تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

ہم نہیں بھولیں گے

tajumalہم اس وقت شاید پریس کلب کے سامنے ہونے والے کسی احتجاج کی کوریج میں مصروف تھے جب ہمیں خبر ملی کہ پشاور میں کسی سکول پر دہشتگردوں نے حملہ کر دیا ہے۔ اس خبر کا سننا تھا کہ ہم سب پریس کلب کی جانب دوڑ پڑے۔ ہم سب کچھ بھول کر ٹی وی سکرین پر نظریں جما کر بیٹھ رہے تاکہ اس واقعہ کی تفصیلات جان سکیں۔ پھر ہم نے ٹی وی سکرین پر جو مناظر دیکھے وہ دل دہلا دینے والے تھے۔ 16دسمبر 2014کا قیامت خیز دن کون بھول سکتا ہے۔ یہ آرمی پبلک سکول پشاور تھا، جہاں دہشتگردوں نے ظلم و بربریت کی انتہا کر دی۔ سات دہشتگرد سکیورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس تھے اور سیڑھی کے ذریعے سکول کی عقبی دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ وہ خود کش جیکٹیں پہنے جدید ترین اسلحہ سے لیس تھے۔ وہ اپنے ناپاک ارادوں پر عمل پیرا ہو چکے تھے۔ خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ دہشتگردوں نے معصوم کلیوں کو مسلنا شروع کر دیا تھا۔ ننھے بچوں کو چن چن کر شہید کیا جا رہا تھا۔ مرکزی ہال میں پہنچ کر درندوں نے بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جبکہ خارجی راستوں پر بھی بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ پاک فوج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا تھا۔پوری قوم سکتے میں آچکی تھی۔ بچوں کے والدین سکول کے باہر پہنچنا شروع ہو چکے تھے اور اپنے بچوں کے لئے شدید پریشان تھے۔ کئی گھنٹے طویل آپریشن کے بعد ایس ایس جی کمانڈوز نے تمام حملہ آوروں کو واصل جہنم کیا۔
کیا قیامت کا عالم تھا کہ جب ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچے خون میں لت پت پڑے تھے اور اپنی جاں وطن پر قربان کر کے شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہو چکے تھے۔ یہ بات درست کہ شہید ہو کہ وہ معصوم حیات جاوداں پا گئے مگر جن ماؤں نے انہیں سکول جاتے ہوئے ماتھے پر بوسہ دے کر یہ کہا تھا کہ بیٹا جلدی آنا، ان کے دلوں پر تب کیا بیتی ہو گی جب ان کا لخت جگر خوں میں نہایا گھر لوٹا ہو گا۔ کتنی ہی ماؤں کے آنکھوں کے تارے ان سے چھین لئے گئے، کتنی ہی بہنوں سے ان کے بھائی جدا کر دئیے گئے۔ اس قیامت خیزلمحے میں یقیناًدھرتی کانپ اٹھی ہو گی اور آسماں بھی لرز اٹھا ہو گا اور کائنات کی ہر شے اپنے مالک سے سوال کرہی ہو گی کہ
؂ خالق وقت! اتنا بتا
کیا وہ لمحہ بھی تیری ہی تحریر تھا
جس گھڑی میرے شہروں کی بستی ہوئی بستیاں
قتل کر دی گئیں، خوں سے بھر دی گئیں
اور سن لامکانوں کے تنہا مکیں
تیرے گھر کو گرانے جو آیا کوئی
تو پرندے پیام اجل بن گئے
اور میرے شہر میں کتنے آباد تھے جو مکاں جل گئے
اور پرندوں کے سب آشیاں جل گئے
ابرعا اور اس کے سبھی لشکری
تیرے در سے جو ناکام لوٹے تو کیا
میرے شہروں پہ یوں آ کے وارد ہوئے
ہم زمیں زاد لوگوں کے گھر لٹ گئے
آشیاں گر پڑے اور شجر لٹ گئے
رب کعبہ ! تجھے تیرے گھر کی قسم
جو سلامت رہااور سلامت رہے
سلامت رہے، تاقیامت رہے
میرے برباد شہروں کی فریاد سن
ابرہا کا وہی لشکر فیل ہے
ہم کو پھر انتظار ابابیل ہے
ہم کو پھر انتظار ابابیل ہے۔۔۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وطن کی مٹی نے خون کا خراج مانگا تو ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹے اورپاک سر زمین کی خاطر اپنا طن من دھن پیش کر دیا۔ سانحہ پشاور میں بھی جرات و بہادری کی ایک عظیم مثال سامنے آئی۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ جب حملہ آور ان کی کلاس میں داخل ہوئے تو ان کی چوبیس سالہ ٹیچر افشاں احمد درندوں کے سامنے پہاڑ کی مانند ڈٹ گئی اور بچوں کو کمرہ جماعت سے باہر جانے کے لئے کہا۔ جس پر طیش میں آ کر سفاک درندوں نے افشاں احمد پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی لیکن یہ عزم و ہمت کی پیکر عظیم معلمہ ایسی حالت میں بھی اپنے طلباء کو باہر نکالنے کی کوشش کرتی رہی۔ جس قوم کی بیٹیاں ایسی دلیر ہوں اس قوم کو جھکانا کسی کے بس کی بات کہاں ہو سکتی ہے بھلا۔
سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے بچوں نے قوم کو اتحاد و یگانگت کی ایسی راہ پر کامزن کیا کہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف یک زبان ہو کر محفوظ پاکستان کے سفر کی جانب چل نکلی اور تجدید عہد کیا کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہ کو اٹھنے سے پہلے جھکا دیں گے اور وطن کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور دشمن کو یہ پیغام دیا کہ ہم ایک قوم ہیں اور اس کا مقابلہ پاک فوج سے نہیں بلکہ اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں سے ہے جو اسے اس کے ناپاک ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ پاک فوج جس طرح اندرونی و بیرونی طور پر دشمن کے خلاف برسر پیکار ہے وہ قابل صد تحسین ہے اور ہمیں آج جو امن و امان کی کرنیں نظر آ رہی ہیں یقیناًیہ پاک فوج کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ اے پی ایس کے ننھے شہیدوں! ہم تمہیں اور تمہاری قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ پوری قوم تمہیں سلام پیش کرتی ہے۔ تم نے اپنے خون سے اس دھرتی کو سیراب کیا ہے، انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان امن و امان کا گہوارہ ہو گا، ترقی یافتہ اور خودکفیل ہوگا۔ تمہارا خوں رنگ لائے گا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button