تازہ ترینصابرمغلکالم

ہارس ٹریڈنگ اور ضمیر

ہارس ٹریڈنگ انگریزی کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے جس کا مفہوم ہے گھوڑوں کی خریدو فروخت،گھوڑوں کی خریدو فروخت عام سی بات اور تقریباً4ہزار سال قبل مسیح سے شروع ہے یہ وہی دور ہے جب دنیا میں پہلی بار گھڑوں کو سدھارنے یا پالنے کا آغاز ہوا جبکہ اس کے ارتقاء کا اندازہ 5کروڑ سال قبل مسیح کا ہے،ایک عالمی سروے کے مطابق گھوڑا دنیاکا چوتھابڑا پسندیدہ جانور کی سب سے زیادہ تعدادامریکی بر اعظموں کے بعد بر اعظم ایشیا ء میں پائی جاتی ہے،اس کی آنکھیں زمینی جانوروں کی نسبت زیادہ بڑی ہیں اور وہ350زاویے سے زیادہ دیکھنے کے علاوہ دن ہو یا رات اس کی نظر بہت تیز بھی ہوتی ہے،اس کے توازن کی حس بھی مثالی ہے ان کی کھال پر مکھی یا مچھر بھی بیٹھ جائے تو اسے فوراً احساس ہو جاتا ہے،اس کی عام حس انسانی حس سے کہیں زیادہ ہے،گھوڑے پر سواری،اسے قابو کرنے کے لئے بہت سے طریقے وضع کئے گئے ہیں،اس کی عمومی رفتار40سے48کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ مختصر فاصلے میں اس کی سپیڈ88کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا پہنچتی ہے،دور جدید میں گاڑیوں کے دور کا آغاز ہوا تو ہر گاڑی کو ہارس پاور کے حساب سے ہی بنایا گیااور یہ سلسلہ تاحال دنیا بھر میں جاری ہے،گھوڑے ہمیشہ گروہ کی شکل میں اپنی نیند پوری کرتے ہیں کیونکہ اس کی فطرت میں ہر وقت خوف رہتا ہے گروہ کی صورت مین نیند پوری کرنے کا مطلب ہے کہ کچھ گھوڑے نگرانی کرتے اور کچھ سو جاتے ہیں،چند دہائیاں قبل پاکستان کے ہر حصہ میں تانگہ سواری کی وجہ سے گھوڑے عام تھے مگر ان کی جگہ چنگ چی رکشوں نے لی تو یہ نایاب ہو گئے،ماضی کی طرح ان کی خریدو فروخت بند ہوگئی،اب لوگ سفر کرنے کے لئے گھوڑوں کی بجائے رکشوں پر بیٹھنے کو مجبور ہیں مگر گھوڑوں کی اہمیت ویسے ہی ہے جیسے ماضی بعید میں ہمہ وقت گھوڑوں کی ضرورت لاؤ لشکر کے لئے،حملہ آوری کے لئے رہتی تھی مگر ان دو اہمتیوں کے درمیان ایک بہت بڑا فرق ضرور ہے،یہ تب بھی ضروری تھی اوراب بھی ضروری ہیں،چند دیگر انتہائی مثبت ضروریات کے علاوہ اب ظاہری طور پر گھوڑے ڈانس،نمائش،گھڑ دوڑ اور اس پر جوا بازی کے لئے زیادہ شہرت یافتہ ہیں اور فی زمانہ ان کی سب سے زیادہ اہمیت اقتدار کے ایوانوں میں خطرناک حد تک رسائی ہے ایسے ہی گھوڑوں کی خریدو فروخت کے لئے انگریزی کی اصطلاح Horse Tradingمروج ہے،گھوڑوں کی برق رفتاری،روشنی اوراندھیرے میں یکساں بینائی،ان کی حس جس کا حسن کمال کسی اور میں نہیں ہے،جو لمحہ بھر میں خطرہ بھی بھانپتے ہوئے یا مفاد مد نظر رکھتے ہوئے اپنی نئی منزل کی جانب رواں ہو جاتے ہیں،ہارس ٹریڈنگ کی اصطلاح کا پاکستانی سیاست میں عمل دخل گذشتہ کئی دہائیوں سے اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہمیشہ سے جلوہ گر رہا ہے جس کی وجہ سے کبھی کسی کو،کبھی کسی کو کہیں نہ کہیں انتہائی با اختیار ہونے کے باوجود شرمناک ہزیمت کا سامنا اسی کی وجہ سے ضرور کرنا پڑا ہے،یہ کسی کی ایسی تیسی کرنے کے باوجود معزز،معتبر،شرفاء اورنہ صرف مقدس بھی رہے ہیں بلکہ مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں،البتہ یہ بات ضرور رہتی ہیے کہ جب ان گھوڑوں نے کسی دوسری جانب منہ کیا تو چند دن ان کو بے ضمیرسمیت نہ جانے کن کن گھٹیا القابات سے نوازا جاتا ہے مگر کچھ ہی دنوں میں یہ انہیں بے ضمیر کہنے والوں کے سامنے انتہائی با ضمیر ہو جاتے ہیں ایسا تب ہوتا ہے جب یہ سابق آقاؤں کی مرضی مطابق ایک بار پھرU Turnلیتے ہوئے انہیں کی جانب اپنا رخ اختیار کرتے ہیں،ایسے گھوڑوں کو پرندوں کی اصطلاح میں بھی پکارا جاتا ہے یعنی جب سیاسی حالات کا دھارا بدلتا نظر آیا تو انتخابات سے قبل ہی ایک منڈیر سے دوسری منڈیر پر جا بیٹھنا ان کے لئے معمولی سی بات ہے،تب بھی ان پر لعن طعن ضرور ہوتی ہے،مگر حسب سابق ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے،یہ ایک جانب بڑے منہ زور گھوڑے دوسری جانب بھیگی بلی، بہت پالتو،مفاد پرست،لالچی،ابن الوقت،خود غرض،بے وفا،ہر قسم کی ضمیریت،خود داری سے پاک،یہ انہی کا ہی کام ہے جنہیں کسی قومی،عوامی ضروت یا اہمیت سے کچھ غرض نہیں ہوتی،یہ وہ گھوڑے ہیں جو کسی وقت بھی سر پٹ دوڑ سکتے ہیں،کسی وقت بھی اپنے آقا کی گرفت سے بے قابو ہو سکتے ہیں،اس سے بے وفائی سے جیسا مقدس فریضہ انجام دے سکتے ہیں،کسی اورکی کھرلی پر چارہ چر سکتے ہیں،ان کی خریدو فروخت(ہارس ٹریڈنگ)روٹین کی بات ہے،یہ گھوڑے ہو کر بھی انسان اور جو انسان ہیں مطلب عوام وہ انسان ہو کر بھی حیوان،یہی اس ملک کی بد قسمتی ہے،یہاں بد بودار خوشبودار لگتے ہیں،جن کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا وہی سب سے بڑے با ضمیر ٹھہراتے ہیں،عوامی نمائندگان کی ایک مخصوص تعدادجو کبھی کسی کے کبھی کسی کیاور ہمارے سیاسی اور حکومتی نظام میں بہت فٹ ہیں،المیہ یہ کہ یہی گھوڑے،یہ پرندے،یہ بے ضمیر ہر سیاسی لیڈر کی مجبوری بن چکے ہیں،وہ انہیں گالیاں دے کر بھی گلے لگانے پر مجبور ہیں،ان کی ضیافتیں کی جاتی ہیں،انہیں بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے،اختیارات کو ان کی لونڈی بنا دیا جاتا ہے،تمام سرکاری مراعات سے یہ مستفید ہوتے ہیں،ہماری تقدیر ایسے بے منزل گھوڑوں کے ہاتھوں تھما دی جاتی ہے ،سمجھ سے بالاتر ہے کہ ضمیر نام کی کوئی چیز کس سونامی کی نذر ہو چکی ہے،بے اصولوں کی عاری قوم زریں اصولوں کے حامل لیڈران کو بھول چکی ہے،باقی بات رہی گھوڑوں کی تو جو بنیادی طور پر گدھے کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں وہ چاہے جتنا بھی چابکدست ہو،تیز رفتار ہو،صحت مند ہو،ذہین ہو،اتھرا ہو،پھرتیلا ہو،خوبصورت ہو،قیمتی ہومگر اس کی لگامیں ہمیشہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  پھولنگر:دینی درسگاہ دارالاصلاح کے چھبیسویں سالانہ پروگرام کاانعقاد

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker