فرخ شہباز وڑائچکالم

حکومتی عذاب!

لکھنے کا ارادہ تو دوہری شہریت والوں پر تھا ۔ مگر درمیان میں بجلی نے اپنی اہمیت کا احساس دلایا اور مجھے مجبو ر کیا کہ میں بجلی کی افادیت و اہمیت پر لکھوں۔ لوڈ شیڈنگ جو وطن عزیز میں ایک بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے ۔اس کی وجہ سے ہر آدمی پریشان نظر آتا ہے۔ چاہے و ہ کوئی صنعت کار ہو یا کسی فیکٹری میں کام کرنے والا مزدور ہو۔ہر کسی کو روزگار کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔چار سال گز ر چکے ہیں۔مگر حکومت ابھی تک مشرف کو لعن طعن کرنے اور اپنے ہواریوں کو نوازنے میں مشغول ہے۔بجائے اس کے کہ بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات کیے جائیں بجلی کے نرخ اور بڑھا دیے ہیں ۔اس صورتحال میں غریب عوام واپڈا کے دفاتر اور سیاستدانوں کے گھروں پرحملے نہ کریں تو کیا کریں۔۔؟خود ٹھنڈے محلوں میں رہنے والے اور ٹھنڈی گاڑیوں میں سفر کرنے والے تھوڑی دیر احتجاج میں شامل ہو کر ’’مگر مچھ کے آنسو‘‘ بہا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔بڑھتے ہوئے احتجاجی مظاہرے عوام میں پائے جانے والے غم و غصہ کی کیفیت ظاہر کر رہے ہیں۔اس مرتبہ عوام کو ’’ بے وقوف‘‘ بنانے کی وزارت احمد مختار کے حصہ میں آئی ہے۔اس سے قبل یہ ذمہ داری نوید قمر بخوبی سر انجام دیتے رہے ہیں۔لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے ’’ لارے‘‘ تو گزشتہ چار سال سے لگائے جارہے ہیں۔لیکن بحران پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے ۔ ایک اندازے کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہائیڈرو پروجیکٹس کے ذریعے 70ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔صوبے کی نہروں اور قطع زمین میں منی مائیکرو سمال پلانٹس کے لیے ہزاروں سائٹس موجود ہیں۔ایک 50 کلو واٹ کا مائیکرو پاور سٹیشن 100گھرانوں کے لیے بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔دیر ،چترال ، سوات شانگلہ اور مانسہرہ لوگوں نے بجلی کی سہولت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 100سے زیادہ پلانٹس لگائے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا ہ میں تقریباْ منی ہائیڈرو پلانٹس لگائے جا چکے ہیں۔ نیشنل کنٹرول پاور سینٹر کے مطابق 2ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میںآنے کے بعد شاٹ فال 4ہزار میگا واٹ رہ گیا ہے۔وطن عزیز کے بیش بہا قیمتی وسائل کو اگر استعمال میں لایا جائے تو لوڈ شیڈنگ میں کمی آسکتی ہے اوربجلی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔پاکستان میں صحرائی علاقوں میں مسلسل تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ان ہوائوں کو استعمال میں لاکر بڑ ے پنکھے جن کی مدد سے ٹربائن چلتی ہے۔اگر صر ف ان علاقوں میں جہاں مسلسل یہ ہوائیں چلتی ہیں وہاں یہ پنکھے لگائے جائیں تو ان کی مدد سے ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ ہمارے ملک کی 33فیصد بجلی پانی کے مختلف ذرائع سے پیدا کی جارہی ہے۔ان ذرائع میں دریا نہریں اور ڈیم وغیرہ شامل ہیں۔پاکستان 6500میگا واٹ بجلی ڈیموں کی مدد سے پیدا کر رہا ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں سیاسی نا اتفاقی اور حکمرانوں کی نا اہلی کے باعث ڈیموں کے منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو پارہے۔جن میں کالا باغ ، بھاشا ڈیم قابل ذکر ہیں۔بھاشا ڈیم 1250میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ڈیموں سے بجلی پیدا کرنے کی واضح مثال ہمارے دوست ملک چین کی ہے۔جہاں دنیا کا سب سے بڑا ڈیم موجو دہے ۔اور چین سالانہ بنیادوں پر اس ڈیم سے 26000میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔اگر پاکستان چاہے تو پانی سے ایک لاکھ بیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔ صرف سور ج کی روشنی سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں ابھی تک شمسی توانائی سے ایک میگا واٹ بجلی بھی پید ا نہیں کی جارہی ۔اگر چھتوں پر سولر پینل لگا کر شمسی توانائی پیدا کی جائے تو گھروں میں آرام سے بجلی مہیا کی جا سکتی ہے۔بلوچستان کے زخائر سے استفادہ کیا جائے تو صرف کوئلے سے پاکستان اگلے کئی سالوں کے لیے بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔اور اسی سے ملتا جلتا پروجیکٹ ہمارے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک نے نے شروع کیا ان کے مطابق ان ذخائر سے نہ صرف بجلی بلکہ گھروں کے لیے گیس اور ڈیزل بھی حاصل ہو سکتا ہے۔
لیکن خبر یہ بھی ہے ۔ اس پروجیکٹ کو رکوانے کے لیے پٹرولیم مافیا بھی میدان میں اتر چکا ہے۔جس کی وجہ سے پروجیکٹ سست روی کا شکار ہے۔ اگر ہمارے حکمران مخلصانہ نیت کے ساتھ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا سوچ لیں۔اور وسائل کو استعمال میں لائیں تو صرف چند ماہ میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔آّخر میں قارئین کے لیے ایس ایم ایس حاضر ہے۔ڈئیر کسٹمر ! اب واپڈا لایا آپ کے لئے نیا عوامی پیکج ’’ 5کا 55‘‘ یعنی ہر پانچ منٹ بجلی استعمال کریں۔اور 55منٹ تک بجلی کی شاندار بچت حاصل کریں۔وہ بھی بالکل فری اور ساتھ ہی موبائل چارج نہ ہونے سے بیلنس کی بچت۔۔۔۔۔ بجلی جانے پر صبر کرنے سے صابرین میں شمار ۔۔۔۔۔۔۔ بجلی آنے پر اللہ کا شکر کرنے سے شاکرین میں شامل یعنی جنت میں جانے کے بے شمار موقع وہ بھی ہر جگہ ۔۔۔۔۔ نوٹ۔آپ کا پیکج زبر دستی ایکٹو کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ایم کیو ایم کا ظلم کب تک ؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker