تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

ہم کیسے ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں

maqsood anjum logoپاکستان وسط ایشیاء اور وہاں سے چین اور روس تک رسائی کے لیے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔اس حیثیت کی وجہ سے بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا کہ سیاسی استحکام اور امن و امان کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں پوری قوم کے مفادات کی نگہبان جمہوریت کو فروغ دیا جائے اور منصفانہ انداز حکومت قائم کیا جائے۔اپنی اس خصوصی حیثیت سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ایک اور ضروری امر یہ ہے کہ پاکستان میں بنیادی سہولتوں کا جدید ڈھانچہ استوار کیا جائے،مثلاً اچھی سڑکوں کا جال بچھایا جائے،ریلوے نظام کو بہتر اور موئثربنایا جائے،پائپ لائن بچھائی جائے،مواصلات کے جدید ذرائع بروئے کار لائے جائیں اور پاکستان سے وسطی ایشیائی ممالک اور وہاں سے چین روس اور یورپ تک توانائی کی ترسیل کا نظام قائم کیا جائے۔
یورپی یونین،جرمنی،روس ،چین اور جاپان کے ماہرین 1980ء کے عشرے کے اواخر سے تندہی سے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں یورپ اور مشرقی ایشیا کے درمیان بنیادی سہولتوں کا ڈھانچہ تیار کیا جائے اور اسے وسعت دی جائے۔ان سہولتوں میں مختلف اقسام کی توانائی کی ترسیل کے ذرائع اور مواصلاتی نظام کو اولیت حاصل ہو۔مقصد یہ ہے کہ بنیادی سہولتوں کے نظام کو بتدریج ترقی دی جائے۔تاہم، باہم سماجی معاشرتی اور سماجی اقتصادی تعلقات فروغ پائیں۔یہ کام نہ صرف مسافروں اور مال کی تجارت کے لیے ذرائع ٹرانسپورٹ بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس طرح کے مغربی یورپ کی تکنیکی مہارت وسطی ایشیائی ملکوں خصوصاً سائبیریا کے وسائل سے بھی بھر پور استفادہ کیا جائے۔مستقبل کے اس تناظر میں امریکہ کو بھی خاصی دلچسپی ہے کیونکہ بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل دونوں کا براعظم یورپ اور بر اعظم ایشیا سے تعلق ہے۔
علاوہ ازیں چین اور جاپان کے ماہرین ،مشرقی ایشیا ،ایشیابحرالکاہل،جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیائی ممالک سے ٹھوس اقتصادی تعلقات کے ذریعے براعظم ایشیا کے ترقیاتی وسائل سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ان اہم منصوبوں کے بعض حصّے تکمیل کے آخری مراحل میں نہیں مثلاًمسافروں کے لیے بہتر فضائی رابطے اور معلومات و اطلاعات کے لیے مصنوعی سیاروں کے توسط سے مواصلاتی نظام بندرگاہوں پر سامان لادنے اور اُتارنے کا بہتر نظام ،چین اور یورپ کے درمیان ریلوے لائن جو ٹینگ ینگ کو روٹر ڈیم سے ملاتی ہے۔یورپ اور روس کے درمیان تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے گیس پائپ لائن ،ابھی اس نظام کو چین اور جاپان تک وسعت دینا باقی ہے۔مغربی یورپ تک توانائی کی ترسیل کا نظام موجود ہے اور اسے مشرقی یورپ تک بڑھانے کا کام جاری ہے۔ایک مسئلہ جو گزشتہ چند برسوں میں تمام حکومتوں کے لیے مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے،یہ ہے کہ کمپیوٹر کے بڑھتے ہوئے استعمال عالمی تجارت اور ایک دوسرے کے اطلاعات و معاملات کے نظاموں تک رسائی اور ثقافتی یلغار کی وجہ سے سیاسی،سماجی،اقتصادی اور معاشرتی فیصلوں کی راہ میں مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
عوامی جمہوریہ چین کو وسطی اور جنوبی ایشیا(کشمیر اور افغانستان) کے معاملوں میں اور زیادہ متعد اور سر گرم ہونا پڑے گا۔تاہم یہ پہلو زیادہ توجہ طلب ہے کہ اگرچہ چین کو جنوبی اور وسطی ایشیا پر امریکہ اور یورپی یونین حتٰی کہ اقوام متحدہ کے مقابلے میں بھی صلاحیتوں مثلاً جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کے مقابلے میں پیچھے ہے۔مزید یہ کہ کبھی چین کو خود اپنے بہت سے اندرونی مسائل حل کرنا باقی ہیں ۔لہٰذا وسطی اور جنوبی ایشیا میں امریکہ ، جاپان یورپی یونین اور کثیر القومی کمپنیوں کی مدد کے بغیر با مقصد ترقی ممکن نہیں ہے۔
ایشیا کے مختلف خطوں مثلاً مشرقی ایشیا بحرالکاہل ،جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان عظیم تر اقتصادی تعاون کے مجوزہ فوائد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک کہ جنوبی ایشیائی اور وسطی ایشیائی ملکوں کے درمیان بنیادی سہولتوں کا فرق اور زیادہ نہ کر دیا جائے۔اس لیے مستقبل قریب میں ایشیا کو شاہراہوں اور ریلوے لائن کے علاوہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے پائپ لائنوں کی تعمیر کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔مثلاً تاشقند ،سکھر ،کراچی ریلوے لائن کے علاوہ یورپ سے روس (سائبیریا)اور چین کو ملانے والی لائن کی ضرورت ہوگی۔ٹیکنیکل مہارت اور بین الاقوامی سرمایہ موجود رہے ۔تاہم علاقے میں قابل ذکر مقدار میں سرمایہ اسی صورت میں پہنچے گا جب علاقہ ہر قسم کی کشیدگیوں سے پاک ہو گا۔ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کا تصفیہ ہو جائے اور افغانستان میں حالات معمول پر آ جائیں۔عوامی جمہوریہ چین،پاکستان اور بھارت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔چینی قیادت کا بھارے سے نرم دلانہ رویہ بہت سے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔مندرجہ بالا صورت حال پاکستان کی زبردست ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔مثال کے طور پر کراچی اور گوادر ایک خوشحال بندرگاہیں بن سکتی ہیں۔جن کے نتیجے میں پاکستان کے علاوہ نئے تجارتی راستے کے اطراف کے علاقوں اور تجارتی مراکز میں روزگار کے مواقع اور دولت کی فراوانی ہو گی۔
اسی طرح وسط ایشیائی ملکوں اور بھارت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔تاہم یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو بعض اقدامات کرنے ہوں گے مثلاً احتساب اور شفافیت کے عمل کے علاوہ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاح کے ذریعے اسے منصفانہ بنانا ہو گا۔سرمایہ کاری اور بنیادی سہولتوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔تعلیم خصوصاً پیشہ وارانہ تعلیم عام کرنا ہو گی۔دفاعی اخراجات میں کمی اور کام کے طریقہ کار میں بھاری تبدیلی کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔کیونکہ پڑوسی ممالک بہترین پارٹنر بن سکتے ہیں۔اس سلسلے میں فرانس اور جرمنی کی قابل تقلید مثال موجود ہے۔ان دنوں ملکوں کے درمیان دشمنی اور طویل جنگیں رہی ہیں لیکن اب وہ ایک دوسرے کے بڑے تجارتی اور کاروباری پارٹنر ہیں۔کیا وجہ ہے کہ جرمن معاشرہ اتنا زیادہ خوشحال ہے ۔حالانکہ جرمنی میں تیل یا گیس جیسے معدنی وسائل برائے نام پائے جاتے ہیں،جنوب مشرقی ایشیاء میں کاروبار میں اتنی فراوانی کیوں ہے،پاکستانی عوام کو اور زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں اپنے ہم وطنوں اور معاشرے کی جانب سے عائد ہونے والی مزید ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ ملک کے پالیسی سازوں اور سیاستدانوں میں اب ان حقائق کا احساس پایا جاتا ہے۔مشرقی ایشیائی ملکوں کی ترقی کے اسباب کے بارے میں خاصا غورو فکر اور بحث و مباحثہ ہوتا ہے ۔مشرقی ایشیائی ممالک کی ترقی کی وجوہات یہ ہے کہ انہوں نے خوب سوچ سمجھ کے پالیسیاں و ضع کی ہیں اور ان پر بھر پور عمل کیا ۔پالیسیوں کی تیاری میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور اس کامیابی میں مسلسل سیاسی استحکام ،اہلیت اور میرٹ کی سر بلندی اور جوابدہی کے احساس سے سرشار بیوروکریسی کی متحدہ کارکردگی کا نتیجہ ہے ۔ان ممالک کی پالیسی کا ایک خاص پہلو مغربی ملکوں پر انحصار کی بجائے مشرق سے تعلقات بڑھانا اور اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی معجزانہ ترقی ان ہی کی تمام کاوشوں کا نتیجہ ہے اور یہ سب کچھ پاکستان بھی کر سکتا ہے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز منصفانہ اور پائیدار ترقی کے ان عوامل کو کماحقہ اہمیت دیں ۔پالیسی سازوں کو یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دوسرے پارٹنر ممالک امریکہ،یورپی یونین،روس، چین ،جاپان حتٰی کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور بھارت اور وسط ایشیائی ممالک ،وسط ایشیائی اور بحیرہ عرب کے درمیان بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے کی عدم موجودگی میں بھی مزید ترقی کر سکتے ہیں۔لیکن بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہو جانے کے بعد یہ ممالک اور زیادہ فوائد حاصل کر سکتے ہیں ۔تاہم ان سہولتوں کی فراہمی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔لہٰذا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔لہٰذا پاکستان کو بڑے جرائتمندانہ اقدامات اُٹھانا ہوں گے۔جس سے ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔اگر اسی نے سازگار ماحول پیدا نہ کیا تو اس صورت میں کوئی ملک سرمایہ کاری نہیں کر سکے گا۔وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور عالمی ماحول تبدیل ہو رہا ہے اگر پاکستان نے یہ موقع ضائع کر دیا تو بہت بڑی بدقسمتی ہو گی۔تکثریت یعنی مل جل کر کام کرنا علاقائی تعاون موجودہ دور کا تقاضا اور ناگزیر ضرورت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں ایک سے زیادہ ممالک کے مل جل کر کام کرنے اور علاقائی تعاون کے بغیر کسی ملک کی سلامتی ،اقتصادی ترقی اور سماجی فلاح و بہبود کا تصور بھی محال ہے۔
یہ سفارشات اور تجاوزات جرمن فیڈریشن ایبرٹ فاؤنڈیشن کے نمائندے گونتھے والیوسکی نے پیش کی ہیں۔اس قسم کی سفارشات آراء و تجاویز ہمارے اپنے اقتصادی ماہرین بھی پیش کر چکے ہیں۔مگر افسوس صد افسوس کہ ہم اقتدار کی کشمکش اور ذاتی مفادات کی جنگوں میں اُلجھ کر نہ صرف ملک عزیز کو ان گنت مسائل و مشکلات سے دو چار کر چکے ہیں بلکہ غریب کو غربت کی دلدل میں گلے تک دھنسائے جا رہے ہیں اور نعرے غربت مٹانے کے لگاتے ہیں۔یہ بھی سچی حقیقت ہے کہ جس طرح ہمارے سیاستدان سیاسی محاذ آرائی میں مصروف رہتے ہین۔اس طرح ہمارے دشمنوں نے بھی ہمیں ہر محاذ پر نقصان پہنچانے میں کبھی دیر نہیں لگائی۔آج امریکہ،بھارت،اسرائیل،برطانیہ اور افغانستان کے جنگی پالیسی ساز ادارے ہماری سرحدوں پر نقب زنی میں دن رات مصروف ہیں ۔بلوچستان،سرحد اور سندھ ان کی میٹ لسٹ پر ہیں۔آج کل بلوچستان میں خفیہ کاروائیوں کے ذریعے پاکستان کا دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔اور یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلوچی آزادی چاہتے ہیں۔شمالی علاقوں،باجوڑ،وزیرستان،میران شاہ اور سوات میں دہشتگردوں کی سرکوبی کی آڑ میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔قبائلیوں کو آزادی کے لیے اُکسایا جا رہا ہے۔ان حالات میں جرمن فیڈریشن ایبرٹ کے نمائندے گونتھے والیوسکی کی سفارشات کیا رنگ لا سکتی ہیں۔جب تک امریکہ ہماری شمالی سرحدوں پر اپنے اتحادی نیٹو کے ہمراہ براجمان ہے اور بھارت ان کی پشت پناہی حاصل کرنے میں پیش پیش ہے ہماری ترقی اور خوشحالی کے تمام منصوبے بے کار ہیں ۔پاکستان قوم کو از خود تمام باتوں کا نوٹس لینا ہو گاکیونکہ ہماری نو خیز جمہوریت کی بعض کمزوریوں کے باعث ہمارے دشمن بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔لگتا ہے کہ جمہوریت بھی زخم خوردہ ہے جس کے باعث ہمارے حکمرانوں کے قدم کوئی اہم فیصلہ کرتے وقت ڈگمگا جاتے ہیں۔نفسیاتی طور پر ہم اپنے دشمنوں سے خوفزدہ ہیں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker