تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

حکمرانوں کو سوچنا ہو گا ۔۔!!!!

mirza arifمسلمانوں کو جب پاکستان بنا کر دیا گیا تودشمن نے اپنا چہرہ اس طرح دیکھا کہ انگریز بھی حیران ہو گیا گاندھی نہیں چاہتا تھا کہ مسلمانوں کی اپنی ریاست ہو خوشی خوشی آنے والے مسلمانوں کو کس طرح گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا ابھی ہم نے پاکستان کو آباد کیا ہی تھا کہ دشمن نے حملہ کر دیا مگر افوج پاکستان نے دشمن کو بتا دیا جذبہ کیا ہوتا ہے ملک بھارت جو کہ ہمارا سب سے قریبی بھی ہے اورسب سے زیادہ دشمن بھی ہمارا ہے کراچی ائیرپورٹ پر جو ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے اس میں بھی بھارت کا ہاتھ شامل ہے مودی نے آتے ہی اپنا رنگ دیکھا دیا ہے ہمارے ملک کے ایجنسی کیا کر رہی ہیں پورا ملک آگ میں جل رہا ہے پہلے دنیا میں ہم بدنام ہیں اس وقعہ سے اور بدنام ہوکر رہے گئے ہیں ابھی تک ہم نے اپنے دشمن کو کچھ نہیں کہا جب بھی ہما رے ملک میں کچھ ہوتا ہے تو ہم طالبان کا نام لیتے ہیں ایسا کیوں ہے کراچی میں ہونے والے واقعہ کا کون قصور وار ہے یہ سب کس نے کیا کتنے گھر اجڑ گے کتنی ماؤں کے بیٹے جدا ہو گے کتنے بچے یتیمہو گئے کتنی بیٹیاں بیوہ ہو گئیں کب تک ایسے ہوتا رہے گا کب تک ملک پاکستان کے دشمن ایسے کرتے رہے گے جب سے یہ ملک آزاد ہوا ہے تب سے ایسے ہی ہوتا آرہا ہے بھارت ہمارا دشمن تھا اور دشمن ہے ۔ جب سے ہم نے ایٹم بم بنایا تو سب سے زیادہ تکلیف بھی بھارت کو ہوئی وہ یہ سوچ رہا تھا مسلمان ہے کام کس طرح کر ینگے جب ڈاکٹر قدیر خان نے کہا اگر ہم چاہئیں تو بھارت کی سر زمین کو ہلا کر رکھ دے تو پھر بھی بھارت کو یقین نہیں آرہاتھا ایٹم بم کے خالق ذوالفقارعلی بھٹو 1964‘28 مئی میں کہا تھا ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹمبم ضرور بنائے گے اب کیوں لیڈر اس طرح کی بات نہیں کرتے دشمن ہمیں کمزور سمجھتا ہے ذوالفقار علی بھٹو کو ڈاکٹر قدیر خان کی شکل میں جو اپنے وطن سے محبت کرنے والا شحض مل گیا ڈاکٹر قدیر خان نے وہ خواب پورا کر دکھایا جو وطن پر قربان ہونے والا ڈاکٹرقدیر خان پاکستان کا سرمایہ ہیں مگر ہم نے ان کی قدر نہیں کی آج بھی ڈاکٹرقدیر خان پاکستانی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں اور پاکستان کے عوام ہمیشہ انکی دل سے قدر کرتے ہیں جو ہمارے لیے کچھ کرتا ہو جو حالات آج ملک کے پاکستان کے چل رہے ہیں اس میں کسی اور کا ہاتھ نہیں بلکہ ہمارا اپنا کردار ہے۔فلک شگاف انداز میں ڈاکٹر قدیر خان کہے رہے ہیں کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہیں جو ہماری حکومت دوسروں سے کروانا چاہتی ہے اس ملک میں معدنیات کی کمی نہیں ہے ہم خود اپنے لیے بجلی تیار کر سکتے ہیں لیکن کوئی اس بات کو مانتا ہی نہیں جس دن ہمیں ہوش آیگا اس دن ہمارے پاس قدیر خان جیسا محب وطن اور وطن عزیز سے پیار کرنے والا شخص ہم میں نہ ہو (خدا نہ کرے)پھر ہم نور جہاں کا وہ گیت گائیں گے ’’اے پتر ہٹہ تے نیں وکدے تو لبدی اے بازار کوڑے‘‘ آج جو لوگ سب سے زیادہ شور کرتے ہیں کہ انہوں نے ایٹمی دھماکہ کیا 28 مئی کو وطن کی آرمی نے اس وقت کے اور موجودہ وزیراعظم کو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ دھماکہ ہر صورت میں کرنا ہے ‘وزیراعظم کو خود آرمی لے کر گئی تھی اب جو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے دھماکہ کیا تھا جب بھی کوئی بات ہو تو ہم نے ایٹم بم بنایا ہے ہم وطن کو ترقی یافتہ بنائینگے ‘ ایسیملک ترقی یافتہ نہیں بن جاتے اگر ترقی دی جا رہی ہے تو اپنے خاندان کو اپنے کاروبار کو‘ عوام جیسی پہلے تھی اب بھی ویسے ہی ہیں 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو نے جو پالیسی بنائی تھی جو ملک کو دے کر گئے تھے اس کے بعدکون سا بڑا تیر مار لیا آئین بھٹو نے دیا‘ ایٹم بم بھٹو نے دیا‘ چین جو آج ہمارا سب سے ا چھا دوست کہلاتا ہے‘بھٹو نے دنیا کے نقشہ پر لایا ‘ مزدور کو اس کا حق بھٹو نے دیا‘ ڈاکٹر قدیر خان کو بھٹو لے کر آیا‘ پہلی اسلامی کانفرس بھٹو نے کروائی‘ پورئی دنیا کو بھٹو نے بتایا‘ پاکستان قوم آ نکھوں میں آنکھیں ڈا ل بات کر سکتی ہیں‘ دشمن ملک بھارت سے قیدی بھی بھٹو لے کر آیا‘ امریکہ کو سفید ہاتھی بھٹو نے کہا ‘ذوالفقارعلی بھٹو کی بیٹی بینظیر بھٹو نے دیکھاکس طرح سیاست کی جاتی ہے سابق صدر جنرل مشرف کو مجبور کر دیا اگر ملک میں نواز شریف نہیں ہو گا تو الیکشن نہیں ہونگے عظیم لیڈر کی عظیم بیٹی نے جو کچھ کر دیکھایا آج کے حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔جس امریکہ کو آج ہم سب کچھ مانتے ہیں اس وقت بھی ایسے لوگ تھے جو بھٹو کو کام کرنے نہیں دیتے تھے مگر آج بھی تاریخ کو ا ٹھا کر دیکھ لو تو جتنی بڑی قربانی بھٹو نے دی کوئی بھی نہیں دے سکتا پوری دنیا نے اس وقت کہا تھا بھٹو ہمیں دے دو مگر بھٹو نے کہا میں پھانسی کو قبول کر لونگا مگر اپنا وطن چھور کر نہیں جاؤ ں گا ہے کوئی ایسا لیڈر جو پھانسی کے پھندے کو خوشی سے اپنے گلے میں ڈال لیا ایک ہم ہیں جو بھارت جا کر ہیمالنی سے کہتے ہیں کہ آپ کی اداکاری بہت پسند ہے جب بھی آپ کی کوئی فلم آجائے میں ضرور دیکھتا ہوں آ پ آئے ہمارے گھر ہم آپ کو جاتی عمرہ دیکھائیں گے آپ دھرمندر کو بھی ساتھ لیکرآئے‘ ہمارے وزیراعظم کو بھارتی فلمیں بہت زیادہ اچھی لگتی ہیں اس کے ساتھ اداکاری بھی اچھی لگتی ہو جس ملک کے وزیراعظم کے پاس تنا وقت ہے کہ وہ تین گھنٹے کی فلم دیکھ سکتا ہے اپنے ملک کی نہیں بلکہ دشمن ملک کی فلم خود سوچیں اس نے طن کو کیا دینا ہے وزیراعظم کے آنے کے بعد بھارت نے صبح کی ازان پر پابندی لگانے کا سوچا مگر کسی نے کوئی بات تک نہ کی وہی بھارت اپنے ملک میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڈ توڑرہا ہے پھر بھی ہم
چپ ہیں اپنے ملک میں کیا کچھ کرتے ہیں کیا وہ سب ٹھیک ہوتا ہے مودی کے آنے پر ہم خود چل کر جاتے ہیں کیا وہ بھی ہم ٹھیک کرتے ہیں جس ملک نے ہمارا پانی بند کر دیا ‘چار ہزار ڈیم بنا لیے پھر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا اور ہمارے سوکھے دریاؤں کی فریاد کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتی نہ ہی ایوانوں میں بیٹھنے والوں نے سوچا اس ملک کی ضرورت پانی ہے ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے بنجر زمینیں کب تک ایسے ہی رہیں گی جس ملک نے کبھی ہمیں اچھا نہیں سمجھا پھر بھی ہم ایسے کریں تو شرم آ تی ہے ہمیں جو بھی کام کرنا ہے ‘مودی کی سوچ کو دیکھ کر کرنا ہے ۔اگر بھارت نے اذان بند کی تو ہو سکتا ہے وہ خود بول بھی نہ سکیں پا کستان نے کبھی بھی غیر مذہب کو کچھ نہیں کہا کہ تم اپنی عبادات نہ کرو بلکہ مسلمان غیر مذہب والوں کے پاس جا کر خود پوچھتیہیں کہ کوئی تکلیف تو نہیں ہیں کیونکہ ہمارا دین اسلام ہمیں مذہبی روا داری کا ہی درس دیتا ہے جبکہ دوسری جانب بھارت کے شہر بنگلور میں ہندو ؤں نے مسلمانوں کو عبادات سے روکا ہے ‘ سب سے بڑی جمہوریت کے چمپئن بھارت کو شرم آنی چاہے کہ دوسرے مذاہب کا احترام کرنا چاہئے‘ مودی نے بطور وزاعلیٰ بابری مسجد کے ساتھ بھی غلط کیاتھا ‘مودی اگر غلط کاموں سے باز نہ آئے تو ہو سکتا ہے بھارت میں بھی خانہ جنگی شروع ہو جائے پوری دنیا میں مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں پریشان ہیں‘ یہودی نہیں چاہتا کہ مسلمان خوش حال ہو ں لیکن ایک وقت آئیگا جب مسلمان دنیا پر حکومت کرینگے وہ وقت دور نہیں ۔کراچی میں جو بھی ہوا حکومت کو چاہے کہ وہ تیار رہیں دشمن ہمارے سر پر بیٹھا ہے۔ امن کا پیغام لیکر جانے والے دیکھ لیں کہ بھارت نے ہمیں امن کے پیغام کے بدلے کیا دیا ؟ اگر ہمارے اندر کا ضمیر زندہ ہے تو ہمیں سوچنا ہو گا کہ اب وہ لیڈر اس دنیا میں نہیں رہے جو بات کرنا بھی جانتے تھے اور بات منوانہ بھی جانتے تھے اب تو سیاست کاروبار کا نام رہے گیا ہے سیاست اس کا نام نہیں جو آج کل ہو رہی ہے عوام تبدلی چا ہتے ہیں ‘ بہتر نظام چاہتے ہیں ہم پوری دنیا میں مذاق بن کر رہے گئے ہیں ‘ ہمیں سوچنا ہو گا ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!