ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

ہو تاہےشب وروزتماشامیرےآگے

s m irfan thairحضرت وا صف علی وا صف فر ما تے ہیں انسان پر یشانی سے دو چا ر نہ بھی ہو تو بھی پر یشانی سے آشنا ضرور ہو تا ہے ۔ پر یشانی انسان کو زندگی کے کسی نہ کسی مو ڑ پر ضرور مل جا تی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے اپنے حا لا ت سے ہی پر یشانی پیدا ہو تی ہے انسان اپنی حا لت کو بہتر بنا نے کے لیے جب پر یشان ہو تا ہے تو حا لت بہتر بنا نے کی صلا حیت سلب ہو جا تی ہے زندگی کا ہر طبقہ اور ہر شعبہ پر یشان ہے کہ نہ جا نے کب دو لت ہا تھ سے نکل جا ئے غریب پر یشان ہے کہ نہ جا نے اب زندگی کیسے گزرے گی ۔ بس پر یشانی ہی پر یشانی ہے۔
تمہا رے شہر میں جینا محال ہے کہ نہیں                       کہو یہ زندگی ہم پر وبال ہے کہ نہیں
یہ خود کشی کا ارادہ حرام ہے تو بتا                 مرے نصیب میں رزق حلا ل ہے کہ نہیں
دنیا کے منصف ہی دنیا کی ویرا نی ،مصائب ، مسائل، اجا ڑ اور بے ضا بطگی کا با عث بنے ہو ئے ہیں سب معشیت کی جنگ ہے اور سبھی معشیت کے تعلقات اور دوستانے، انسانیت اور انسانی حقوق کا قدیم را گ الا پنے والے خود بے قا عدگیو ں اور لا قانو نیت کا حوالہ بنے ہو ئے ہیں۔ بگرام جہا ں سا ڑھے چا ر ہزار انسانوں کو قید میں رکھا گیا ہے کا بل کے شمال میں ۶۰ کلو میٹر کے فا صلے پر صو بہ پروان سے مربو ط بگرام کے علا قہ میں گذشتہ کئی بر سوں سے سا ڑھے چا ر ہزار افغا نی قید و بند کی صعوبتیں بر داشت کر ر ہے ہیں قفس کا یہ آنگن بے قصور اور بیگنا ہ مسلم کمیو نٹی کا آشیانہ بنا ہوا ہے جہا ں سورج کی کرنیں بھی داخل ہو نا محال ہے اس ظلم و بر بریت اور بد سلوکی کا جا ئزہ لیا جا ئے تو اقوام عالم میں موجود حقوق انسانی اور انسانیت کی با ت کر نے والی تنظیما ت اور پیشتر ادارے خا موش تما شائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ان مجبو ر و محروم اور بے بسی کی تصویر قیدیو ں پر سیاست اور پرو پیگنڈہ کو تقویت بخشی جا رہی ہے محض مد ت سے عالمی ذرائع ابلا غ الیکٹر انک و پر نٹ میڈیا میں بگرام جیل اور وہا ں قید انسانوں کے متعلق آواز یں سنا ئی دیتی ہیں امریکہ اور کر زئی حکو مت بظا ہر اس چپکلش میں مبتلا ء ہیں کے جیل کے انتظام و انصرام کا ذمہ دار کسے بنایا جا ئے وہا ں آغاز میں ۶۰۰ قیدیو ں کی گنجا ئش تھی اور صرف دو بلاک مین فلو ر اور کسپین تھے اب وہا ں پر ۹ نئے بلاک تعمیر کروائے گئے ہیں اور تو سیع کے بعد حا لیہ اعداد و شمار کے مطا بق یہ تعداد سا ڑھے چا ر ہزار تک پہنچ گئی ہے ۔ جن میں سے اکثر قیدی بالکل بیگناہ ہیں بد کردار ، ظالم ، نا انصاف اور بد ذات امریکہ نے عالمی قوانین کی دھجیا ں اڑا کے رکھ دی ہیں ۱۲ سال سے کم عمر بچے ، 80 سالہ بز رگ اور خوا تین بھی شامل ہیں بگرام جیل اور ہما رے ہا ں مو جود جیلو ں کا موا زنہ کیا جا ئے تو یہ با ت واضح ہو تی ہے کہ جیل میں قیدیو ں کو مقدمہ لڑنے ، وکیل کر نے ، اپنو ں سے با لمشا فہ ملنے اور اپنے مستقبل با رے کسی سے معلوما ت حاصل کر نے کا جو موقع میسر ہو تا ہے وہ بگرام میں ہر گز نہ ہے ۔ حالیہ انکشاف یہ ہوا ہے کہ قیدیو ں کے بقول بگرام جیل گوانتا مو بے اور ابو غریب کے قید خا نو ں سے بھی زیادہ خطرناک اور بر ی ہے ۔ کیو نکہ وہا ں نما ئشی حد تک ہی سہی کم از کم عدالتی چا رہ جو ئی کا موقع تو ملتا ہے بگرام جیل میں عدالتی کا روائی اور مستقبل کے تعین با رے کچھ پتا نہیں چلتا ہے ۔ چند ماہ قبل کا بل میں قائم ایک انسانی حقوق کی نگرانی کر نے والی ایک تنظیم نے اس حوالہ سے انکشاف کیا ہے کہ 2700 قیدیو ں کا مطا لبہ صرف یہ تھا کہ جلد از جلد انہیں عدا لت میں پیش کیا جا ئے ۔ اکثر نے یہ کہاکہ انہیں تا حال پتا نہیں چل سکا کہ انہیں گر فتا ر کیو ں کیا گیا ہے ؟ اور کس جرم کی سزا کا ٹنی پڑ رہی ہے ؟ افغا نستان صو بہ قندھا ر کا ایک معمر چرواہا جس نے ۶ سال بگرام جیل میں گزارے ہیں ۔ یہ بھی ان لو گو ں میں شامل ہے جنہیں لا علمی ہے کہ انہیں امریکی فو جیو ں نے کیو ں گرفتار کیا ہے ؟ ایسے ہزارو ں کی تعداد میں افغان با شندے ہیں جنہیں امریکیو ں نے نامعلوم وجو ہا ت کی بنیا د پر گرفتار کر رکھا ہے ۔ اور سالہا سال انہیں جیلو ں میں رکھا ہوا ہے ۔ ان لو گو ں کو ایسی غلا می اور قید کی زند گی عطا کی گئی ہے کہ جو شاید قبر اور مو ت سے زیادہ بد تر ہے سب سے بڑا مسئلہ اپنے رشتہ دارو ں سے ملاقات کا ہے صرف انٹر نیٹ پر مختصر ملا قات کا مو قع دیا جا تا ہے ۔ بگرام جیل میں امریکیو ں کے مظالم ، سزاؤ ں اور وحشت ناکیو ں کے متعلق تفصیلا ت تا ریخ کا ایک گناؤنا با ب ہے ۔ اس جیل میں ایک تا ریک کال کو ٹھری ہے جس کے متعلق آج تک کچھ زیا دہ منظر عام پر نہیں آسکا ہے ۔وہ ایک بلا کا را ز ہے اور ایک عبرت ناک جگہ سے منصوب ہے جہا ں رات کے پچھلے پہر انسانی روح کا نپتی ہو ئی دکھائی دیتی ہے ۔اور جسم چیختے اور کڑاہتے ہو ئے سنائی دیتے ہیں۔ خبروں کی حد تک نشر کیا جا تا رہا ہے کہ اس کے اختیا رات اور انتظاما ت کر زئی حکومت کے سپرد کردیے گئے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں بگرام جیل سے رہا ہو نے والے ایک قیدی مولو ی حضرت یوسف نے کہاکہ یہ با ت محض پر و پیگنڈہ ہے۔ امریکی فوجی کر زئی حکومت کے اہلکا رو ں سے انتہائی حقارت آمیز سلوک کرتے ہیں بگرام جیل کے قیدیو ں کا حق پر مبنی مطا لبہ ہے کہ کر زئی انتظامیہ اور امریکہ قیدیوں کے مستقبل سے کھیلنے کی بجا ئے انہیں بنیا دی انسانی حقوق فراہم کرے دنیا میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کا ڈھنڈورا پیٹنے والو ں اور اپنے آپ کو مہذب قرار دینے والو ں کا اصل گناؤنا چہرہ ایسی جیلو ں اور دوسرے ملکو ں میں اجارہ داری قائم کرنے سے ہی پتہ چلتا ہے ۔مکا ر،عیا ر اور بدکردار بھا رت، پاکستان میں حا دثاتی یا اتفاقی طور پر ما رے جا نے والے اپنے خفیہ ادارے را کے ایجنٹ سرجیت سنگھ کو اعزازات اور تمغوں سے نوازتا ہے اور جا نے انجا نے میں سر حد پا ر کر کے پکڑے جا نے والے پاکستانی باشندے ثنا ء اللہ کی شہا دت پر حکومتی خامو شی اور اقوام عالم میں موجود این جی اوز اور انسانی حقوق سے وابستہ اداروں کا امتیازی سلوک انتہائی لمحہ فکریہ ہے ۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں                        محو حیرت ہو ں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جا ئے

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : منشیات کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے "ماڈا" (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام سیمینار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker