تازہ ترینصابرمغلکالم

چند گھنٹے سول ہسپتال اوکاڑہ کی ایمرجنسی میں

گذشتہ ہفتے اتفاق سے میں گھر موجودسعودی عرب سے آئے دوست حافظ شاہد کی شادی میں شرکئ لئے تیاری کر رہا تھا فیصل آباد ساتھ جانے کے لئے اوکاڑہ سے پیر علی رضا ہاشمی میرے پاس پہنچ چکے تھے، چھوٹے بیٹے مرزا انعام نے باتھ روم کے دروازہ پر دستک دیتے ہوئے کہا پاپا جلدی کرنا انکل سلطان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے،یہ سنتے ہی حواس اڑ گئے جلدی جلدی نکلا گھر کے سامنے ہی رورل ہیلتھ سنٹر جا پہنچا لوگوں کی کثیر تعداد وہاں جمع ہوتی جا رہی تھی، دیکھا تو حادثہ کی شدت کا احساس ہواسلطان محمود مغل کا چہرہ بری طرح زخمی تھا منہ پر خون ہی خون ،باہر چارپائی پر ان کی اہلیہ اور میری تایا زاد بہن بھی زخمی حالت میں کراہ رہی تھی ایمبولینس میں ایک اور شخص زخموں سے چور خون میں لت پت تھا،ان تینوں کومقامی ڈاکٹر فیاض احمد قیصر اور ڈاکٹر ریاض احمد اپنے عملہ کے ہمراہ ابتدائی طبی امداد دینے میں مصروف تھے،ڈاکٹر فیاض جو میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں نے علیحدگی میں بلاکر بتایا کہ سلطان محمود مغل کی حالت تشویشناک ہے اسے فوری اوکاڑہ لے جائیں بلکہ اسے لاہور لے جانا پڑے گا،حالات کی سنگینی دیکھ کر سب کچھ بھول گیا ایمبولینس میں سلطان محمود کے ساتھ دوسرے زخمی ۔گیہلا ۔نامی شخص کو ڈالا اور اوکاڑہ ڈسٹرکٹ ہسپتا�أ روانہ ہوگئے،سلطان محمودمغل میرا تایا زاد بھائی ہونے کے ساتھ میرا پڑوسی بھی ہے جو دن 12 بجے کے قریب اہلیہ کے ہمراہ 5کلومیٹر دور موضع بگیانہ شاہ بیگ میں ایک دوست کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے گھرسے روانہ ہوا تھا،گھر سے تھوڑے فاصلہ پر گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج کے گیٹ کے قریب سامنے سے آنے والے موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا،ان دو موٹر سائیکلزپر کل پانچ افراد سوار تھے ،موٹر سائیکلز کی ٹکر اتنی تیز تھی کہ پانچ کے پانچ افراد ہی بری طرح متاثر ہوئے،میرے قصبہ سے اوکاڑہ کا فاصلہ تقریباً21کلومیٹر ہے،ایمبولینس کے سائرن کے باوجودروڈ پر رواں ٹریفک پر کچھ اثر نہ تھا دور جدیدمیں بھی اس حوالے سے ہماری قوم میں شعوراور آگاہی کی حد درجہ کمی ہے کہ ایمبولینس کے سائرن پر کیسے راستہ دیا جاتا ہے،ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کی نئی ایمرجنسی شمالی جانب ایک شاندار بلڈنگ میں قائم ہے اس بلڈنگ کے گیٹ کے سامنے ٹریفک پولیس کا ایک بزرگ اہلکار پوری ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں مصروف تھامگر جب ایمبولینس اندر پہنچی تو دو مریضوں کو اندر پہنچانے میں ہمیں 20منٹ تک اسٹریچر نہ ملا،جیسے تیسے ہمارے اپنے لڑکے کہیں سے اسٹریچر ڈھونڈ لائے ،چار بیڈ پر مشتمل سرجیکل ایمرجنسی میں داخل ہوئے تو وہاں ڈاکٹر نام کی کوئی چیز نہ تھی صرف ایک ڈسپنسر اور 8کے قریب ٹرینی ڈسپنسر جو وہاں آنے والے مریضوں کو طبی امداد دینے میں مصروف تھے تھوڑے فاصلے پر ینگ ڈاکٹر کا کمرہ تھا جس میں موجود صرف ایک ہی ڈاکٹر وہاں بیٹھا مریضوں کو بغیر دیکھے ان کے لئے علاج تجویز کر رہا تھااگر کوئی شخص ڈاکٹر کی عدم موجودگی پر بات کرتا تب ڈاکٹر کو بلوایا جاتا جو صرف ایک نظر دیکھنے کے بعد اپنے کمرے میں لوٹ جاتے۔ کچھ دیر بعد1122جو کہ اس وقت غریب عوام کے لئے بہترین اور کسی نعمت سے کم سروس نہیں۔کی ایمبولینس اسی ایکسیڈنٹ سے متاثر تین مزیدزخمیوں کو لے کر وہاں پہنچ گئی،ایمرجنسی میں بیڈ ناکافی ہونے کی بنا پر دو مریضوں کو اسٹریچر پر ہی طبی امداد دی جانے لگی ،اس ایمر جنسی میں مریض ہی مریض آ رہے تھے مگر یہاں سب کام روٹین میں جاری تھادو گھنٹے بعد سلطان محمود کو لاہور ریفر کرنے کا کہا گیا ،1122کال کر کے ایمبولینس منگوائی اور انہی کے کارکن مریض کو بیڈ سے ایمبولینس پر شفٹ کرنے کا فریضہ انجام دیتے رہے مگرایک بھی وارڈ بوائے نظر نہ آیا،میں سلطان محمود کو لاہور روانہ کرنے کے بعد میں تایا زاد بہن اور سلطان محمود کی اہلیہ کی وجہ سے وہیں رک گیا ،بعد کے ایک گھنٹہ میں بھی صرف ایک ینگ ڈاکٹر جس کی ڈیوٹی بعد میں شروع ہوئی اسے بھی ایمرجنسی بلوایا گیاوہ خود تشریف نہ لائے ،اس دوران گیہلا نامی مریض جس کے ورثاء ابھی نہیں آئے تھے وہ پڑا ایمرجنسی میں تھا مگر کسی ایک۔بہتر ۔مسیحا۔کادھیان بھی اس کی جانب نہ تھا،اس کے پھٹے ہونٹوں سے خون رس رس کر منہ کے ذریعے اس کے پیٹ میں جا رہا تھا،مگر وہاں احساس نام کی کوئی بھی چیز ناپید تھی ،وہ کراہتا رہاٹرپٹا رہا ،اسے اس وقت لاہور بھیجنے کی زحمت کی گئی جب وہ جان بلب تھا اور اوکاڑہ سے لاہور جاتے ہوئے تقریباً15کلومیٹر دور ہی وہ تمام دنیاوی تکلیفوں سے آزاد ہو گیا،اسی ایکسیدنٹ میں شدید زخمی اقبال نامی شخص کی ٹوٹی ٹانگ پرطبی امداد بغیر انجکشن لگائے کی جا رہی تھی مریض کے چہرے پر کربناکی دیکھ کرمیرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اسے درد روکنے والے انجکشن لگائے بغیر ۔پٹی۔کی جا رہی ہے تب میں نے انہیں کہا یار خدا کا کچھ خوف کرو تب اسے انجکشن لگے،تایا زاد بھائی سلطان محمودد مغل بھی جناح ہسپتال لاہوراسی روز رات ایک اپنے بیٹوں قاسم مغل ،احمد یار ببلو مغل،حاکم علی نظامی اور شوکت مغل سمیت گھر والوں عزیوں ،رشتہ داروں اور دوستوں کو چھوڑ کر بجے اللہ کو پیارا ہو گیا،سلطان محمود میرے بڑے پیارے بھائی تھے،اپنے حال میں مگن رہنے والے نیک نیت ،محنت کش با اخلاق نمازی اور پرہیز گار، ان کی زندگی جتنی تھی وہ پوری ہو گئی ،ان کی جدائی کا صدمہ مجھے کیا پورے خاندان عزیز رشتہ دار اور اہل علاقہ کو ہے ہر کوئی سوگوار ہے جانا ہر ایک کو ہے سو وہ بھی اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا۔الراقم کو ایک طویل عرصہ بعد ڈسٹرکٹ ہسپتال اوکاڑہ جانے اور وہاں تکلیف دہ صورتحال میں قریب 5گھنٹے گذارنے کا موقع ملا،ان پانچ گھنٹوں میں صرف ایک سینئیر ڈاکٹر وہاں مٹر گشت کرتا آیا اور خانہ پری کرتا واپس چلا گیا،وہاں سہولیات تو درکنار کسی ۔بہتر۔رویہ کا بھی بری طرح فقدان ہے،ایمر جنسی میں آنے والوں میں اکثریت ایسے افراد کی ہوتی ہے جو جاں بلب ہوتے ہیں اگر وہاں کسی کوالیفائیڈ ڈاکٹرکی ضروت نہیں تو پھر ایم ایس صاحب بتائیں ایسی ضرورت ہوتی کہاں ہے؟ایمر جنسی میں مریض کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے معمولی سی غفلت انسان کو اگلے جہان پہنچا دیتی ہے،وہاں سوائے درد سے مارے انسانوں کے چیخنے کے علاوہ باقی سارا ماحول دوستانہ لگ رہاتھا اس شعبہ سے منسلک افراد میں بے حسی انتہاؤں کو چھو رہی تھی نہ کوئی ڈسپلن نہ کوئی نظم و ضبط نہ صفائی نہ انسانیت نہ اپنے پیشے سے مخلصی نہ چیک اینڈ بیلنس ،،صرف ٹرینی ڈسپنسر جن پر رعب ڈالا جا رہا تھا وہ اپنے کام میں مگن تھے یہ الگ بات ہے کہ ان کا یہ کام بھی زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا،اوکاڑہ پنجاب کا اہم ترین ضلع ہے یہ تخت لاہور سے زیادہ دور بھی نہیں سیاسی لحاظ سے بھی اس کا اپنا مقام ہے کبھی اسے وزیرستان کہا جاتا تھا کبھی پنجاب کا لاڑکانہ،یہاں صحت کی سہولیات کا یہ شرمناک عالم ہے تو باقی اضلاع اور باالخصوص دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کااندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے،چند ماہ قبل اسی ہسپتال میں وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی آمدکی آئے روز افواہ پھیل جاتی تب محکمہ صحت کے تمام افسران کیا سابقہ ڈی سی او رانا سقراط امان خود روازانہ کی بنیاد پر یہاں ٹائم دیتا (کیا ؤوزیر اعلیٰ کی آمد پر ہی عوام کوبنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوتی ہے؟)کمال ہے ایسی گڈ گورنس ،اب تو لگتا ہے ہسپتال کے ۔ایم ایس۔کے پاس بھی وقت نہیں کہ وہ چیک کرے کہ اس کے زیر سایہ کیا کیا ہو رہا ہے؟اس وقت مس سائرہ احد بطور ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ تعینات ہیں وہ ہی ایسی قباحتوں کا قلع قمع کرنے میں کردار ادا کریں ،ضلع اوکاڑہ کے اس سب سے بڑے ہسپتال میں بہت کچھ سدھارنے کو ہے نہ جانے کتنے مجبور ایسی غفلت کے ہاتھوں جان سے جا چکے ہوں گے۔ نہ جانے وہ وقت وطن عزیز کے لوگوں کو کب نصیب ہو گا جب انہیں بھی صحت جیسی بنیادی سہولت کسی مذہب ملک یا قوم کی طرح میسر ہو ں گی۔70سال بیت چکے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے مگر آج تک غریب عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی ؤنہیں بنائی جا سکی پنجاب کا صحت کے حوالے سے یہ عالم ہے باقی صوبوں کا کیا عالم ہو گا؟؟؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker