پاکستانتازہ ترین

دہشت گردی کیخلاف بہترتعاون کےلیے مذاکرات جلدشروع ہونگے، حنا ربانی کھر

اسلام آباد(مانیٹرنگ سیل)پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بہتر رابطہ کاری کے لیے جلد ہی امریکہ اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات روع کرے گا۔یہ بات انہوں نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ پاکستانی وزیر خارجہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے امریکی دورے پر واشنگٹن میں ہیں۔تاہم اس خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اس بابت کوئی ٹھوس بات نہیں کی کیا پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ امریکہ افغانستان میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کو ٹھہراتا ہے۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ تینوں ممالک کے سینیئر حکام کو ہدایت دی گئی ہیں کہ تینوں ممالک میں بہتر روابط کے لیے حکمت عملی وضع کریں۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کے آغاز کی تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔یاد رہے کہ پاکستان اور امریکہ تعلقات پچھلے ڈیڑھ سال سے خراب ہیں۔”مشترکہ طور پر اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ کون خطرہ ہے ۔۔۔ اور اس خطرے سے کس طرح نمٹا جائے اور وہ جو امن کے لیے خطرہ نہیں ہیں ان کو قومی دھارے میں کیسے لایا جائے۔ امن اور استحکام کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف ہم کسی کے ساتھ بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔”وزیر خارجہ حنا ربانی کھرتینوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ افغانستان میں امن کے لیے کس طالبان گروپ کو ہتھیار ڈالنے پر رضامند کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی وزیر خارجہ نے کہا ’مشترکہ طور پر اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ کون خطرہ ہے ۔۔۔ اور اس خطرے سے کس طرح نمٹا جائے اور وہ جو امن کے لیے خطرہ نہیں ہیں ان کو قومی دھارے میں کیسے لایا جائے۔ امن اور استحکام کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف ہم کسی کے ساتھ بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘حقانی نیٹ ورک کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر حنا ربانی کھر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مراسم ہیں۔انہوں نے حقانی نیٹ ورک کو بھی پاکستان میں موجود پچاس لاکھ افغان پناہ گزینوں میں شامل کرتے ہوئے کہا ’ہمیں ان سب کو افغانستان بھیج کر بہت خوشی ہو گی۔حقانی نیٹ ورک کا شمار پناہ گزینوں میںحقانی نیٹ ورک کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر حنا ربانی کھر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مراسم ہیں۔ انہوں نے حقانی نیٹ ورک کو بھی پاکستان میں موجود پچاس لاکھ افغان پناہ گزینوں میں شامل کرتے ہوئے کہا ’ہمیں ان سب کو افغانستان بھیج کر بہت خوشی ہو گی۔‘دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے سہ فریقی مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ تاہم اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کو مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کو شروع کرانے کے لیے امریکی صدر براک اوباما کے افغانستان اور پاکستان کے مشیر مارک گراسمین اور ڈا لیوٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ان دونوں مشیروں نے پچھلے ہفتے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ ملاقات کی تھی۔خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق شدت پسندی کے حوالے سے اس ’ورکنگ گروپ‘ میں وائٹ ہاؤس، امریکی وزارت خارجہ اور دفاع سے ایک ایک اہلکار شامل ہوں گے۔”شکیل آفریدی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کے لیے کام کر رہے تھے یا وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ یہ عظیم شخص جو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرا کر دنیا کی مدد کر رہے تھے ایک کہانی ہے۔ جو بھی ان کو پیسہ دے رہا تھا وہ اس کے لیے کام کر رہے تھے۔”حنا ربانی کھرپاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اس ورکنگ گروپ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔حنا ربانی کھر نے امریکی وزیر دفاع کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ’سکوپ‘ سے زیادہ بیانات دے رہے ہیں۔’امریکی فوج کی کارروائی کے بارے میں وہ ضرور بات کریں لیکن پاکستانی فوج کی کارروائی کے بارے میں نہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ سینکڑوں شدت پسند افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کرتے ہیں۔القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد دینے اور شدت پسندوں سے رابطوں کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے امریکہ کی پاکستان پر تنقید کے بارے میں حنا ربانی کھر نے کہا ’ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کے لیے کام کر رہے تھے یا وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ یہ عظیم شخص جو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرا کر دنیا کی مدد کر رہے تھے ایک کہانی ہے۔ جو بھی ان کو پیسہ دے رہا تھا وہ اس کے لیے کام کر رہے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیں  رینالہ خورد:والدین کے بڑھاپے کا سہارا 20سالہ نوجوان ایک ماہ سے لا پتہ والدین اور رو رو کر نڈھال ہوگئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker