غازی شاہد رضا علویکالم

حقائق

وطن عزیز پاکستان لاکھوں قربانیاں دے کر حاصل کیا گیااسلئے کے یہاں پر ہم قران وسنت کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کریں اور کسی کے محتاج نہ رہیں، اسی بات کے تناظر میں پاکستان کا ایک مقصد لا الہ الا اللہ رکھا گیا تھا ۔مگر دشمنان پاکستان اور غداران وطن کی سازشوں نے پورے ملک و قوم کو ایک ایسے شکنجے میں جکڑا کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے بجائے ہاتھوں میں کشکول اٹھائے دنیا میں یوں در بدر پھرتے نظر آتے ہیں، حکمرانوں نے چن سکوں کے عوض پوری قوم کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھوادیا،قوم کے کرتا دھرتا اپنے ملکی اور غیر ملکی اثاثہ جات میں روزبروز اضافہ کر رہے ہیں۔پوری قوم کے ہاتھ پائوں باندھ کر اسے مہنگائی، کرپشن اور بلیک مارکیٹنگ کی چکی میں پیس ڈالا۔کیا ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں اسلئے دی تھی کے ہماری آنے والی نسلوں کو قرض میں جکڑ کر اغیارکا غلام بنادیں؟ اعلٰی ترین اداروں میں اربوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے اس کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں صرف اس کرپشن کی روک تھام کر دی جائے تو پھر کسی آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ضرورت باقی نہ رہے اور نہ کشکول اٹھائے دربدر پھرنا پڑے، ہمشہ ڈیم کی مخالفت کرنے والے جب حالیہ بدترین سیلاب کا شکار ہوئے تو پکار اٹھے کے کاش ڈیم ہوتے تو یوں برباد نہ ہوتے۔ وطن عزیز پاکستان کو بجلی کے جس سنگین بحران کا سامنا ہے اس کے تناظر میں تو کسی بھی ڈیم کی تعمیر میں روڑے اٹکائے نہیں جاسکتے، واپڈا کے اعلٰی حکام نے پارلیمنٹ کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر پر بھارت کے اعتراضات کی وجہ سے کی وجہ سے ورلڈ بنک نے اس کی تعمیر کیلئے قرضہ دینے سے انکار کردیا تو اسے موخر کردیا گیا، لکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ واپڈا اس سلسلے میں دیگر کیا اقدامات کر رہا ہے،دوسری طرف حکومت رینٹل پاورپلانٹ کی رٹ لگائے ہوئے ارو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے کے ہی باور کرایا جائے کہ موجودہ حالات میں یہی اس کا حل ہے اور اس کے بغیر شاید ملک کو اندھیروں سے نکالنے کا اور کوئی راستہ نہیں لیکن اندرون خانہ دال میں کچھ کالا ہے، جبکہ رینٹل پاور پلانٹ سے اتنی مہنگی بجلی جنریٹ ہوگی جو غالباََ مہنگائی کے مارے عوام کیلئے ا یک تازیانہ ثابتہوگی، جبکہ ہرماہبجلی کی قیمتون میں جو اضافہ کیا جا رہا ہے وہ کس کھاتے میں جارہا ہے، اس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، مہنگائی کی بدترین صورت حال نے لوگوںکوخود کشیوں پر مجبور کردیا ہے، لوگ آخر کب تک خودکشیاں کرتے رہیں گے؟ کب تک اپنے لخت جگر بیچتے رہیں گے؟ کیا کسی کو اس بات کی فکر ہے؟ دوسری طرف ہمارے نظام تعلیم کا یہ حال ہے کہ یہاں کے سرکاری سکولوں میں حکومت کے اعلٰی عہدیدار تو ایک طر ف پہلے سکیل کا ایک عام ملازم بھی اپنے بچوں کو ان سکولوں میں داخل کروانا پسند نہیں کرتا، ہمارے وزرائ، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کے بچے تو غیرملکی یونیورسٹیوںاور کالجز سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد وطن عزیز واپس آکر یہی لوگ ملک و قوم کی تقدیر لکھ رہے ہوتے ہیں، جن لوگوں کو ملک وقوم کی مٹی سے اتنا بھی پیار نہیں کہ وہ یہاں تعلیم حاصل کریں وہ ملک و قوم کے سیاہ سفید کے مالک بن جاتے ہیں، کتنے افسوس کا مقام ہے۔ ایک بار برطانیہ کے وزیراعظم نے اپنے بچوں کیلئے ایک ٹیوشن پڑھانے والے کا انتظام کیا تو ملک بھر میں ایک طوفان برپا ہو گیا کہ ہمارے ملک کے تعلیمی ادارے اتنے گئے گزرے ہیں کہ اب بچون کیلئے ٹیوٹر کا انتظام کیا جا ئے اور تعلیمی ادارون پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جائے، تو مجبوراََ ٹیوٹر کو فارغ کرنا پڑا، جبکہ ہمارے ملک میں گنگا ہی الٹی بہ رہی ہے۔ پاکستان کس طرف جا رہا ہے اس بات کا اندازہ تو ٹرانسپیر انٹر نیشنل کی اس رپورٹ سیہوگیا ہے جس میں انہون نے پاکستان کو کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں دوبارہ شامل کرلیا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ موجودہ سیلاب میں ڈوبے پورے ملک و قوم کو کوئی امداد دینے کو تیار نہ ہے، یہ ایک عدم اعتماد ہے کہ پیسہ ملک وقوم پر خرچ ہونے کے بجئے کرپشن کی نزر ہوجاتا ہے۔ اب تو ہمارا اخلاقی معیار اس قدر گر چکا ہے کہ اچھے برے کی تمیز ہی ختم ہوگئی ہے، کھبی ملک کے اعلٰی ترین عہدے پر فائز شخصیت کسی جعلی ڈگری ہولڈر کے جلسے سے خطاب کرتی ہوئی نظر آتی ہے تو کھبی وزیر صاحب کے خلاف مقدمات میں فیصلہ آنے کے فوراََ بعد جناب صدر اس کی اپیل سے پہلے ہی انکی سزا معاف کرنے کا حکم صادر فرما رہے ہوتے ہیں یا پھر ان کے اپنے ہی محکمے کے لوگ مقدمہ واپس لینے کیلئے عالت میں پہنچ جاتے ہیں۔ سوئس کیسز میں حکومت عدلیہ کی بات ماننے کے موڈ میں نظر نہیں آتی اور ملک کی اعلٰی ترین عدلیہ کو بار بار حکم دینا پڑتا ہے کہ تاخیر کا سبب بتایا جائے۔ کرپشن کی روک تھام کر نے والے ادارے نیب پر دبائو ڈال کر غیر اخلاقی فیصلے کروائے جاتے ہیں۔ مہنگائی اور غربت کی چکی میں پسے عوام کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمارے وزیرقانون کرائے کے طیارے میں گھوم کر ملک بھر کی ایسوسی ایشنز میں رقوم تقسیم کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ وزیر موصوف کی ڈاکڑیٹ کی ڈگری پر بھی سوالیہ نشان ہے، ایک جعلی یونیورسٹی جس پر امریکی عدالت نے لاکھوں ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا،کہ یونیورسٹی گھر بیٹھے جعلی ڈگریاں جاری کرتی ہے لیکن سب کچھ ہی نظر انداز کردیا گیا، اور موجودہ سیلاب نے تو سب ک

یہ بھی پڑھیں  جے آئی ٹی بننے پر مٹھائیاں بانٹنے والے

چھ ڈبو کر ہی رکھ دیا ہے کہ اب اسے جانے دو، آگے دیکھو۔ادھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک بار پھر ڈرون حملے شدت اختیار کر رہے ہیں‘ کیا دنیا کے دعویدار ملک کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ دوسروں پر اپنی مرضی ٹھونسے؟ اگر وہ نہ مانے تو فضائ سے ہی اسے ملیا میٹ کردیا جائے، مانا کے شدت پسند عناصر موجود ہونگیں لیکن جو بے گناہ مارے جارہے ہیں ان کا کیا قصور ہے، کیا ان کا خون اتنا ہی ارزاں ہے؟

یہ بھی پڑھیں  ناقابل تلافی ۔۔۔۔۔۔نا قابل معافی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker