شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پروفیسر رفعت مظہر / ہوئے تم دوست جس کے

ہوئے تم دوست جس کے

prof. riffatبارک اوبامانے جب پہلی بار امریکہ کے صدارتی انتخاب میں حصّہ لیاتو مسلمان بہت خوش تھے کیونکہ اوباماکے نام کے ساتھ حسین کا ’’لاحقہ‘‘بھی لگا ہواتھا اور دنیابھر کے مسلمان یہی سمجھتے تھے کہ بارک حسین ’’اندرکھاتے‘‘مسلمان ہی ہیں ۔اسی لیے مسلمانوں نے’’چوری چوری‘‘ اُن کی کامیابی کی دعائیں بھی بہت کیں۔ امریکی صدربننے کے بعدجب اوبامانے پَرپرزے نکالنے شروع کیے تومسلمانوں کوپتہ چلاکہ وہ تو اسلام دشمنی میں جارج ڈبلیوبُش سے بھی دوہاتھ آگے ہیں ۔اب محترم حامدمیر نے اپنے کالم میںیہ چونکا دینے والاانکشاف کیاہے کہ بھارت کے نئے’’ فطری اتحادی‘‘ تو ہنومان(بندر) کے بھگت ہیں اور اسی کی پراتھنابھی کرتے ہیں ۔بطورثبوت اوبامانے صحافیوں کو اپنی جیب سے ہنومان کی مورتی نکال کربھی دکھادی تاکہ سندرہے اوربوقتِ ضرورت کام آئے۔اب اصولاََ توہنومان کے اِس بھگت کانام ’’ لالہ بارک حسین اوباما مسیح‘‘ہونا چاہیے لیکن ہوسکتا ہے کہ اُنہوں نے ابھی اپنے نام کے ساتھ یہودیت کا’’تَڑکہ‘‘بھی لگاناہو اِس لیے وہ پرانے نام پرہی اکتفا کررہے ہوں۔اوبامانے بھارت پرنوازشات کی بارش کرتے ہوئے ’’ہندولالوں‘‘کا جی خوش کردیا لیکن امریکہ کی تاریخ تویہی بتاتی ہے کہ
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو
بھارت کوہنومان کا بھگت مبارک ہواورپاکستانی قوم کوزیادہ مبارک بادکیونکہ اب اُمید ہوچلی ہے کہ ہماری جان ہمارے اِس ’’سٹریٹجک پارٹنر ‘‘سے جلدچھوٹ جائے گی اورہم بھی سُکھ کاسانس لے سکیں گے ۔خیال تویہی تھاکہ صرف ہم ہی یوٹرن کے ماہرہیں لیکن اوباماتو ہمارے بھی استادنکلے ۔اُنہوں نے بھارت جاتے ہی’’ مذہبی یوٹرن‘‘ لے کر ثابت کردیاکہ اِس معاملے میں اُن کاکوئی ثانی نہیں۔شایدیہ مغرب کی ہواؤں کا اثرہو کہ ہمارے اپنے الطاف بھائی بھی آئے روز یوٹرن لیتے رہتے ہیں اورمغرب کی فضاؤں میں عمرِعزیزکا ایک حصّہ گزارنے والے عمران خاں بھی۔
لندن میں بیٹھے الطاف بھائی گزشتہ کئی روزسے باربار مارشل لاء کامطالبہ کررہے تھے ۔وہ کبھی جنرل راحیل شریف سے ملک میں مارشل لاء کا مطالبہ کرتے اورکبھی وزیرِاعظم صاحب سے استدعاکرتے کہ سندھ میں مارشل لاء لگادیاجائے لیکن 29 دسمبرکو اپنی تین گھنٹوں پر محیط تقریرمیں اُنہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے فرمایا کہ آئی ایس آئی اوررینجرز میں بہت سے لوگ اُن کے خلاف ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو ایم کیوایم توقبول ہے، الطاف حسین نہیں اِس لیے وہ 30 دسمبرکو حیدرآبادمیں قائم کی جانے والی ’’الطاف حسین یونیورسٹی‘‘کی افتتاحی تقریب کے موقعے پراپنی سیاست کی اختتامی تقریر فرمائیں گے جس کے بعداُن کاایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔الطاف بھائی اِس سے پہلے بھی کئی بارایم کیوایم کی قیادت چھوڑنے کی ’’پھوکی‘‘دھمکیاں دے چکے تھے ۔اُن کی یہ دھمکی بھی’’پھوکی‘‘ہی نکلی اوروہ ایک دفعہ پھر’’پبلک کے پُرزوراصرار پر ‘‘ایم کیوایم کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہوگئے ۔ویسے ایم کیوایم کے اکابرین اگرجی کڑاکرکے ایک بارالطاف بھائی کوکہہ دیتے کہ واقعی وہ ایم کیوایم کی قیادت کرتے کرتے تھک بلکہ ’’ہپھ‘‘چکے ہیں اِس لیے ایم کیوایم اُن پرمزید بوجھ ڈال کراُنہیں پریشان نہیں کرناچاہتی ۔وہ آرام کریں کیونکہ اب اُن کے آرام کرنے کے دن ہی ہیں۔ہمیںیقین ہے کہ جواباََ الطاف بھائی یہی کہتے ’’میں تو مخول کررہا تھا تُم نے سچ ہی جان لیا‘‘۔لیکن بیچاری ایم کیوایم میں اتنی ہمت کہاں۔
ہمارے کپتان صاحب بھی یوٹرن کے ماہرسمجھے جاتے ہیں ۔وہ چھوٹے بڑے یوٹرن لیتے ہی رہتے ہیں ۔ابھی حال ہی میں اُنہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ 122 کے تحقیقاتی کمیشن کے خلاف ایک بڑایوٹرن لیتے ہوئے اُس پرعدمِ اعتمادکا اظہار کردیا حالانکہ وہ باربار اسی تحقیقاتی کمیشن پراندھے اعتمادکا اظہار کرتے رہے اوراسی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر وزیرِاطلاعات پرویزرشید صاحب اورخاں صاحب کی چشمک بھی جاری رہی ۔یہ چھوٹے بڑے یوٹرن تواپنی جگہ لیکن اب اُنہوں نے ایک یوٹرن ایسابھی لیاجس کی ’’اہمیت‘‘کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُن کانام گینزبُک آف ورلڈریکارڈ میں شامل ہونا ضروری ہے ۔آپ کویاد ہوگا کہ اسلام آبادکے ڈی چوک کے دھرنوں کے ابتدائی ایام میں ہی خاں صاحب نے اپنے چاہنے والوں اور’’ والیوں‘‘کو سول نافرمانی کاحکم نامہ جاری کیاتھا۔سول نافرمانی کی کال توبری طرح پِٹ گئی اورتحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمودقریشی تک نے بھی اسے درخورِ اعتنا نہ سمجھالیکن کپتان صاحب ڈٹے رہے لیکن جب اُن کی شادی ’’خانہ آبادی‘‘ہوئی تو اُنہوں نے بھی اپنے بنی گالہ والے محل کالاکھوں روپے کا بجلی کابل اداکرکے اپنے ہی ہاتھوں اپنی سول نافرمانی کو ہوامیں اُڑادیا ۔جب ایک صحافی نے اِس بارے میں سوال کیاتو خاں صاحب نے فرمایا’’میں تو ٹھنڈے پانی سے نہا سکتاہوں لیکن میری بیوی اورگیارہ سالہ بچی نہیں نہا سکتیں اِس لیے مجبوراََ بجلی کابِل ادا کرناپڑا ‘‘۔یہ غالباََ انسانی تاریخ کی سول نافرمانی کی پہلی کال تھی جسے ایک خاتون کے قدموں پہ نچھاور کردیا گیا ۔سچّے عاشقوں کو تو یہی کہتے سنا گیاہے کہ ’’رکھ دیاقدموں میں دل نذرانہ ، قبول کرلو‘‘لیکن ہمارے کپتان صاحب نے ہماری بھابی کے قدموں میں سول نافرمانی رکھ کے ایسی انوکھی اورنرالی مثال قائم کی ہے جسے رہتی دنیاتک یاد رکھاجائے گا ۔
ایک یوٹرن ہمارے پیارے مرنجاں مرنج گورنرپنجاب چودھری محمدسرور نے بھی لے لیا ۔یہ بھی غالباََ مغربی فضاؤں کا ہی اثرتھا کیونکہ چودھری صاحب تواپنی عمرِعزیز کاغالب حصّہ انگلینڈمیں گزارکر پاکستان تشریف لائے اورگورنری کامنصب سنبھالا ۔وہ جاتے جاتے حکومت کو’’چارج شیٹ‘‘ کرتے ہوئے کہہ گئے کہ پاکستان میں سچ کاقحط ہے اوریہاں توقبضہ گروپ بھی گورنرسے مضبوط ہیں ۔دراصل چودھری صاحب کے اندرکچھ نہ کچھ کرگزرنے کی اُمنگ جواں تھی لیکن وہ اُتنے ہی بے اختیارتھے جتنی کہ ملکہ برطانیہ ۔عقیل وفہیم چودھری صاحب کوگورنری کاعہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی یہ سوچ لیناچاہیے تھاکہ پاکستان میں صدر اورگورنر کاعہدہ’’ علامتی‘‘ اور مکمل طورپر بے اختیار ہوتاہے ۔اگرچودھری صاحب نے گورنری سے لطف اندوزہونا تھاتو پھروہ ’’دَورِآمریت‘‘میں یہ عہدہ سنبھالتے کیونکہ پاکستان میں تو صرف دَورِآمریت میں ہی سارے اختیارات صدراور گورنرزکو منتقل ہواکرتے ہیں،جمہوری دَور(خواہ وہ کیساہی کَٹاپھٹا کیوں نہ ہو) میں تو یہ عہدہ بس ’’ایویں ای‘‘ ہوتاہے ۔ہمارے چودھری صاحب کے ساتھ توایک ’’ہَتھ‘‘یہ بھی ہواکہ اُن کا’’مَتھا‘‘ میاں شہبازشریف جیسے وزیرِاعلیٰ سے لَگ گیاجو اِرتکازِاختیارات کوہی اپنی زندگی کا محورومرکز سمجھتے ہیں۔بھلے وہ دوچار وزارتیں بانٹ بھی دیں لیکن اُن کے اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں ہی رکھتے ہیں۔چودھری صاحب کواِس کاادراک تو دوچار ماہ میں ہی ہوگیا تھااور اسی وقت سے وہ ’’پھُر‘‘ہوجانے کے لیے پَربھی تول رہے تھے لیکن شایداُن کی طبعی شرافت آڑے آتی رہی اوروہ اتناعرصہ نکال گئے

یہ بھی پڑھیں  ججز پنشن کیس، سپریم کورٹ کے تین سینئر وکلاء عدالتی معاون مقرر

note