید رہے ہیں ۔لگتا ہے کہ ہم پھر ہزاروں سال پیچھے جہالت کے دور میں جا پہنچے ہیں جہاں کاہنوں کے ڈیروں پر سائلوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے کی بجائے کاہنوں ،عاملوں اور منجموں سے کچھ لینے کے لیے ان کے قدموں میں سارا سارا دن سجدہ ریز ہوئے رہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں  آئندہ 24 گھنٹوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker