شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ”ہم زمانے میں خدا جانے کہاں موجود ہیں ؔ“

”ہم زمانے میں خدا جانے کہاں موجود ہیں ؔ“

تصوف کے حوالے سے رویم کہتے ہیں کہ تصوف کا مطلب نفس کو اللہ کی مرضی پر چھوڑ دینا ہے،شبلیؒ نے کہا کہ صوفی وہ ہوتا ہے جو دونوں جہاں میں بجز اللہ عزوجل کے اور کسی کو نہ دیکھے۔ذوالنون مصری نے لکھا کہ صوفی وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب کچھ چھوڑ کر خدا کو اپنا لیا۔تصوف کو کسی دانشور نے نوافلاطونیت سے ماخوذ بتایا تو کسی فلاسفر نے بدھ مت سے اور کسی اہل علم نے تصوف کو یو نانی فلسفہ کی بنیاد قرار دیا توکسی مفکر نے اسے رہبانیت کا پیش خیمہ بتایااور کسی نے اسلام کو اس کا سرچشمہ قراردیا،اپنی اپنی سوچ و فکر کے مطابق تصوف کی تعریف کی جاتی رہی ہیں۔بلاشبہ تصوف کے حوالے سے اس درجہ سوچ و فکر اِس کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہیں۔شعروادب میں تصوف کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کیا گیا خصوصاً اُردو شاعری کے توحسن و عشق اور تصوف ہی دو اہم موضوعات رہے ہیں کچھ شعراء نے تصوف کو فقط برائے شعرگفتن خوب است کے طور پر برتا اور اہل ذوق کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کچھ شعراء کرام ایسے بھی ہیں جنہوں نے حسن و عشق اور تصوف پر کیا خوب طبع آزمائی کی کہ قاری فی البدیع ”سبحان اللہ سبحان اللہ“پکار اُٹھا۔
عصر حاضر میں آصف نظیر کا شمار بھی اُنہیں صفِ اول کے شعراء کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اِن کو موضوع سخن بنایا اور حق ادا کر دیا۔آصف نظیر نے یوں تو ہر موضوع پر بڑی مہارت سے قلم اٹھایا مگر تصوف کو جس کمال فنی ہنرمندی اورتخلیقی احساس سے مزین کر کے شاعری میں ڈھالا ہے سبھی ان کے معترف ہیں اوریوں وہ ہر حلقہ شعروادب میں ہر سطح پر خوب پذیرائی کے حقدار بھی بنے ہیں۔آصف نظیر کے صوفیانہ کلام کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت آشکار ہونے لگتی ہے کہ یہ اپنی ساری جدوجہد کائنات اور حیات کے اسرارِ سر بستہ کو سمجھنے میں صرف کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ شاید میرؔ نے ان جیسے تخلیق کاروں کیلئے ہی لکھا ہے کہ تصوف کی گہری چھاپ کی وجہ سے لوگ ہر ذرے میں حسنِ مطلق کی تلاش کرتے ہیں۔ آصف نظیر کا تازہ مجموعہ کلام ”لاموجود“منظرعام پر آتے ہیں حلقہ شعروادب میں مقبولیت سمیٹنے لگا ہے۔ اس کتاب میں شامل دیگر موضوعات کی طرح صوفیانہ کلام بھی قاری کو اپنے حصار میں لئے بغیر نہیں چھوڑتا۔
پروفیسر ڈاکٹرمعین نظامی اپنے مضمون بعنوان ”جہانِ لا موجود“میں لکھتے ہیں کہ آصف نظیر کے مجموعہئ کلام ”لا موجود“ کی شاعری مختلف رنگ اور جداگانہ ذائقے کی شاعری ہے۔حُسنِ الفاظ کے پیرہن میں شدتِ احساس جلوہ گر ہے۔ایقان و عرفان کی تہ داری اور سرشاری سے تشکیل پانے والی یہ شاعری راحتِ قلب و نظر کا سامان بھی ہے اور تسکینِ شعور و فکر کا سرمایہ بھی۔شاعر کی وجدانی کیفیات میں وفور بھی ہے اور مستی و رعنائی بھی۔ وہ دل کی بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔مزید لکھتے ہیں کہ یہ مجموعہئ کلام دشتِ حیات و کائنات میں شاعر کی جریدہ روی کی سر گذشت ہے اور اِس طلسماتِ تنہائی میں بہت سے عجائب و غرائب جھلک دکھاتے ہیں۔ ماورائی علوم و فنون سے شغف اور اِن میں ممارست کے شواہداِس شاعری میں جابجا نظر آتے ہیں اور کیفِ سخن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔صاحبِ مطالعہ شاعر اگر خوش قسمتی سے اپنا حاصلِ مطالعہ تخلیقی ہنر مندی سے جزوِ شعر بنانے میں کامیاب ہو جائے تو وہ شاعری ایسی ہی مختلف ہوتی ہے جیسی اِس مجموعے کی شاعری۔
کبھی گو نہ مکتب میں آئے گئے تھے
عجب علم ہم کو سکھائے گئے تھے
ہماری طرح تھیں تمھاری شبیہیں
مگر تم سے ہٹ کر بنائے گئے تھے
ہمارا قبیلہ تھا سب سے مقدم
ہمی قتل گاہوں میں لائے گئے تھے
سب اسماء ہمارے ہی تھے اسمِ اعظم
جو مشکل میں سب کو پڑھائے گئے تھے
ہمارے تعرّف کو درجہ بہ درجہ
الف لام اور میم لائے گئے تھے
اِس مجموعے میں فارسی کے عظیم صوفی شاعرخواجہ فریدالدین عطّار نیشا پوری کے ایک معرکہ آرا قصیدے کی بہت کامیاب منظوم ترجمانی کی گئی ہے جسے تخلیقِ مکرر کہنا چاہیے،یہ ترجمانی بجائے خود خاصے کی چیز ہے۔ آصف نظیر کو اِس مجموعے کی اشاعت مبارک ہو۔یقینا یہ سفینہئ سخن شایانِ شان داد و تحسین حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا کیوں کہ اِس میں سراہے جانے کے قابل بہت کچھ ہے۔
آصف نظیرکے کمال فن پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے”فنِ شعر سے کامل آگاہی“کے عنوان سے افتخا ر عارف اپنے مضمون میں کہتے ہیں کہ
لا موجود آصف نظیرکا دوسرا مجموعہ کلام ہے۔اِس سے قبل اِن کی غزلوں کی پہلی کتاب ”موج میں دریا“ کے عنوان سے اربابِ سخن شناس سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہے لیکن زیرِ نظر مجموعہ اپنی نوعیت میں ایسا مجموعہ ہے کہ اِسے پڑھ کر ایک حیرت انگیز خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ غزلوں پر مشتمل اِس مجموعے میں تہذیبی فضااور منفرد لب و لہجے میں بیان کردہ کلاسیکی روایت کا تسلسل اِس مجموعے کو بڑی تعداد میں چھپنے والے دوسرے شعری مجموعوں سے ممتاز کرتا ہے۔
تخلیقات ِ آصف پر علامہ بشیر رزمی پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مضمون بعنوان”تجھے ہم ولی سمجھتے“میں لکھتے ہیں کہ آصف نظیر شعری مثلث تخیل،عروض اور موسیقی سے نہ صرف آشنا ہے بلکہ وہ عملی طور پر بھی اِس کا اظہار کرتا ہے اِس حقیقت کے لیے اِس کی پہلی کتاب ”موج میں دریا“ اور زیرِ نظر تازہ مجموعہئ غزلیات ”لاموجود”کا مطالعہ کافی ہے۔آصف نظیر پہلے ”موج میں دریا“ میں غزل کی گُل پوش وادیوں میں محوِ ُگل گشت رہا اور پھر تصوف کی پُر اسرار وادیوں میں داخل ہواتو لاموجودمیں اپنے شباب تک پہنچا۔زیرِ نظر کتاب لا موجود محض تصوف کے مضامین پر مبنی کتاب نہیں ہے بلکہ اِس کے ہر صفحہ پر ملکہِ ناکتخدا غزل جدید مضامین کے تنوع اور آصف نظیر کے منفرد لب و لہجے کے ساتھ پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہے کیونکہ غزل کا دامن بہت وسیع ہے اور شائد موضوعات کا یہ تنوع کسی اور صنفِ سخن کو نصیب نہیں آپ اِس میں انسانی جذبات اور احساسات کے صد رنگ پہلو بیان کر سکتے ہیں یہاں تک کہ جدید اور قدیم کی حدیں ختم ہو کر رہ جاتی ہیں۔اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بلاشبہ آصف نظیر کی یہ تازہ تخلیق وقت کے ساتھ ساتھ مقبولیت کے اُس قابل رشک مقام پر پہنچے گی جس کی یہ مستحق ہے۔تصوف کے تجسس میں سرگرداں قارئین اس کتاب کے مطالعے سے اپنی پیاس خوب بُجھا سکتے ہیں، غزلوں پر مشتمل کتاب ”لاموجود“ کی تعارفی قیمت 400روپے ہیں جسے نستعلیق پبلی کیشن سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  تعلیمی اداروں میں سالانہ چھٹیوں کا شیڈول جاری