تازہ ترینکالم

پاکستانی عسکریت پسندوں کا فلاحی چہرہ

تحریر: ہما یوسف

ہمایوسف پاکستانی اخبار ڈان کی کالم نگار ہیں، جنہوں نے 2010 اور 2011 میں واشنگٹن میں ولسن انٹرنیشنل سینٹر میں پاکستانی اسکالر کے طور اپنی خدمات سرانجام دی ہیں ۔جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے سربراہ حافظ محمد سعید کی جانب سے امریکہ کو امداد فراہم پیش کش کے بعد ان کا یہ کالم نیویارک ٹائمز کے بلاگ سیکشن میں شایع ہوا، اس کاترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

نیو یارک کے عہدیداران کو سینڈی طوفان کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے ایک ایسے ذریعے سے امداد کی پیش کش کی گئی، جس کا انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ حافظ محمد سعید جوکہ پاکستان کی ایک عسکریت پسند تنظیم کے بانی سمجھے جاتے ہیں اور ان کے سر کی قیمت 10ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ منگل کو اپنے ایک بیان میں حافظ محمد سعید نے کہا کہ ان کی تنظیم جماعۃ الدعوۃ ’’ اپنے رضا کار، ڈاکٹرز، خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان انسانی ہمدردی کے طور پر امریکا بھیجنے کے لئے تیار ہے، اگر وہ ہمیں اجازت دیں‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ہم اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اپنا اسلامی فریضہ سمجھتے ہیں کہ مصیبت میں پھنسے امریکی عوام کی مدد کی جائے‘‘
یہ پیش کش جو کہ بظاہر مضحکہ خیز ہے لیکن در حقیقت ایک ایسے چیلنج کو واضح کرتی ہے جس میں یہ انتہا پسند گروپ اور ان کی سرگرمیوں کو روکا جانا ضروری ہے۔ یہ انتہا پسند گروپ اپنی آواز کو آگے پہنچانے کے لئے بڑے پیمانے پر رفاع عامہ کے کاموں کو استعمال کرتے ہیں۔ امریکا جس کو 74%پاکستانی اپنا دشمن سمجھتے ہیں ، کو امداد کی پیش کش کرنا ، جماعۃ الدعوۃ کی ایک ایسی تدبیر ہے کہ جس سے وہ اپنے فلاحی کاموں کا لوہا منوانا چاہتی ہے اور مزید دلوں اور دماغوں کو فتح کرنا چاہتی ہے۔
بلاشبہ اپنے سخت گیر دشمنوں کو مصیبت کے وقت مدد کی پیش کش کرنا اخلاقیات میں سب سے اعلیٰ قابل تحسینسخاوت والا عمل سمجھا جاتا ہے۔ جماعۃ الدعوۃ لشکر طیبہ کی فلاحی تنظیم ہے، یہ وہ انڈیا مخالف گروپ ہے جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے نومبر 2008 ء میں ممبئی میں دہشت گرد حملے کیے۔ یاد رہے کہ جماعۃ الدعوۃ کو ان حملوں کے بعد(اقوام متحدہ کی جانب سے) پاکستان میں کالعدم قرار دیا گیا تھا لیکن وہ اپنی دعوتی سرگرمیاں اور فلاحی کاموں کو باقاعدہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن لوگ انہیں ان کے پرانے نام سے ہی پہنچاتے ہیں۔
امریکی حکومت نے جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل کیا ہے، گزشتہ سال اپریل میں حافظ محمد سعید کی گرفتاری اور جرم ثابت کرنے کے لئے مدد کی فراہمی پر 10 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا، تاحال حافظ محمد سعید پاکستان میں آزادی سے گھومتے ہیں، امریکا مخالف ریلیوں سے خطاب کرتے ہیں،انڈیا کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں اور میڈیا میں بھرپور طریقے سے موجود رہتے ہیں۔
بدھ کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر امریکی سفارت خانے نے حافظ محمد سعید کی امریکا میں طوفان پر امداد کی پیش کش کو ان الفاظ میں مسترد کردیا :’’ہم مصیبت زدہ کی مدد کرنے کی اسلامی روایات کا احترام کرتے ہیں ، لیکن حافظ محمد سعید کی پیش کش کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتے‘‘۔ ایک اور ٹوئٹ میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ :’’حافظ محمد سعید پر ممبئی حملوں کا الزام ہے ، جس میں 166 لوگ مارے گئے، جماعۃ الدعوۃ اقوام متحدہ اور امریکا میں دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل ہے‘‘
بات یہاں تک نہیں رُکی بلکہ جماعۃ الدعوۃ نے امریکی سفارتخانے کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے امریکی مسلمانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے یہ کہا کہ :’’ اس روایت کو امریکی مسلمان زندہ رکھیں گے‘‘ ۔ کوئی شک نہیں کہ یہ ایک ایسا جواب ہے جس سے کئی اور چاہنے والوں کو اتنی عظیم پیش کش پر جماعۃ الدعوۃ کا شکریہ ادا کرنے کا موقع میسر آئے گا۔
ٹوئٹر پر امریکی سفارت خانے کے بیان اور اس پر جماعۃ الدعوۃ کے جواب کا من عن ملاحظہ کریں:۔
@USEMBISLAMABAD
’’ہم مصیبت زدہ کی مدد کرنے کی اسلامی روایات کا احترام کرتے ہیں ، لیکن حافظ محمد سعید کی پیش کش کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتے‘‘۔
@JUD_OFFICIAL
’’ہماری پیش کش عین اس مسئلہ کی سنجیدگی کی وجہ سے تھی، ہمیں امید ہے کہ امریکا میں مسلمان اسلام کی اس روایت کو زندہ رکھیں گے، انشاء اللہ۔
حماس کی غزہ میں مثال کو دیکھتے ہوئے لشکر طیبہ نے 2002 ء میں اپنے رفاعی کاموں کااجراء کیا تاکہ پاکستانی عوام کی حمایت حاصل کر سکے اور اب جماعۃ الدعوۃ کئی اسکول، ہسپتال، ایمبولنس سروس، لائبریریاں اور مہاجر کیمپس چلا رہی ہے اور اس بہترین انداز سے چلا رہی ہے جس کے آگے حکومتی اداروں کا کام بھی بے معنی نظر آتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں کئی بار جماعۃ الدعوۃ نے قدرتی آفات میں لوگوں کی جانیں بچانے میں فوج اور حکومت کو پیچھے چھوڑ دیا۔ 2005 ء میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں آنے والے تباہ کن زلزلے اور 2008 ء میں بلوچستان میں آنے والے زلزلے میں جماعۃ الدعوۃ نے ریلیف اور تعمیرات کے کاموں میں اپنا تسلط برقرار رکھا۔ آفات میں اکثر یہ وہ پہلا گروپ ہوتا تھا جو لوگوں میں کھانا اور ادوایات اور نقد رقوم تقسیم کرتا تھا، اسی طرح 2010 ء کی گرمیوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں بھی یہیں کچھ دیکھا گیا۔ 2009 ء میں شمالی علاقہ جات میں جب پاکستان آرمی اور عسکریت پسندوں میں چھڑپیں جاری تھیں تو جماعۃ الدعوۃ کے 2ہزار رضاکار نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی مدد کو پہنچے۔
ٹوئٹر پر اپنے ایک اور پیغام میں جماعۃ الدعوۃ نے چبھتے ہوئے انداز میں امریکی سفارت خانے کو اپنے سابقہ رفاحی کاموں کے بارے میں ان الفاظ میں یاد دلایا:
’’ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، انٹرنیشنل ریڈکراس اور ہیومن رائٹس کمیشن جیسے ادارے جنہیں آپ قابل اعتبار سمجھتے ہیں انہوں نے ہمارے کام کو سراہتے ہوئے ہمیں سرٹیفکیٹ دیے ہیں‘‘۔بے شک اب جماعۃالدعوۃ نے اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے وہ گہری عوامی سپورٹ حاصل کرلی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں اس گروپ کے رہنماؤں پر پابندی لگانے کے ردعمل میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ٹوئٹر پر( حافظ سعید کے بارے میں) بے انتہا پیغامات سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ پاکستان کی اکثریت نے حافظ محمد سعید کی اس پیش کش کو بہت پسند کیا ہے اور جماعۃ الدعوۃ کے فلاحی کاموں پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ کچھ نے اس بات پر بحث کی کہ فلاحی کاموں پر توجہ دینا درحقیقت عسکریت پسند گروپوں کی بحالی کے لئے بہترین حکمت عملی ہے۔ پھر بھی اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مغربی حکومتیں کسی انتہا پسند گروپ خاص طور پر لشکر طیبہ سے عنقریب کوئی ایسی رفاہی مدد قبول کریں۔ گزشتہ اگست میں ہی واشنگٹن نے اس گروپ کے آٹھ اہم افراد پر پابندی عائد کی ہے، جس میں حافظ محمد سعید کا بیٹا بھی شامل ہے۔ لیکن اگر پاکستانی عسکری تنظیمیں اپنے مثبت رفاہی کاموں سے پذیرائی حاصل کرتی رہیں تو امریکی حکومت کو ان تنظیموں کو پس پشت ڈالنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:" مار نہیں پیار" کے فارمولا نے استاد کااحترام ختم کردیا ہے،میاں منیر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker