تازہ ترینکالم

حنا پا کستا نی

sohailسن رکھا ہے ، کا میا بی شور مچا تی ہے ،مگر شر ط، شر ط ؟وہ یہ کہ خا مو شی ، بہت خا مو شی کے ساتھ کر تے جا ؤ محنت ، پھر ایک جگہ نہیں بلکے وہاں وہاں سے انتھک محنت کو سر اہا جا ئے گا جہاں سے تو قع صرف خو بی نہیں بلکے خا می دیکھنے کی ہو تی ہے ۔کو ن اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے ،مگر نظر انداز ہو تے ہیں یہ گلہ بھی اپنی جگہ ، مگر وہ جگہ بنا لیتے ہیں جن کی پر واز میں جو ش اور جذ بہ ہو تا ہے کیونکہ وہ اوروں سے مختلف ہو تے ہیں جیسے ۔۔۔۔
شاہین کا جہاں اور کرگس کا جہاں اور
مثا لیں دینے پر آ ئیں تو بہت سی ہیں ، مگر خا ص طور پر ہما رے معا شر ے میں خو اتین کی محنت تو محنت اس کی کا میا بی کو بھی ردی کی ٹو کر ی میں ڈال دیا جا تا ہے ۔ یہ سامنے کا سچ ہے ۔ جب ایک طر ف سے نظر انداز کیا جا تا ہے ، تو دیکھا یہ جا تا ہے کہ حو صلہ ہا ر کر ہا تھ پر ہا تھ رکھ کر بیٹھ جا تے ہیں ۔ حو صلہ ہا رنے والے منز ل کی طر ف جا نے والی پہلی سڑ ھی سے ہی وا پس لو ٹ آ تے ہیں ۔ اور جن کو حو صلے پر یقین ہوتا ہے ، اور نظر انداز کیے جا نے کے با و جود جو ش جذ بے سے آ گے ہی آگے بڑ ھتے رہتے ہیں ، ان میں اتنا دم ہو تا ہے کہ کبھی نہ کبھی وہ اپنا مقام بنا کر دیکھا تے ہیں ۔ چا ہے وہ کسی بھی شعبے سے ہوں ، خو اتین کے ساتھ ہما را معا شر ہ کیا رویہ اختیا ر کرتا ہے یہ بھی سامنے ہے، اور جب وہ مشکلا ت سے دو چا ر ہو تی ہیں ،کن مسا ئل کے ساتھ وہ اپنے گھروں سے با ہر نکل کر پکے عز م کے ساتھ جو ش جذبے اور محنت کی لگن کا ارادہ کر تی ہیں تو ان کو صا ف صا ف نظر آ رہا ہو تا ہے کہ کہاں کہاں ان کو نظر انداز کیا جا ئے گا ۔
صر ف ہما رے معا شر ے میں نہیں بلکے ہر طر ف ہی جب کو ئی کامیا ب ہو تا ہے تو اس کو سرا ہا جا تا ہے ، جب کہ شر وع کی سڑ ھیاں اس کو اکیلے ہی چڑ ھنی ہو تی ہیں ۔ ہما رے وطن عز یز میں خو اتین کے کا ر نا مے کسی سے کم نہیں ہیں ، ہما رے پا کستان سے گئی ہو ئی بہت سی خو اتین دنیا کے بہت سے ممالک میں اپنی ذہا نت کی بنیا د پر اس معا شر ے کو مجبو ر کرتی ہیں کہ وہ بھی تعر یف کر ئے اورمیٹنگ ٹیبل تک انکو مد عو کیا جا تا صرف ان کی لگن ، محنت کو دیکھ کر ، ہاں اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جن کو آ گے بڑ ھنا ہو تا ان کے پر ورش میں ان کی فیملی ما حول کا بہت رول ہو تا ہے جو ان کی ذا ت میں نما یاں نظر آ تا ہے ۔بر طا نیہ میں سعید ہ وارثی جو ہما رے پو ٹھو ار سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے جو مقام بنایا ہے اس کی داد پو ری دنیا میں دی گئی ۔ یہ سلسلہ رکے نہیں ، یہی اچھی سو چ والے چا ہ رہے ہو تے ہیں ، اور امید رکھتے ہیں کہ ہما رے ملک کا نام رو شن کر نے والے چہر ے پو ری دنیا مین سامنے آ تے رہیں ۔ دکھ ہو تا ہے ،جب کو ئی اچھا کا م کر ئے ، اس کو چھو ٹا یا کسی اور وجہ سے نظر انداز کر دیا جا ئے یا داد دینے میں کنجو سی سے کام لیا جا ئے ،
کہا جا تا ہے کہ یہ نہیں دیکھنا چا ہیے کہ کہنے والا کون بلکے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہا کیا جا رہا ہے ، اس کو چھو ڑ دیں کہ کہنے والا کون ، جو کہا جا رہا ہو سبق آ مو ز تو پہل کر کہ خو د کو کا میا ب کر نے کے لئے اس کے نقش قد م پر چلنا چا ہیے ،زیا دہ نہیں تو چند قطر ے بھی لے لیے جا ئیں تو بہتری آ سکتی ہے۔ کسی کی کا میا بی کی مثا لیں دی جا ئیں تو اعتر اضا ت کیے جا تے ہیں ۔ اختلا فا ت ذا ت سے ہو سکتے ہیں ، جو اقدام اچھے کیے جا ئیں ان سے سبق آ مو ز باتیں اپنی ذا ت میں شامل کر لی جا ئیں تو گھا ٹے کو سو دا نہیں ۔ حنا ملک جو پا کستان سے بر طا نیہ میں مقیم ہیں ، مسلم لیگ (ن) کی خو اتین وینگ کی اہم رکن ہیں اور ساتھ بر طا نیہ میں مسلم لیگ ن کو متحر ک رکھنے کی وجہ سے اپنی پا ر ٹی میں مقام بنا چکی ہیں ،ساتھ بر طا نیہ میں لو کل باڈی کے الیکشن میں ایک سیٹ سے الیکشن لڑ رہی ہیں اس سلسلے میں ان سے فو ن پر بات ہو ئی ، بات تو بہت مختصر سی کر نی تھیں مگر ان کے بات کر نے کا انداز ہما رے پرانے سیا ست دانوں جیسا نہیں تھا ، بات شر وع ہی ہو تو کہا کہ محتر مہ آپ مسلم لیگ سے تو روایت سیاست دانوں کی یہی کہ ان کے فیملی ممبر کسی اور جما عت کے ساتھ چپکے ہو تے ہیں تا کہ ان کی دال روٹی چلتی رہے، ان کا جو اب مذاق کے انداز میں تھا کہ ایسی بات نہیں ان کے شو ہر بھی مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں اور بر طا نیہ میں نظام چلا رہے ہیں ۔ یہ بات کہنے کا انداز ایسا تھا کہ بات لمبی ہو ئی ، جب سیا ست کے سفر کے بارے پو چھا تو جلی کٹی ہسٹری نہیں بتا ئی جو ایک فیشن بن گیا کہ فیملی غر یب تھی اپنی محنت سے اوپر آئے ،ہو تے بھی ہیں ایسے مگر حنا ملک صا حبہ نے بتا یا کہ ان کے والد صا حب بھٹو صا حب کے قر یبی دوستومیں سے تھے تو گھر میں سیا سی ما حو ل پا یا ، جب گھر یلوں پر ابلم سامنے آئیں تو گھر بیٹھے نہیں بلکے اپنا دفا ع کر نے کی غر ض سے آ فیس اور تمام معاملا ت سنبھا لے ۔ اس دوران اور بہت سی خو اتین جن کو بر طا نیہ میں سو شل مشو رے چا ہیے ہو تے یا جن کو معلوم نہیں ہو تا کہ دفتری معا ملا ت کیسے ہنڈل کر تے تو ایسے ورک شر وع کیا ، بہت سوں نے سرا ہا ،دعا ئیں تو ملتی ہی تھیں جب کسی کی پر ابلم ختم ہو تی تو چہر ے پر مسکرا یٹ سکون دیتی تھی اس سکون کو پا نے کی غرض سے اور جو خو د کے ساتھ مشکلا ت پیش آئیں ان سے اور وں کو بچا نے کے لئے ورک کے ساتھ سیا ست میں آنا پڑا، ایک طر ف پا کستا نی پا ر ٹی کے اہم معاملا ت ہنڈ ل کر تے اور ساتھ یہاں کی مقا می سیا سی جما عت نے شہر یوں کے ساتھ معا ملا ت دیکھے تو پا رٹی کا رکن بنا یا اور اب کو نسلر کی سیٹ کے لئے امیدوار بنا یا اور اس کا میا بی کے بعد اشا رہ مل چکا ہے کہ قو می الیکشن کے لئے ٹکٹ ملے ۔ حنا ملک صا حبہ کے بارے معلوما ت جب پتی چلیں تو تھو ڑی حیرا نگی ضر ور ہو ئی ۔وہ اس لئے کہ وہ شعبے کے لحا ظ سے ٹیچر ہیں اور اعلی تعلیم یہاں سے ہی حا صل کی ، اور ارادہ یہی تھا کہ معا شر ے میں خو اتین کے ساتھ ہو نے والے منفی رویے کے خلا ف قد م بڑھا ئیں گئیں ، مگر ان کے اچھے کا م کو ہما رے ما ہر سیا ست دان نظر انداز کر تے رہے لیکن جذبہ کم نہیں ہو ا اس کا ثبو ت یہی کہ اب سیا ست میں وہ کامیا بی کے ساتھ آگے بڑ ھ رہی ہیں ۔ ایسی خو اتین ہما رے معا شر ے کی خو اتین کے لیے اہم رول ما ڈل ہو تی ہیں ۔جب پو چھا گیا کہ ما ہر سیا ست دان کیوں نظر انداز کر تے ہیں تو سا دہ سا جو اب تھا کہ صر ف سیا ست میں نہیں ہما رے بڑ ے ینگ ٹیلنٹ کو کسی شعبے میں آ سا نی کے ساتھ آ گے نہیں آ نے دیتے ۔ خو اتین کے ساتھ ہما رے ملک میں حکومت کی طر ف سے کیا اقدامات کیے جا رہے تو وہ فخر یہ اندازیں بو لیں کہ مسلم لیگ ن میں خو اتین کے لئے جو مقام بنا گیا وہ ایک مثال ہے ، یہ ان کے ذا تی خیا لا ت ہو سکتے ، حقیقت کیا یہ عوام کافیصلہ ، مگر ایک سیا سی جما عت کا رول ہی ہے کہ وہ پڑ ھئی لکھی عورت کو وہ عز ت دے رہی ہے جس کو سسٹم چلا نے کے لئے سیا ست نہیں کر نی پڑی کیو نکہ جس ملک میں وہ مقیم وہاں معا شی مسا ئل کم ہی ہو تے ہیں ، سستی شہر ت صر ف ہما ر ے ہاں ہی لی جا تی ہے۔ بر طا نیہ جیسے ملک جس کے بارے کہا جا تا کہ زند گی بہت تیز وہاں یہ سستی شہرت کسی نے کیا کر نی ، یہ حقیقت کہ بر طا نیہ میں وہی سیا ست اپنا مقام بنا پا تا ہے جو اصل میں لو گوں کے کا م کر تا اور اچھی نیت کے ساتھ اقدام اٹھا رہا ہو تا ہے ورنہ اس کو رد کر دیا جا تا ہے ۔حنا ملک کا سیا سی سفر شر وع ہو ا لوگوں کی بھلا ئی کر نے کی غر ض سے ،پھر نیت دیکھ کر خدا پا ک کی ذا ت جس کو بھی جتنی چا ہے عز ت دے ، اس کے درمیا ن رکا وٹ یہ ما ہر کھلا ڑی نہیں بن سکتے ہیں ۔ ان کا کھیل انہی کو ہارا سکتا ہے جس کے حوصلے کم ہو تے ہیں ۔
ہما رے ملک میں بھی ایسا ہو جیسے برطا نیہ میں خو اتین کھل کر زند گی کے ہر شعبے میں کا میا بی کے ساتھ اپنی ذہا نت سے مقام بنا تی ہیں تو ہما را ملک تر قی کر سفر میں تیزی کے ساتھ آ گے بڑ ھ سکتا ہے ۔ پا کستا ی ہو نے کے نا طے سے خو شی ہو گی کہ جسے سعید ہ وا رثی نے ملک کا نا م روش کیا ایسے حنا ملک صا حب اس جو ش کے ساتھ اپنا مقام بنا ئیں تا کہ ہمار ے پا کستا ن کا نام روشن ہو ۔ سن رکھا ہے ، کا میا بی شور مچا تی ہے ،مگر شر ط، شر ط ؟وہ یہ کہ خا مو شی ، بہت خا مو شی کے ساتھ کر تے جا ؤ محنت ، پھر ایک جگہ نہیں بلکے وہاں وہاں سے انتھک محنت کو سر اہا جا ئے گا جہاں سے تو قع صرف خو بی نہیں بلکے خا می دیکھنے کی ہو تی ہے ۔کو ن اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے ،مگر نظر انداز ہو تے ہیں یہ گلہ بھی اپنی جگہ ، مگر وہ جگہ بنا لیتے ہیں جن کی پر واز میں جو ش اور جذ بہ ہو تا ہے کیونکہ وہ اوروں سے مختلف ہو تے ہیں جیسے ۔۔۔۔
شاہین کا جہاں اور کرگس کا جہاں اور

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker