پاکستان

حکیم اللہ محسود 12جنوری کو ڈرون حملے میں مارا گیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کالعدم تحریک طالبان کا سربراہ حکیم اللہ محسود 12 جنوری کو ایک ڈرون حملے میں مارا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کا دعویٰ۔ جبکہ پاکستانی انٹیلیجنس نے شدت پسندوں کی ٹیلفونک  متعد ٹیپ رکارڈ کی ہیں جس میں شدت پسند حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی  گفتگو کر رہے تھے۔ جبکہ  تحریک طالبان نے تردید کی دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ن لیگ اورمسلم کانفرنس کااتحاد نہیں ہوسکتا،راجہ فاروق حیدرخان

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. پاکستان کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھے جانے والے عسکریت پسند رہنما حکیم اللہ محسسود مبینہ طور پر ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے چار اہلکاروں نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ خس کم جہاں پاک۔ اگر حکیم اللہ ہلاک ہو گئے ہیں تو اس ہزاروں پاکستانی بے گناہوں کے قاتل اور دشمن کا معاملہ اب اللہ کے پاس ہے۔ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تحریک طالبان پاکستان کا اب خاتمہ ہو جائے گا۔ حکیم اللہ محسود ۳۵۰۰۰ بے گناہوں کا قاتل تھا اور اس نے پاکستانی معیشت کو ۷۰ ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

    حکیم اللہ محسود جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر ہیں جن کو کمانڈر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا نیا سر براہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ بیت اللہ محسود کے محافظ اور ڈرائیور بھی رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی موت یا گرفتاری پر پانچ کروڑ روپے کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔
    پاکستان میں انٹیلی جنس حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مفرور طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود ایک حالیہ امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ہے۔
    غیر ملکی نیوز ایجنسی ’’اے پی‘‘ کو پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ انھوں نے طالبان جنگجوؤں کے ایک دوسرے کے ساتھ نصف درجن سے زائد رابطوں کو سنا ہے جن میں وہ شمالی وزیرستان میں 12 جنوری کو کیے گئے ایک مبینہ امریکی میزائل حملے میں اپنے کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔
    ان رابطوں میں کچھ طالبان نے محسود کی ہلاکت کی تصدیق کی جب کہ ایک نے وائرلیس پر اس موضوع پر گفتگو پر تنقید کی۔
    اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان یا ’ٹی ٹی پی‘ کے ایک ترجمان نے اپنے لیڈر کی ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے کے وقت حکیم اللہ محسود اُس علاقے میں موجود ہی نہیں تھا۔ لیکن جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی صحافی سیلاب محسود نے کہا کہ انہوں نے فضائی حملے کے مقام دتہ خیل کے رہائشیوں سے بات چیت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جس وقت میزائل حملہ ہوا تو حکیم اللہ وہاں موجود تھے۔ تاہم انہیں محسود کی ہلاکت کا کوئی علم نہیں تھا۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے طالبان رہنماﺅں کی چھ فون کالز ریکارڈ کی ہیں جن سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ شاید پاکستانی طالبان کے امیر 12 جنوری کو ہونے والے ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کا یہ دعویٰ پاکستانی انٹیلی جنس حکام کی جانب سے سامنے آیا ہے جنہوں نے طالبان رہنماﺅں کے درمیان ہونے والے مواصلاتی رابطوں کا سراغ لگایا ہے جن میں کچھ طالبان جنگجو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ محسسود ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک فون کال میں ایک جنگجو اس معاملے پر ریڈیو پر بات کرنے پر دوسروں کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس حکام نے نام ظاہر نہیں کئے ہیں کیونکہ انہیں اس بات بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان عاصم اللہ محسسود نے گروپ کے امیر کی ہلاکت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مقام پر موجود ہی نہیں تھے جہاں ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود زندہ ہیں اور تنظیموں سے ان کا رابطہ ہے، ان کی ہلاکت سے متعلق دعویٰ درست نہیں ہے۔
    ریگیڈیئر(ر)محمود شاہ نے کہا ہے کہ اس خبر کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی اور اگر حکیم اﷲ محسسود مارا گیا ہے تو یہ ایک بڑی خبر ہے کیونکہ اس سے تحریک طالبان ختم ہو جائے گی کیونکہ تحریک طالبان بہت کمزور ہو چکی ہے۔
    اگر حکیم اللہ محسود ہلاک ہو چکے ہیں، تو اس سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر دباؤ میں ممکنہ کمی واقع ہو گی اور یہ تنظیم اب اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی اور یہ مزید ٹکروں میں تقسیم ہوجائے گی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں کمی واقع ہو گی ۔
    دہشت گرد تنظیموں کا تمام تانا بانا ان کے لیڈروں کے گرد ہی گھومتا ہے جو اس تنظیم کو متحد و منظم رکھتے ہیں مگر ان کے جانے کے بعد ، تنظیم کی لیڈری کے بارے میں تنازعات شروع ہوتے ہین اور تنظیم کے اندر مختلف گروپ آپس میں لڑائی جھگڑا شروع کر دیتے ہیں جس سے تنظیم کمزور پڑ جاتی ہے اور اپنی سرگرمیاں رکھنے کے قابل نہیں رہتی۔ اظلاعات تھیں کہ تحریک طالبان ۱۳۰ دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور اب اس میں مزید دھڑے پیدا ہو جائین گے۔ ویسے بھی اس طرح کی اطلاعات تھیں کہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن میں حکومت پاکستان سے بات چیت کے موضوع پر ناقابل اصلاح اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن چکے ہیں اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔
    ایک انٹیلی جنس اہلکار کا خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم نے جو گفتگو سنی، اس میں چھ سے سات ٹی ٹی پی ممبران شریک تھے۔ ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود میرانشاہ کے قریبی مقام پر ڈرون حملے کا نشانہ بنا۔‘‘
    ایک اور انٹیلی جنس اہلکار کا کہنا تھا، ’’ہماری اطلاعات کے مطابق حکیم اللہ نوے اڈہ میں ایک اجلاس کی سربراہی کر رہا تھا۔ یہ علاقہ شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل کا ایک گاؤں ہے‘‘۔
    طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا ہے، ’’ حکیم اللہ محسود ابھی تک زندہ ہیں۔ تاہم وہ ایک انسان ہیں اور کسی وقت بھی ہلاک ہو سکتے ہیں۔ وہ ایک جنگجو ہیں اور ہم ان کے لیے شہادت کی تمنا رکھتے ہیں۔‘‘
    ترجمان کا مزید کہنا تھا، ’’حکیم اللہ زندہ رہیں یا ہلاک ہو جائیں، ہم جہاد جاری رکھیں گے۔‘‘ احسان اللہ احسان کا یہ بیان بڑا مبہم ہے اور اس سے ہر طرح کی تشریحات نکالی جاسکتی ہیں۔
    پاکستانی فوج کے ایک سینیئرعہدیدار کا کہنا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی سرکاری طور پر تصدیق فی الحال نہیں کی جاسکتی۔
    حکیم اللہ زندہ ہے یا ہلاک ہوچکے ہیں یہ تو آئندہ چند دنوں میں واضح ہوجائے گا۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق جس مشکل صورتحال کا طالبان کو اس وقت سامنا ہے وہ بظاہر قیادت کا بحران ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو شاید پہلے اس قسم کے مشکل حالات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا جو اب اسے درپیش ہیں۔ ٹکروں میں بٹ جانے کی وجہ سے طالبان کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker