شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ہم ہیں پڑھے لکھے جاہل

ہم ہیں پڑھے لکھے جاہل

ڈاکٹرصاحبان معاشرے کے وہ افرادجوانسانیت کی خدمت میںمصروف نظر آتے ہیں۔ معاشرہ بھی ان ڈاکٹرصاحبان کی دل سے قدر کرتا ہے کیونکہ ڈاکٹرصاحبان مریضوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں۔بعض اوقات تویہ سمجھیں کے مریض کو دوسری زندگی دیتے ہیں۔یہ ڈاکٹر ز بڑے ہمدرد انسان ہوتے ہیں۔ڈاکٹرز کو معاشرے میںبڑا مقام حاصل ہوتا ہے۔سب لوگ عزت کرتے ہیں۔اس طرح ڈاکٹرزکا اپنے خاندان میںبھی علیحدہ مقام ہوتا ہے۔جسکی وجہ ان کی لمبی پڑھائی اور انتھک محنت ہے جس کے بل بوتے پریہ ڈاکٹر بننے کامیاب ہوتے ہیں۔
اس طرح اپنا اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کرتے ہیں۔ معاشرے میں ڈاکٹرز کی عزت و مقام دیکھ کرتقریباً تمام والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کی خواہش ظاہرکرتا ہے۔اس لیے بچپن میں ہر بچہ ڈاکٹر بننے کے شوق کا اظہارکرتاہے اگر کبھی ڈاکٹر بننے کے شوقین بچے سے یہ پو چھ لیں کہ آپ ڈاکٹر کیوںبنو گے ؟تو صرف ایک ہی جواب حاصل ہوگاکہ’’ میں ڈاکٹربن کر لوگوںکی خدمت کروں گا۔غریبوںکا مفت علاج کروں گا‘‘۔اب دیکھیں کہ ایک بچے کاڈاکٹربننے کا ارادہ صرف انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے ہے۔
جب کہ حقیقت اس کے برعکس نہیںخوش قسمتی سے بننے والے ڈاکٹرز اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے پختہ ارادے کو جاری رکھتے ہوئے انسانیت کی خدمت میںمصروف ہوجاتے ہیں۔مریضوں کا علاج معالجہ کرتے ہیںان کی جانیں بچاتے ہیںاور ان کے جسمانی دکھ درد کو دور کرتے ہیں۔جیساکہ قرآن پاک میںارشاد ربانی ہے۔’’جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویااْس نے ساری انسانیت کی جان بچائی‘‘
ڈاکٹرز کافی مریضوںکو موت کہ منہ سے نکالتے ہیں۔مریضوں کی جان بچاتے ہیں۔
اِس لیے یقیناًخدا نے ڈاکٹرز کو معاشرے میںاعلٰی مقام دلایاہے۔اگرڈاکٹرصاحبان اپنے فرائض میںغفلت نہ برتے اور انسانیت کی خدمت کرتے رہے تو یقیناً ان کوآخرت میں بھی اعلٰی مقام مرتبہ حاصل ہوگا۔اگر یہ ہی ڈاکٹرصاحبان اپنے فرائض میںغفلت برتے اور اِس غفلت کے پیش نظرجانی نقصان ہوجاتا ہے تو اِسکے ذمہ داربھی ڈاکٹرز ہونگے۔
ٓآج کل کچھ نوجوان ڈاکٹرز نے جوصورتحال پیدا کی ہے وہ کافی افسوس ناک ہے۔اِن کے کارنامے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
اِن ڈاکٹرصاحبان نے ہسپتالوں کی تالا بندی کی۔اِن کا فرض ہسپتال آکرمریضوں کا علاج معالجہ کرنا ہے اور یہ سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔اِن کا فرض مریضوںکی عمر بڑھانا ہے اوریہ اپنی آمدنی بڑھانے کے چکر میں بھاگے پھر رہے ہیں۔ کبھی تالا بندی کبھی بھوک ہڑتال اور کبھی احتجاجی ریلیاں یہ سب کچھ صرف اپنی آمدنی میںاضافہ کے لئے اِن سب پر دولت کا بھوت سوار ہے۔اِن نوجوان ڈاکٹرصاحبان کو ذرا خیال نہ آیا کہ ہسپتال پڑے مریضوںکا کیا ہوگا؟اِن بچاروں کا کیا قصور ہے۔مگراِن بے رحم بھڑئیوںکوذرا رحم نہ آیا۔اپنے فرائض کا خیال نہیں تھاتو چھوڑو انسانیت کے ناطے ہی ایسا کرنے سے گریز کرتے۔اِن پڑھے لکھے جاہلوں میں ذرا انسانیت ہوتی توکبھی ہسپتالوں کی تالا بندی نہ کرتے ۔ابھی اِن نوجوان ڈاکٹروںکے سفر کا آغاز ہے۔ یہ اپنے فرائض پورے کرتے تو آہستہ آہستہ اِن کو ترقیاںمل ہی جاتیں۔مگر اِن کی حالیہ پیداکردا صورت حال کے پیش نظر جومعصوم جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔اِن جانوںکے ضائع ہونے میں جن ڈاکٹروں کی غفلت شامل ہے اِنہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔تاکہ تاریخ میںایک باب رقم ہو جائے اور آئندہ آنے والی نسلوں کو واضح ہوجائے کہ اپنے حقوق کے حصول سے پہلے اپنے فرائض پورے کرنے ہونگے۔خدا اِن نوجوان ڈاکٹروںکو درست سوچ سمجھ عطا کرے۔

یہ بھی پڑھیں  نوازشریف اورجہانگیر ترین نااہلی:تاحیات ہو گی یا نہیں ؟ لاجر بینچ تشکیل