ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

ہم مسلمان یا لبرل مسلمان

تخلیق آدم سے آج تک دین صرف اسلام ہے اور اس کے ماننے والے کو مسلم کہتے ہیں ۔ ہر وہ شخص مسلمان ہے جو ایک اللہ ، فرشتوں ، اللہ کے رسول ، اس پر نازل کردہ کتاب اور قیامت پر ایمان لائے ۔ نبی آخرالزماں ﷺ کی تشریف آوری کے بعد مسلمان وہ ہے جو سابقہ انبیا ء اور کتب پر ایمان رکھتے ہوئے حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا آخری نبی اور قرآن کو آخری الہامی کتاب مانتے ہوئے ان کی تعلیمات پر عمل کرے ۔ جس نے سچے دل سے اس بات کا اعتراف کرلیا ہم نے اس کو مسلمان مان لیا۔ امت محمدی سے پہلے اللہ کے احکامات ماننے والے بھی مسلمان تھے مگر ہمارے لیے یہ باعث فخر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے محبوب اور پیارے نبی حضرت محمد 249ﷺ کی امت میں سے ہیں۔ مسلمان وہ ہے جو کلمہ توحید کا اقرار کرے لیکن حقیقی مسلمان وہ ہے جو کلمے کو پڑھ کراس کا پاس بھی کرے۔
الحمد اللہ دنیا میں نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان کی بنیاد کلمہ توحید پر رکھی گئی تھی تاکہ مسلمان اپنے ملک میں آزادی سے اپنے مذہبی فرائض احسن طریقے سے ادا کرسکیں۔ جہاں زندگی اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر گزارسکیں۔ جو دنیا بھر کے لیے فلاحی اسلامی مملکت کا منظر پیش کرے ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دستور دیا ہے ۔ آج قرآنی تعلیمات کو جدید سائنس کے تجربات سچ ثابت کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کہ کفر اور اسلام میں فرق کیا ہے؟ کفر اللہ کی فرمانبرداری سے انکار ہے اور اسلام صرف ایک اللہ کی فرماں برداری کا نام ہے ۔ یعنی انسان ہر ایسے طریقے، قانون یا حکم کو ماننے سے انکار کر دے جو اللہ کے احکامات کے خلاف ہو۔ اسلام اور کفر کا یہ فرق قرآن مجید میں صاف صاف یون بیان کر دیا گیا ہے :
ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم اللکفرون۔ (المائدہ: آیت 45)
’’یعنی جو شخص خدا کی اتاری ہوئی ہدایت کے مطابق فیصلہ نہ کرے، ایسے ہی لوگ دراصل کافر ہیں‘‘۔
یہاں فیصلہ سے مراد محض عدالتی فیصلہ نہیں جو اللہ کی کتاب کے مطابق ہو بلکہ اس سے مراد انسانی زندگی کے ہر ایک لمحہ کا فیصلہ ہے ۔ ہر موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں کام کیا جائے یا نہ کیا جائے؟ فلاں بات اس طرح کی جائے یا اس طرح ؟ فلاں معاملہ میں یہ طریقہ اختیار کیا جائے یا کوئی اور ؟ایسے تمام مواقع پر ایک راستہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ بتاتے ہیں جب کہ دوسرا طریقہ انسان کی نفسانی خواہشات ، آباء اجداد کی رسمیں اور انسانی قانون بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ اور رسول ﷺ کے طریقے کو چھوڑ کر کسی دوسرے طریقے کو اختیار کرتا ہے وہ دراصل کفر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اگر کسی نے ساری زندگی ہی یہی ڈھنگ اختیار کیا ہے تو وہ پورا کافر ہے۔ اور اگر بعض معاملات میں اللہ کی ہدایت کو مانتا ہو اور بعض میں اپنی خواہشات ،رسم و رواج یا انسانوں کے قانون کو خدا کے قانون پر ترجیح دیتا ہو، تو جس قدر بھی وہ اللہ کے قانون سے بغاوت کرتا ہے اسی قدر کفر میں مبتلا ہے۔ یعنی جتنی اللہ کے قانون سے بغاوت ہے اتنا ہی کفر بھی ہے۔ا
اسلام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انسان صرف اللہ کا بندہ ہو۔ نفس کا بندہ نہ باپ دادا کا ، خاندان اور قبیلہ کا بندہ نہ مولوی و پیر کا بندہ۔ لبرل مسلمان اس کو کہتے ہیں جو آزاد خیال ہو۔ جس کی سوچ وسیع ہو۔ جو جب دل چاہے اسلام کے اصولوں پرعمل کرے اور جب دل کرے وہ دنیاوی رسم و رواج اور دنیاوی قانون کے مطابق عمل کرے۔
کیا قرآن میں کہیں مسلمانوں کی اقسام لکھیں ہیں؟ کیا اسلام حصوں میں بٹا ہوا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ یہ سب ہمارے نامی گرامی لوگ، بڑے بڑے علما کرام اور پیسے کے بل بوتے پرعوام پر رعب جمانے والوں کا کیا دھرا ہے ۔ ایسے لوگ اپنے مفاد کے لیے اسلام کو بھی استعمال کرتے ہیں اور دنیاوی قوانین کو بھی۔ جس کی مثال پچھلے دنوں ہمارے حکمرانوں نے سچ ثابت کرائی۔ اسلام دیت لینے کی اجازت دیتا ہے مگر وہ مقتول کے ورثا کی رضا مندی پر۔ مگر ادھر بھی ہمارے حکمرانوں نے اسلامی تعلیمات کا ناجائز استعمال کیا۔ ریمنڈ ڈیوس جو اسلام دشمن ملک کا دہشت گردہے پچھلے دنوں پاکستان میں قتل کے جرم میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ۔ حکمرانوں نے اپنے آپ کو لبرل مسلم ثابت کرنے کے لیے اس سے دیت لی اور اس کو ملک سے فرار کرادیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جج اور نام نہاد دیت لینے والے ورثا بھی ملک بدر ہو گئے تاکہ پاکستانی عوام کو حقیقت سے بے خبر رکھا جائے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام اپنی بہن، بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی دیت دینے کو تیار نہیں؟ حکمران آج اعلان کریں کہ امریکہ دیت لیکر ڈاکٹر عافیہ کو چھوڑ نے کے لیے تیار ہے۔ خدا کی قسم ایک نہیں ہزاروں لوگ منہ مانگی دیت دینے کو تیار ہیں۔ غیر مسلم طاقتیں لبرل مسلمانوں کی مخالف نہیں بلکہ وہ اسلام اور سچے مسلمانوں کی مخالف ہیں اور دنیا سے مسلمانوں اور اسلام کو ختم کرنے کے در پر ہیں۔
ہم لوگ بڑی آسانی سے کسی کو بھی لبرل مسلمان کا نام دے دیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ اسلام یا قرآن میں کہیں لبرل کالفظ آیا ہے؟ مسلم ممالک کے حکمران غیر مسلموں کی خوشنودی کے لیے اسلام کی تشریح غلط انداز میں کردیتے ہیں۔ وہ غیروں کی غلامی کے لیے اللہ کی غلامی سے آزاد ہو کر اسلامی اصولوں کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔ آج غیر مسلم اسلام کے ساتھ ساتھ اللہ کے محبوب نبی ﷺ کی توہین کررہے ہیں مگر ہم خاموشی سے اس کو برداشت کررہے ہیں۔
نبی مکرم ﷺ کی توہین پر مبنی فلم مارکیٹ میں آئی ہے مگرہمارے حکمران فلم پر پابندی لگوانے اور بنانے والے ملک سے تعلقات ختم کرنے کی بجائے خاموش بیٹھے ہیں۔ دوسرے اسلامی ممالک میں ان کے خلاف مظاہر ے ہورہے ہیں اور ہمارے ملک کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ان طریقوں سے وہ اپنے آپ کو لبرل ظاہر کرنا چاہتے ہیں مگر یہ اسلام کے سراسر خلاف ہے۔اگر ہم سچے مسلمان ہیں تو پھر اسلام کے خلاف ہر سازش پر ہمیں آواز اٹھانی چاہیے کیونکہ دنیا عارضی مگر آخرت ہماری ابدی زندگی ہے ۔قرآن کسی بھی پیغمبر ، آسمانی کتاب یا مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دیتا ۔ مسلمان صرف مسلمان ہے اور جس نے بھی اسلام کے خلاف کفر کا ساتھ دیا اس کا حشر قیامت میں انہی کے ساتھ ہی ہو گا ۔ فیصلے کی اس گھڑی میں ہم سب کو اپنا کرادر ادا کرنا چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیں  مسلمانوں کی بقاء اور سا لمیت کے لیے اتحاد امت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، الشیخ مصبا ح المالک لقمانوی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker