تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

ہوش کے ناخن لیں

imran farooqہمارے ملک کے سیاستدانوں کا یہ وطیرہ ہے کہ جب اقتدار ہوتا ہے تو لوٹ مار کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ اورریاستی ادارے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں ۔ بعد ازاں بہتی گنگا میں نہانے کو کس کا دل نہیں چاہتا ۔ ارضِ پاک کے ساتھ یہ کھیل روزِ اول سے جاری ہے ۔ آصف علی زرداری صاحب نے پچھلے دنوں فوج اور اُسکے سربراہ کے خلاف تقریر کی جس کا ذکر ہمارے میڈیا چینلز پر عام ہے ۔ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو واپس مُنہ میں ڈالنا ناممکن ہو جاتا ہے۔اب آصف زرداری صاحب اور اُنکے حواری لاکھ توجیحات اور وضاحتیں پیش کریں زرداری صاحب کے دل کی آواز پاک فوج اور عوام تک پہنچ چکی ہے ۔
موجودہ آرمی چیف نے پاک فوج کے بنیادی ڈاکٹرئن (Doctorine) کو تبدیل کر دیا ہے ۔ انڈیا کے ساتھ لڑی جانے والی کولڈ وار(Cold War) کیلئے عزم نو مشقیں کی گئیں ۔ اُنہوں نے دہشتگردی کو پاکستان کا اولین مسئلہ قرار دیا لہذا ضربِ عضب کے آغاز پر ہی آرمی چیف نے تمام سیاسی زُعما ء کو اپنے انداز و اطوار تبدیل کرنے کا عندیہ دیا تھا ۔ کراچی میں پھیلی ہوئی بد امنی اور دہشتگردی پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ناسور ہے ۔ لہذا رینجرز کے ذریعہ کراچی میں آپریشن شروع کیا گیا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کراچی میں متحرک دہشتگرد گرہوں کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے ۔ شو مئی قسمت ان دہشتگردوں کی مالی اعانت میں ہماری سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت ملوث پائی گئی ہے ۔ ایم کیو ایم کے صدر مقام نائن زیرو پر چھاپہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ بعد ازاں بیرون ملک سرمایہ کی منتقلی کے معاملات کی چھان بین آصف علی زرداری کے گلے پڑ گئی ۔ وہ لکھ صفائی پیش کریں لیکن ماڈل و اداکارہ ایان علی کو 19مرتبہ بلاول ہاؤس سے کیجانیوالی کالوں کا ریکارڈ موجود ہے ۔ لانچوں کے ذریعے بیرون ملک سرمایہ کی منتقلی اسکے علاو ہ ہے جسکے شواہد رینجرز کے پاس ہیں ۔
کراچی بلڈنگ اتھارٹی پر چھاپہ کے دوران 5000ایکڑ سرکاری زمین کی اونے پونے داموں فروخت کا معاملہ بھی رینجرز کے ہتھے چڑھ گیا ہے ۔ کراچی کا امن لوٹنے میں غیر قانونی کمرشل تعمیر اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ ، مختلف محکموں میں گھوسٹ ملازمین کی بھرتی ، بھتہ خوری ، لوٹ مار اور قتل و غارت گری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کردار بہت اہم ہے ۔ان جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ دہشت گردوں کیلئے مختص کر دیا جاتا ہے ۔ اختیارات ملنے کے بعد رینجرز نے جب مجرموں پر ہاتھ ڈالا تو عام سیاسی زعماء کو یہ بات ناگوار گزری ۔آصف علی زرداری صاحب سمجھتے تھے کہ فوج کی ہرزہ سرائی سے فوج بیک فٹ (Back Foot) پر چلی جائے گی ۔ لیکن یہ اُنکی خام خیالی ہے ۔ جنرل راحیل شریف سو فیصد ڈٹ چکے ہیں ۔ وہ پہلے دن سے ہی پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے کیلئے کوشاں ہیں ۔امریکہ وبرطانیہ کے کامیاب دوروں کے بعد اُنہوں نے چین کو بھی باور کروایا ہے کہ پاکستان چین کا سب سے اہم دوست ہے ۔ اور خطہ میں پاکستان اور چین کے مفادات یکساں ہیں ۔ اُنہوں نے امریکی عہدیداروں کو بھی افغانستان میں مقیم دہشتگردوں کے انڈیا سے تعلقات کے ثبوت پیش کیئے ہیں ۔ جسکی وجہ سے امریکی بھی پاکستانی جرنیل کے معتقد ہوچکے ہیں ۔
حالیہ دورۂ روس میں پہلی دفعہ روس نے پاکستان کو فوجی ہتھیار فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ابتدائی طور پر روس پاکستان میں 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا پاکستان سٹیل مل کی اَپ گریڈیشن (Upgradation) پر بھی بات چیت جاری ہے ۔ اسی طرح جنرل صاحب کی خواہش ہے کہ پاکستان ،روس اور چین کے ساتھ شنگھائی معاہدہ میں شامل ہو جائے تاکہ پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔ شنگھائی معاہدہ کے مطابق روس اور چین پر ہونے والے حملہ کا جواب دونوں ملک مل کر دیں گے۔ جنرل راحیل شریف کے مصمم ارادہ کی وجہ سے آج پاکستان بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔ اور دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ ہوئے ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ کسی نے پلیٹ میں رکھ کر پاک فوج کو پیش نہیں کیا ۔ بلکہ پاک فوج کے ہزاروں جوانوں کی شہادت کے مر ہونِ منت ہے ۔
زرداری صاحب پچھلے ماہ افغانستان کے دورہ کے دوران حامد کرزئی کے ساتھ گفتگومیں بھی پاک فوج کو برا بھلا کہتے رہے ۔ جسکی تفصیلات منظر عام پر آ چکی ہیں ۔ میاں صاحب اور اُنکے نمایاں نورتنوں میں چوہدری نثار علی خاں اور خواجہ آصف بھی ماضی میں فوج کے بارے میں منفی جذبات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ پاک فوج کیطرف سے امن و امان کے قیام کیلئے حال ہی میں کیجانے والی کوششوں کو اندرون اور بیرون ملک سراہا گیا ہے ۔ آج پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے ۔ زرداری صاحب اور دوسرے حکمران رہنماؤں کو اپنے اندازِ حکمرانی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ خواجہ سعد رفیق کے اقدامات اور توجہ سے اگر پاکستان ریلوے میں بہتری آسکتی ہے تو پی آئی اے اور دوسرے پبلک سیکٹر کے محکموں میں بھی بہتری کی گنجائش موجو د ہے ۔ صرف اخلاص اور کوشش کی ضرورت ہے ۔ سیاسی رہنمافوج کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ ان سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے بیس کروڑ عوام میں سے اُنہیں حکمرانی کیلئے منتخب کیا ہے ۔ اس کر م نوازی کو کرپشن کی دلدل کے حوالہ مت کیجیئے ۔ تاریخ کے اوراق میں کئی حکمرانوں اور فوجی جرنیلوں کی کہانیاں دفن ہیں ۔ لیکن حب الوطنی کے جذبہ سے سر شار جنرل راحیل شریف جیسی چند ایک شخصیات ہی زندہ ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  اسے کہتے ہیں تبدیلی!

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker