ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

جان ہے تو جہا ن ہے

عر ش وا لے میری تو قیر سلا مت رکھنا فرش کے سا رے (جھوٹے )خدا ؤ ں سے الجھ بیٹھا ہوں
پاکستان کے 90 فیصد ڈا کٹر ز کر پٹ ہیں پا کستان کے 95 فیصد سیاست دان کر پٹ ہیں پاکستان کے 85 فیصد بیورو کریٹ کرپٹ ہیں پا کستان کے 96 فیصد وکلاء کر پٹ ہیں پاکستان کے 97 فیصد پولیس آفیسران کرپٹ ہیں پا کستان کے 50 فیصد صحافی کر پٹ ہیں پا کستان کے 80 فیصد بز نس مین کرپٹ ہیں پاکستا ن کے 99 فیصد عوام کرپٹ ہیں اداروں کا نظم و نسق بگڑا ہو ا ہے کسی بھی ملک کے اندر تعلیم اور صحت کا شعبہ بنیا دی طور پر اس کی تر قی اور خو شحالی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے ہما رے ملک کی بد قسمتی ہے کہ یہا ں ہر شعبہ میں نان پر وفیشنل اور غیر سنجیدہ افراد کے وجود سے پستی اور تنزلی کی سی صورتحال بر پا ہے حکمرانو ں کی مراعا ت بڑھا نے ، ان کے ٹی اے ڈی اے بل میں اضا فہ کر نے اور انہیں دنیا کی تمام تر سہولیا ت مہیا کرنے اور ان کی خواہشات کی تکمیل اور سکون و آرام کے لیے تو تمام کے تمام فنڈز اور روپے بے دریغ خرچ کیے جا تے ہیں لیکن تعلیم اور صحت کے شعبے میں پھو نک پھونک کے قدم رکھے جا تے ہیں وزیر اعظم ، وزراء اور مشیر وں سمیت اعلیٰ آ فیسران اپنی تمنا ؤ ں اور خو ابو ں کی تکمیل کی خا طر تمام تر وسائل بر وئے کا ر لا تے ہیں لیکن کسی غریب کے بچے اور بچیو ں کے لیے سستی ، معیا ری تعلیم اور صحت کی سہولیا ت کے لیے بیسیو ں مشکلا ت اور رکا وٹو ں سے گزرنا پڑتا ہے ایک صحت مند ذہن ایک صحت مند جسم میں پر ورش پا تا ہے جب اچھی صحت ہی موجود نہ ہو گی تو صحت مند ذہن اور صحت مند سوچ پروان کیسے چڑھے گی ؟ پیشتر ڈا کٹر ز فا رما کمپنیو ں کے ساتھ مل کر مر یضو ں کو لو ٹتے ہیں ۔ لیڈی ڈا کٹر ز حا ملہ عورتو ں کے جان بو جھ کر آپر یشن کر تی ہیں تا کہ زیا دہ پیسے بنا سکیں جہا ں نارمل ڈلیوری میں 2000 یا 3000 ہزار خرچ آتا ہے وہا ں آپر یشن پر 20000 یا 30000 تک با ت جا پہنچتی ہے حا ملہ عورتو ں کے قبل ازوقت ڈلیو ری آپریشن سے زبر دست نقصان پہنچتا ہے زچہ اور بچہ دونو ں کی زندگیو ں کو نہ صرف خطرہ لا حق ہو جا تا ہے بلکہ مستقبل میں بھی کئی ایک بیما ریا ں جنم لیتی ہیں یہ مسیحا کے رو پ میں لیڈی ڈا کٹر ز مشکل ترین وقت میں نہ صرف قیمتی جا نو ں سے کھیلتی ہیں بلکہ آنے والا نیا فرد بھی والدین کے لیے ایک بو جھ کی حثیت اختیا ر کر لیتا ہے جس پیشے میں انسانی جا ن سے زیا دہ قیمتی دولت ہو وہا ں انصاف یا لحاظ کا پیمانہ کیسے دیکھا جا سکتا ہے ۔خوا تین میں استعمال ہو نے والی منصوبہ بندی کی ادویا ت سے ان کے جسم میں کئی بیما ریا ں جنم لیتی ہیں جن میں نمایا ں طورپر چہرے کے داغ دھبے ، با نجھ پن ، اٹھراء ، رحم کی خرابی اور بے قا عدگیا ں یہ سا ری بیما ریا ں مل کر ایک صحت مند اور تو انا لڑکی کو بھی عمر کے آخری حصے میں پہنچا دیتی ہیں ۔ ڈا کٹر ز کا کیا کہنا یہ لو گ مستند قانونی ڈا کو ہیں جو غریب ، مجبور اور پر یشانیو ں میں ڈوبی ہو ئی عوام کی زندگیو ں سے آئے روز کھیلتے ہیں ۔ یہ انتہائی معزز پیشہ تھا لیکن نئے ڈا کٹر ز نے اسے گناؤ نا کھیل بنا دیا ہے ۔ ایسے مسیحاؤ ں کے روپ میں انسانی بھیڑیو ں کو بے نقاب کر نے کی ضرورت ہے جو اپنے مقدس پیشے کے ساتھ بے احتیا طی اور بے انصافی برتتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کے ڈسے ہو ئے افراد اکثر یہی دعا اور پنا ہ ما نگتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں کہ اللہ ہمیں ایسے ڈاکٹروں سے بچا ئے رکھے ۔ یہ لو گ مہذب طر یقہ سے مسیحا ؤ ں کے روپ میں عوام کو لوٹ رہے ہیں ایسے افراد کی بد ولت چو رو ں ، ڈا کو ؤں اور کر پٹ سیاستدا نو ں اور ان ظالم ڈا کٹر وں میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ہے میڈ یکل ادویا ت میں شامل آکسیٹو سین انجکشن جو بھینسوں کو دودھ دھونے کے لیے لگا یا جا تا ہے سخت مضر صحت ہے اس سے نہ صرف ہیپا ٹائٹس بلکہ گردے اور مثا نے کے امراض جنم لیتے ہیں اس دودھ کے پینے سے اعضا ء ریسہ دل ، دما غ اور جگر کو زبر دست نقصا ن پہنچتا ہے اور اعضاء شریفہ بھی متا ثر ہو تے ہیں اسی غذا سے نہ صرف بچے اور بچیا ں قبل از وقت با لغ ہوجا تے ہیں بلکہ ان میں سیکس کے حوالہ سے کئی خرابیا ں اور بیما ریا ں پیدا ہو جا تی ہیں ۔ جن جانوروں کو آکسیٹو سین انجکشن لگا یا جا تا ہے ان کا گو شت بھی بیما ری اور نقصان کا با عث بنتا ہے وفا قی و صوبا ئی وزیر صحت کو چا ہیے کہ اس حوا لے سے مو ئثر اقداما ت اٹھا ئیں اور یہ مضر صحت انجکشن جا نوروں میں استعمال سے منع کیا جائے ۔ جو قیمتی جا نو ں کے ضیا ع کا با عث بن سکتا ہے اس انجکشن کے استعمال سے ایک غذا ئیت سے بھرپو ر غذ ا بھی زبر دست خطرے کا با عث بن جاتی ہے ۔ عطا ئی ڈا کٹروں اور حکماء کی بدو لت آج لیبا رٹریاں بھری پڑی ہیں اور مریضو ں کی تعداد میں روز بروز اضا فہ ہو رہا ہے بجا ئے ہسپتا لو ں میں سہولیا ت اور بے جا فنڈز لگا نے کے اگر ان مضر صحت اشیاء جو کہ نقصان اور بیما ری کا با عث بنتی ہیں تدارک کر لیا جا ئے اور غیر مستند حکما ء اور عطائی ڈاکٹر وں پر گر فت کی جا ئے تو بیما ریو ں کا جڑ سے خا تمہ کیا جاسکتا ہے۔ آج سیکس اور قوت باہ بڑھا نے اور طویل وقت گزارنے سے متعلقہ ادویا ت سے کڑوڑوں روپے کما ئے جا رہے ہیں جن کے سا ئیڈ افیکٹس ایسے خطرناک ہیں کہ جن کا علا ج اس دنیا میں کم از کم ممکن نہیں ہے ۔ کشتہ جا ت ، دھا تیں فولا د ، تا نبا ، را نگہ ، کلی ، سونا ، چا ندی ، ہجریا ت ، سم الفار ، شنگرف ، ہڑتال ورقیہ ، پا رہ ، نبا تا ت ، زہر جما ل گھوٹہ ، کچلہ ، خو ردنی زہر جو حکماء اپنی روز مرہ ادویا ت میں استعمال کرتے ہیں زبردست نقصان دہ ہیں ان کے استعمال سے ایسی لا علا ج بیماریا ں جنم لے رہی ہیں کہ جن کا علا ج ممکن ہی نہیں ہے۔ تمام مغربی ادویا ت کا بے جا اور با کثرت استعمال بھی بے حد نقصان کا با عث بنتا ہے ۔ تمام طبیہ کا ل
جز اپنا نا پید اور قدیم زمانہ طریقہ علا ج آگے مختلف افراد میں منتقل کر کے لو گو ں کی مو ت کا سامان مہیا کر رہے ہیں ان کو فلفور بند کر دینا چا ہیے ۔ تمام تر میڈیکل سٹورز پر یہ قانون لا گو کر دیا جا ئے کہ کسی مستند طبیب یا معالج کے مشورہ کے بغیر کبھی بھی کسی کو کوئی دوائی استعمال کر نے کے لیے نہ دیں سٹی را ئیڈ اور نشہ آور ڈرگز پر مکمل طور پر پا بندی ہو نی چا ہیے جب تک کوئی میڈیکل شعبہ سے متعلقہ با علم شخص وزارت صحت میں مقرر نہیں کیا جا تا ہے تو یہ مو ت کا سامان بکتا رہے گا اور پاکستان کے اندر غیر قانونی اور غیر فطر ی طریقہ علا ج چلتا رہے گا۔ کسی ایک شعبہ کا قبلہ درست کرنے کے بعد اسے مثا ل کے طور پر پیش کر نے کے بعد انقلابی سطح پر دوسرے تمام اداروں کی بھی بہتری اور تر قی کے لیے کوششیں کی جا سکتی ہیں جب تک کوئی ایک با اختیا ر شخص یا صاحب اقتدار فرد یہ مثبت قدم نہیں اٹھا ئے گا تو یہ بد نظمی اور بے اصو لی چلتی رہے گی ۔
نغمہ ہا ئے غم کو بھی اے دل غنیمت جا نیے بے صدا ہو جا ئے گا یہ ساز ہستی ایک دن

یہ بھی پڑھیں  گورنر پنجاب نے نئے بلدیاتی نظام کے قانون پر دستخط کر دیئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker