پاکستانتازہ ترین

جنگ بندی کی خلاف ورزی،بھارتی بیانات اور ردعمل پر ناخوشگوارحیرت ہوئی ہے،حناربانی

hinaاسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے حوالہ سے بھارتی بیانات اور ردعمل پر انہیں ناخوشگوارحیرت ہوئی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ امید ہے موجودہ معاملہ پاک بھارت امن کے عمل کے لئے دھچکہ ثابت نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ عمل پٹری سے اترے گا۔پاکستان نے اس معاملہ کی آزادانہ اور تیسرے فریق سے تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ سے رابطہ کیا ہے تاکہ بھارت و پاکستان کے حوالہ سے فوجی مبصر گروپ کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے۔جمعرات کو یہاں دفتر خارجہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام بھارت سے معمول کے تعلقات اور اعتماد سازی چاہتے ہیں، اس لئے تجارت کو معمول پر لانے، ویزا معاہدہ سمیت دوطرفہ معاملات پر پاکستان نے بڑا واضح موقف اختیار کیا ہے، اس ماحول میں بھارتی جانب سے مخالفانہ بیانات درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ اس طرح کے بیانات لانس نائیک اسلم کی شہادت کے چار دن بعد آنا شروع ہوئے ہیں۔ پاکستان نے اس معاملہ پر طے شدہ میکانزم اختیار کیا اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی۔ ہم نے وہی طریقہ کار اختیار کیا جو اس قسم کے واقعات سے نمٹنے کے لئے ہونا چاہئے جبکہ دوسری طرف سے بڑے سخت بیانات آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اطراف کو صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات اور کوششیں کرنی چاہئیں۔ پاکستان کو فخر ہے کہ اس کی طرف سے ذمہ دار بیانات دیئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو مختلف طریقہ سے دیکھ رہا ہے، ہم تمام ہمسایوں اور خطہ کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، اسی لئے مشکل صورتحال میں ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے انڈیا و پاکستان سے واقعہ کی تحقیقات کا آپشن اختیار کیا ہے کیونکہ ہم بڑے واضح ہیں اور ہمارے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔بھارت کو ایم ایف این سٹیٹس میں تاخیر کے حوالہ سے سوال پر حنا ربانی کھر نے کہا کہ ہم بھارت سے تمام شعبوں میں معمول کے تعلقات چاہتے ہیں، تجارت کے شعبہ میں بھی بھارت کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جارہی بلکہ ایم ایف این درجہ دینے سے وہی حیثیت دی جارہی ہے جو دیگر 181ممالک کو دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر تاخیر کا شکار نہیں کیا جارہا، ہم چاہتے ہیں کہ دونوں اطراف سے ان دیکھے بیریئرز نہیں ہونے چاہئیں۔ ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئرز ختم ہونے چاہئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام بیانات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے، صرف سرکاری بیانات کے جواب دیتے ہیں۔ پاکستان غیر ضروری بیان بازی میں الجھنے کی بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتماد سازی کی بحالی اور خطہ کو مستحکم کرنے کیلئے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ معاملہ پاک بھارت امن کے عمل کے لئے دھچکہ ثابت نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ عمل پٹری سے اترے گا۔امید ہے کہ دونوں ممالک کسی غیر معمولی کشیدگی پیدا ہونے سے بچیں گے، ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے ہمیں جو چیلنج درپیش ہوگا اس پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد دونوں ممالک کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطہ ہوا، ہفتہ کے روز ہونے والے واقعہ کے بعد پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیا۔ انہوں نے تمام معاملہ پر پاکستانی ذرائع ابلاغ کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ بھارتی میڈیا بھی ایسا کردار ہی اختیار کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں  عافیہ کی رہائی یقینی بناؤں گی،شیری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker