تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

حکمرانوں کے کرنے کے کام

maqsood anjum logoجرمن ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے حا ل ہی میں سولر انرجی کے ایک ایسے وسیع البنیاد پلانٹ کی تعمیروتنصیب مکمل کی ہے جس کی مجموعی پیدا وار بیس جوہری پلانٹ سے بھی زیادہ ہے اور یہ پلانٹ بڑی کامیابی سے چل رہا ہے ۔ انہوں نے نہ صرف سولرانرجی بلکہ بجلی کے دیگر ذرائع بھی تلاش کر لئے ہیں۔جرمن کے تحقیقی اداروں نے کوڑے کرکٹ اور فضلے سے بھی انرجی حاصل کئے جانے کا ہمہ گیر نظام وضع کرلیا ہے۔سولر انرجی سے بحری جہاز ،کشتیاں ،ہوائی جہاز،موٹر کاریں موٹر بائیکس اور صنعتی و گھریلو انسٹریومنٹس چلا کر انرجی بچانے کی منظم جدوجہد کی ہے۔
فی الوقت تونائی کی بنیادی کھپت 2.4فیصد کے برابر قابل تجدید وسائل سے حا صل کی جا رہی ہے جہاں تک ان ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کا تعلق ہے تو ان ذریعوں سے مجموعی طور پر پانچ فیصد بجلی حاصل کی جا رہی ہے ۔ اندازہ ہے کہ 2016تک قابل تجدید ذریعوں سے بجلی کی پیداوار 5سے6گناہ ہو جائے گی اگر کوئی شخص شمال جرمنی کے ساحل کے ساتوساتھ سفر کرے تو اسے ہوا سے چلنے والے سینکڑوں جنریٹر نظر آئیں گے۔جن سے بیشتر زرعی فارموں کے ساتھ نصب ہیں۔وفاتی جمہوریہ جرمنی کی حکومت 100میگا واٹ منصوبے کے تحت ہوا سے چلنے والے بجلی کے پلانٹ لگانے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔جو لوگ اپنے استعمال کی بجلی پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں انہیں مالی امداد کے ساتھ ٹیکنالوجی اور ہنر بھی فراہم کر تی ہے جگہ جگہ ایسے ادارے قائم ہیں جہاں صارف اپنی منشاکے مطابق پلانٹ کی تعمیروتنصیب کے لئے مشاورت کر سکتا ہے اور مالی و فنی امداد لے سکتا ہے۔ہوا کی قوت سے بجلی پیدا کرنے میں لوگوں کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے اور حکومت ایسے افراد کو ہر طرح کی حوصلہ افزائی کے موقع فراہم کرتی ہے۔ان مقاصد کے حصول کے لئے قرضے آسان اقساط پر دئیے جاتے ہیں اور ٹیکنا لوجی کے بارے میں تربیتی سہولتیں بھی دی جاتی ہیں۔ بائیوگیس کی پیدا وار میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں کو ہر طرح کا تعاون حا صل ہوتا ہے۔فنی تعاون کے دفاتر میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔اس وقت جرمن بجلی کے پیدا واری ذرائع کے فروغ کے لئے ہمہ تن گوش ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ ہے فنی و مالی اداروں میں کسی طرح کی رشوت یا بد عنوانی کا سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا ۔ یورپ میں جرمن کو بجلی کے ذرائع تلاش کرنے میں سبقت حاصل ہے۔جرمن تحقیقی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرتا ہے۔جرمن کی بعض کمپنیاں اور ادارے ترقی پزیر ممالک میں پلانٹ کی تعمیروتنصیب میں مصروف نظر آتی ہیں۔
جرمنی کی معتبر اور ورسٹائل ٹیکنالوجی سے لیس کمپنی سیمنز نے الیکٹریکل اور الیکٹرونکس کے شعبہ میں انقلابی اہداف حاصل کئے ہیں یہ کمپنی نہ صرف صنعتی بلکہ طبی انسٹریومنٹس اور مشینری کی پیدا وار میں بھی دیگر کمپنیوں سے بہت آگے بڑھتی نظر آرہی ہے۔لیکن ہم ہے کہ بجلی کی بھیک مانگتے اپنے جانی دشمنوں کے دروازے کھٹکھٹانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ہماری بد قسمتی کہ ہم کالا باغ ڈیم بنانے میں بھی ناکام رہے ہیں اس پر مستزا د یہ کہ ہمارے تحقیقی اداروں کو اپنے دفاتر میں قلمی کا م کرنے کے لئے کاغذ پنسل خریدنے کے لئے فنڈز نہیں دیے جاتے تو تحقیقی سرگرمیاں کیسے ممکن ہو سکیں گی۔مزید یہ کہ تحقیقی و صنعتی سرکاری اداروں ،کمپنیوں،لیباٹریوں اور ورکشاپس میں پڑی مشینری اور ایکویمپنٹس کی دیکھ بھال کے لئے فنڈ زنہ ہونے کے باعث کروڑوں کے نقصانات برداشت کر لئے جاتے ہیں اور ہمارے ذمہ داران کی آگ تک نہیں بھڑکتی۔ میں فیڈرل منسٹری آف ایگریکلچر کے ایک ایسے بڑے ادارے کی ایم ٹی ورکشاپ میں کام کر چکا ہوں جہاں سینکڑوں موٹر گاریوں کی مرمت و دیکھ بھال کی ہر قسم کی ورکشاپس موجود ہیں لیکن ہر گاڑیوں کا کام یہاں تک کہ ٹائروں میں ہوا اورپنکچر بھی باہر سے لگوائے جاتے تھے ۔سروس اسٹیشن ،پینٹ شاپ،ویلڈنگ اور مشین شاپ ورکشاپ کے اندر بے کار پڑی تھیں اور عملہ حرام کی روزی کھانے میں لگا ہوا تھا ۔،میں نے ادارے کے ڈائریکٹر اینڈ ایڈوائزر کو نوٹ لکھ کر بھیجا کہ اگر آپ قومی خزانے کو برباد ہونے سے بچانے کی خواہشمند ہیں تو میں حاضر ہوں اور پھر اس محب وطن ڈائریکٹر ایڈ وائزر نے مجھے یہ کام سونپ دیا اور ڈی ڈی او کے اختیارات دینے کے علاوہ بیرونی ادارہ جات کے ساتھ بلاواسطہ خط و کتابت کا اختیار بھی دیا پھر چند ماہ میں ورکشاپ کے اندر ایک انقلاب برپا ہو گیا۔گاڑیاں سروس اسٹیشن پر شیڈول کے مطابق سروس ہونے لگیں۔پینٹ شاپ میں روز ایک گاڑی پینٹ ہو کر سڑکوں پر فرائے بھرنے لگی۔ڈینٹنگ کی ورکشاپ میں ٹھک ٹھک کا شور برپا ہوا۔بیٹریاں ورکشاپ میں چارج ہونے لگیں حتیٰ کہ ہر چھوٹا بڑا کام حرام کھانے والے کاری گروں کے ہاتھوں انجام پانے لگا۔پھر مجھے کراچی راس نہ آیا ۔
ازاں بعد
میں نے جو محکمہ جوائن کیا اس کے بارے میں بھی ضرور لکھوں گا کیونکہ وہاں مجھے ایک ایسا پروجیکٹ ملا جس کی بحالی کا کام مجھے سونپا گیااور میں نے اس بھوت بنگلے کوشیش محل میں تبدیل کیا آج وہ ادارہ 50ہزار روپے روزانہ انکم دے رہا ہے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button