بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے ۔۔۔؟؟؟

سیانے کہا کرتے ہیں کہ جیسا بیج ویسا درخت اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تخم پر گھوڑا باپ پہ بیٹا زیادہ نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔گذشتہ روز ہماری قومی ائیر لائن پی آئی اے کی پرواز جو اسلام آباد سے گلگت جا رہی تھی اس میں گورنر گلگت بلتستان پیر کرم شاہ اور درجنوں وی آئی پیز جن میں سابق جسٹس،ہوم سیکرٹری،چیف سیکیورٹی آفیسر برائے وزیر اعلیٰ سمیت پچاس خوش نصیب مسافر بھی ہمسفر تھے ۔مذکورہ فلائٹ اپنی اڑان سے قبل ایک المناک حادثہ سے بچنا معجزہ سے کم نہیں ،بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ جہاز ابھی رن وے پر ٹیک آف سے قبل سپیڈ کر رہی تھی کہ ٹائر میں آگ لگنے سے ہنگامی طور پر روک لی گئی ۔مسافروں نے چھلانگیں مار کر بڑی مشکل سے جانیں بچائیں۔اللہ کا کرم و فضل رہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔جہاں تک مالی نقصان کا تعلق ہے تو یہ ہمارے آقاؤں کی مہربانی سے شمار کرنا ممکن نہیں۔دنیا بھر کی ائیر لائیز منافع بخش اداروں میں شمار ہو تیں ہیں مگر ہمارے ہاں اس کا الٹ ہے۔ایک پاکستانی نثرادبرطانوی بھائی سے ملاقات کے دوران عجیب انکشاف ہوا کہ بیرون ممالک پاکستانیوں کی جب وطن واپسی ہوتی ہے تو ان کی پہلی ترجیج یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی قومی ائیر لائن میں سفر کریں۔اس جذبہ حب الوطنی سے کیا سلوک ہوتا ہے وہ ملاحظہ کیجئے۔برطانیہ سے آنے والے ہر پاکستانی مسافر کو پہلے چانس پر ٹکٹ دیا جاتا ہے جب کنفرمیشن ہو جاتی ہے اور مسافر جہاز پر سوار ہوتا ہے تو اسے جہاز نصف خالی نظر آتا ہے ۔عملہ سے جب چانس بارے پوچھا جاتا ہے کہ رش بھی نہیں ہے اور آپ لوگ دو ہفتے قبل بک کی جانے والی سیٹ کو چانس پر کیوں رکھتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ وی آئی پیز کے لئے تر جیحی طور پر احتیاطاً ایسا کیا جاتا ہے۔حیران کن فارمولے ہمارے ملک میں آزمائے جا رہے ہیں ۔یقیناًاگر عوام کی شراکت نہ ہو تو کوئی ادارہ ترقی نہیں کر سکتا ۔شراکت اعتماد کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔بد دیانتی اور فریب کے دن واقعی تھوڑے ہوتے ہیں ۔ہر ادارے میں اربوں روپے ماہانہ صرف تنخواہوں کی مد میں خرچ ہو رہے ہیں ۔پروٹوکول ،مراعات اور دیگر اخراجات کا اندازہ ہی نہیں جبکہ نتیجہ صفر نکلنا کس کا جرم ہے اس کا بھی کسی کو علم نہیں۔ریلوے کو دیکھ لیں ،اس کا جع حال کر دیا گیا ہے اس پر اب رونا بھی نہیں آتا کیونکہ رو رو کر بھی کچھ حاصل نہ ہونا اور پھر رونا کیسا؟ محکمہ تعلیم کا یہ حال ہے کہ سکول بھوت بنگلے بنے ہوئے ہیں مگر اصلاحات نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی ہے۔محکمہ صحت کو دیکھیں تو ڈاکٹر کہیں نظر آ بھی جائے تو دوائی نہیں ملتی ۔الغرض ہمارا ہر ادارہ اپنی ساکھ کھو رہا ہے اور بد نام حکومت ہوتی ہے۔ایوب خان نے یہ کیا ،یحیٰ خان وہ کر گیا ،مشرف نے ایسا کر دیا ،بے نظیر ،نواز شریف اور اب زرداری نے یہ کر دیا ہے ۔حالانکہ یہ سب کچھ ہماری پیاری بیوروکریسی کے کارنامے ہیں ۔ہمارے اداروں کو تباہی کے دھانے پر لانے والے یہی لوگ ہیں ۔
اب ہمارے منتظمین نے ناٹکو اور میٹرو بس سروسز کا منصوبہ بنا رکھا ہے ایک اطلاع کے مطابق میٹرو بس سروسز کو روزانہ کئی لاکھ روپے کی پھکی کا پہلے سے تعین کر دیا گیا ہے ۔کیا ایسے حالات میں ملک کہاں ترقی کر سکتا ہے ؟ کس کس کا رونا رویا جائے جہاں آوے کا آوہ ہی بگڑا ہو وہاں کس کی کس منہ سے تعریف کی جائے۔اگر آج صرف ضبط شدہ گاڑیوں ،سرکاری سکریپ اور ہر ادارے میں ضائع ہونے والا فرنیچر نیلام کر دیا جائے تو حکومت کو کھربوں روپے کی آمدن ہو سکتی ہے۔جبکہ ہر ادارے کے ساتھ نا قابل استعمال اراضی کو کمرشل بنیادوں پر تعمیر کر کے مناسب کرایہ کی مد میں اربوں روپے ماہانہ منافع حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن کون ایسا محب الوطن ہو گا جو اس بارے سوچے ؟ سب اپنی دیہاڑ لگانے کے چکر میں پوری قوم کو خجل کرتے جا رہے ہیں۔اللہ رب العزت نے ہمیں بے بہا قدرتی خزانے سے مالا مال کر رکھا ہے۔ پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں ،جن سے برقی توانائی حاصل کر کے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکتا ہے اسی طرح معدنیات سے ملک کو دولت و شہرت کی بلندیوں تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے مگر ہمارے منصوبہ ساز ’’ڈھنگ ٹپاؤ پالیسی ‘‘ اختیار کئے ہوئے ہیں جس سے ہمیں نت نئے بحرانوں کا سامنا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پی آئی اے سمیت تمام قومی اداروں کو درست سمت پر لانے کے لئے بد دیانت،مفاد پرست،نا اہل اور انفرادی زندگی سنوارنے والوں سے قوم کو نجات دلائی جائے۔جب تک منصوبہ ساز اور منتظمین کا درست انتخاب نہیں کیا جاتا تب تک معاشی ترقی کے دعوے اور کاوشیں سود مند ثابت نہیں ہو سکتیں۔امریکہ نے حال میں ہی اپنے دو جرنیل جنرل پیٹریاس اور ایلن کو محض غیر اذدواجی تعلقات کی پاداش میں انہیں سزا وار ٹہرایا ہے جن پر باقاعدہ مقدمہ درج بھی ہو چکا ہے۔جبکہ ہمارے ہاں من حیث القوم ایسی بیماری عام ہے بلکہ سٹیٹس کو میں بے حیائی کو قدر سے دیکھا جاتا ہے۔جب ہم معاشرتی طور پر اس قدر گرئی ہوئی سطح پر کھڑے ہوں تو وہاں ہمارا ملکی نظام کیسے بہتر ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔پولیس کو دیکھ لیں ،رشوت اور با اثر شخصیات کے عمل دخل سے جرائم پیشہ عناصر روز بروز پھل پھول رہے ہیں ۔مالیاتی شعبہ کی یہ حالت ہے کہ قرضوں پہ قرضے لئے جا رہے ہیں ۔ایسے حالات میں صرف پی آئی اے پر الزام کافی نہیں اگرچہ اس اہم قومی ادارے کو ممتاز حیثیت حاصل ہے جس کے چیئرمین ماہانہ لاکھوں روپے قومی خزانے سے محض اس ہی لئے لے رہے ہیں کہ وہ اس ادارے کی بہتری کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔مگر اس کے نتیجے میں کارکردگی صفر ہونا کسی بھی لحاظ سے قابلِ بر داشت نہیں ۔ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے از خود اقدامات کرئے اگر سارے کام اور ساری ذمہ داری صدر ، وزیر اعظم اور چیف جسٹس پر ڈالی جائے تو پھر کیسے مثبت تبدیلی آ سکتی ہے ؟بلاشبہ کوئی حکمران ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ اس کا دور سیاہ کار کہلائے۔ مگر ہر ادارے کے سربراہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کرپٹ مافیا سے دور رہ کر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے آگے آئے۔اگر ہوش کے ناخن نہ لئے گے تو پھرجہاں ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہو وہاں بقول بہادر شاہ ظفر ایک دن یہ آواز بھی سننے کی تیاری کر لی جائے کہ ’’دوگز زمین بھی نہ ملی کوہ یا رمیں ظفر ‘‘

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو ہائی جیک کرلیاگیا ہے ،اشرف سوہنا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker