تازہ ترینصابرمغلکالم

پہلو….. صابر مغل

پہلو………………صابر مغل sabirmughal27@gmail.com ظلم و بر بریت کا نتیجہ ذلت آمیز موت جب انسانی فطرت انگڑائی لیتی ہے تو کئی روپ سامنے آتے ہیں،کبھی انسان فرشتہ سیرت نظر آئے گا،اس کا کردار اپنے خاندان معاشرے اور ریاست کے لئے انمٹ بہترین نقوش چھوڑ جاتا ہے یہی انسان ہوس،درندگی اور لالچ کی سمت رخ اختیار کر لے تو اس جیسا خطرناک اور ناسور کوئی اور نہیں ہوتا،یہ ناسور معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن جاتے ہیں،اپنے گردونواح میں بسنے والوں کے لئے خوف کی علامت بننے والا انسان ۔انسان۔ہی نہیں رہتا ،چار سال قبل دیرینہ دشمنی پر آصف علی عرف آصو نے دن دیہاڑے اپنے ہی گاؤں 31جیڈی کے رہائشی صدی احمدکو اوکاڑہ کے تاریخی قصبہ صدر گوگیرہ میں فائرنگ کرتے ہوئے ہلاک کر دیا،قتل کی اس لرزہ خیز واردات نے ایک عام نوجوان کو نئی دنیا کا راستہ دکھا کر دیا،مقدمہ قتل میں اشتہاری ہونے کے بعد آصف عرف آصو ایک بالکل مختلف روپ میں سامنے آیا،تین ماہ بعد ہی اس نے تین افراد کو مزید موت کے گھاٹ اتار دیا،بعد میں اس نے ڈاکوؤں کے گروہ میں شمولیت اختیار کر لی ،پولیس اس کے پیچھے پیچھے لیکن وہ روزانہ کی بنیاد پر ڈکیتی کی وارداتوں میں مصروف رہا معمولی مزاحمت یا کسی اور وجہ سے بندہ مارنا اس کے لئے عام بات تھی اس کا مسکن زیادہ تر دریائے راوی کے کچے کا علاقہ رہا جو ضلع اوکاڑہ،فیصل آباد اور ننکانہ صاحب کا سرحدی علاقہ ہے،یہ وسیع و عریض علاقہ ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے لئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے،دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں وارداتوں کا محور و مرکز آصف عرف آصو ایک نامی گرامی خطرناک ڈاکو میں بدل گیا، ساہیوال،وہاڑی،فیصل آباد،ننکانہ صاحب،شیخو پورہ سمیت متعدد اضلاع میں اس کی سنگین نوعیت کی وارداتوں کی بھرمار ہوتی چلی گئی،اس کی دہشت کا عالم دن بہ دن بڑھتا چلا گیا،عوام خوف و ہراس میں مبتلا اور پولیس پریشان،پولیس نے اسے گرفت میں لانے کے لئے متعدد پروگرام ترتیب دئیے ۔ ریڈ کئے لیکن وہ قابو نہ آیا،وہ نوجوان جس نے ایک عام انسان کی طرح زندگی کی شروعات کیں یکسر اس کے برعکس ابھر کر سامنے آیا،ظلم،بربریت اس کی شرست میں شامل ہو گئی تھی،بالآخر وہ پانچ ماہ قبل پولیس کی گرفت میں آ ہی گیا،جدید اسلحہ سمیت دھر لیا گیا،کئی روز مختلف تھانوں میں تفتیش کے بعد اسے سنٹرل جیل ساہیوال منتقل کر دیا گیا،اس کے خلاف اوکاڑہ کے بعد سب سے زیادہ مقدمات ضلع فیصل آباد میں تھے جہاں عدالت پیشی کے لئے پرویژن وین میں ساہیوال جیل سے لے جایا جاتا،اس کی گرفتاری کے بعداس کا چھوٹا بھائی فاروق احمد عرف فاروقی میدان میں آگیا،یہاں سے لوٹ مار کا نیا سلسلہ پھر شروع ہو گیا،دو ماہ قبل شام پانچ بجے کے قریب جیل پولیس کی وین ملزمان کو فیصل آباد پیشی کے بعد واپس ساہیوال لا رہی تھی کہ اوکاڑہ فیصل آباد روڈ پر ضلع اوکاڑہ کی حدود میں چک چنوں مہتم کے قریب آصف عرف آصو کے بھائی فاروقی نے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس وین کو اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے روک لیا جسکے نتیجہ میں دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے،اس حملہ میں فاروقی اپنے بھائی آصف عرف آصو ،آصف ڈار،آصف عرف ککی،زوار شاہ اور ابرا رشاہ کو ساتھ لے کر فرار ہو گیا،تینوں آصف نامی گرامی ڈکیت جبکہ ابرار شاہ اور زوار شاہ بدنام زمانہ کار لفٹرتھے پولیس وین میں موجود دیگر پانچ ملزمان نے بھاگنے سے انکار کر دیا،فرار ہونے والے ملزمان نے دریائے راوی کے کچے کا رخ کیا اور پولیس کا پیچھا کرنے کے باوجود رات ہو جانے کی وجہ سے بچ نکلنے میں کام یاب ہو گئے،یہاں سے مزید وارداتوں کا ایک نیا باب کھل گیا،دوسری جانب پولیس کے لئے یہ ایک کھلا چیلنج تھا،یہ علاقہ یوں ہو گیا جیسے علاقہ غیر ہے،ڈکیتی کے لئے دن رات کی تمیز ختم ،صبع اوکاڑہ میں واردات ہوئی تو شام کو فیصل آبادکے علاقہ میں واردات کی گونج سنائی دیتی، کبھی موٹر سائیکل چھینی گئی،کبھی ویگن لوٹ لی گئی، کبھی ڈاکو ناکہ لگا کر درجنوں گاڑیوں کے لٹنے کی اطلاع ملتی،اوکاڑہ،ساہیوال اور فیصل آباد اضلاع کی پولیس سر جوڑ کر بیٹھ گئی لیکن چھلاوے کی مانند ڈاکوؤں کا یہ منظم گروہ ہاتھ نہ آیا،ایسے مکروہ کردار آخر کب تک زندہ رہ سکتے ہیں،آصف عرف آصو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ تھانہ لنڈیانوالا کے علاقہ میں حسب معمول لوٹ مار میں مصروف تھا کہ ایس ایچ او ایوب ساہی نے پولیس پارٹی کے ہمراہ ملزمان کا پیچھا شروع کر دیا ،پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ ہونے پر ملزمان نے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس کی بھاری نفری نے ان کے فرار ہونے کے سارے راستے مسدود کر دئیے،اس معرکہ میں آصف عرف آصو ،زوار شاہ،ابرار شاہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے،بھائی کی موت کے بعد فاروقی نے نواحی گاؤں اٹھوال خالصہ کے رستم نامی ڈکیت کی سربراہی میں وارداتوں میں مزید اضافہ کر دیا ،انسپکٹر ملک تصور نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے ذمہ دار پولیس آفیسر رائے ذوالفقار کوٹاسک دے رکھا تھا جبکہ وہ خود بھی دن رات ایک کئے ہوئے تھے،چند دن بعد ہی اوکاڑہ روڈ پررستم عرف رستی اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ موضع دھوتہ کے قریب سڑک پر درخت کی موٹی شاخ رکھ کر روڈ بلاک کر کے لوٹ مار میں مصروف تھے کہ انسپکٹر ملک تصور ،اے ایس آئی رائے ذوالفقار سمیت پولیس پارٹی کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور کراس فائرنگ کے نتیجہ میں اس بین الاضلاعی گروہ کا سرغنہ رستم عرف رستی اٹھوال گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا،فاروق عرف فاروقی اور کالی سمیت دیگر ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے،نوجوان ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اوکاڑہ بابر بخت قریشی نے
الراقم کوایک ملاقات میں بتایا تھا کہ ان کی اولین ترجیح ان خطرناک ڈاکوؤں کی گرفتاری ہے تا کہ علاقے میں امن و امان کا دور دورہ ممکن ہو سکے،عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے ،بابر بخت قریشی نے بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ گوگیرہ کو یہ ذمہ داری خصوصی طور پر سونپی گئی ہے چند روز قبل فاروق احمد فاروقی نے کالی،سجاد عرف ساجو،غلام مصطفیٰ،یٰسین وٹو ،محسن انصاری اور اللہ دتہ کے ہمراہ نے نواحی قصبہ موضع جبوکہ میں راؤ تحسین کے پٹرول پمپ پر ڈکیتی کی واردات کی اور دریائے راوی کے علاقہ کا رخ کر لیا،اطلاع ملنے پر تھانہ ستگھرہ کے ایس ایچ اومحد شاہد بھٹہ نے ملزمان کا پیچھا شروع کر دیا دوسری جانب تھانہ گوگیرہ کے ایس ایچ او ملک تصور نے بھی تھانہ کی پوری نفری کے ساتھ ملزمان کو جا لیا ، پولیس مقابلہ شروع ہو گیا جو خاصی دیر تک جاری رہا اسی دوران دیگر تھانوں اور پولیس لائن سے بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی،فائرنگ کے نتیجہ میں فاروق احمد عرف فاروقی اوراللہ دتہ ہلاک ہو گئے ایک ڈاکو کے بارے میں علم ہوا ہے کہ وہ گولی لگنے کے بعد دریائے راوی میں کود گیا جس کا تا حال کوئی سرغ نہیں مل سکا قومی امکان ہے کہ وہ شدید زخمی حالت میں ڈوب مرچکا ہے، ان کے دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، ضلع اوکاڑہ کے ان تین خطرناک ڈاکوؤں آصف عرف آصو،رستم عرف رستی اور فاروق عرف فاروقی اور ان کے ساتھی ڈاکوؤں کی ہلاکت سے جرائم پیشہ عناصر کا سیاہ باب اپنے انجام کو پہنچا ہے ،ڈاکوؤں کے اس خطرناک ترین گروہ کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ضلع فیصل آباد پولیس اور اوکاڑہ کے ڈی پی او بابر بخت قریشی ،انسپکٹر ملک تصور ،اے ایس آئی رائے ذوالفقار سمیت دیگر پولیس افسران و اہلکاران کا کردار قابل فخر ہے،قانون کی پاسداری کرنے والوں کو داد دینا بھی ہمارا فرض بنتا ہے،برائی آخر برائی ہے جس کا انجام کسی روز عبرت سے دوچار ضرور ہوتا ہے،اوکاڑہ پولیس کی اس کارکردگی پر مختلف سماجی اور عوامی شخصیات نے پولیس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے علاقہ بھر میں تعریفی فلیکس آویزاں کر دئیے ہیں اور عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے،وہ بھی کیا زندگی ہے جب کسی انسان کی موت پر لوگ شکرانے کے نوافل ادا کریں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button