بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

حریت قائدین کا دورہ ۔۔۔توقعات اور اقدامات

bashir ahmad mir logoحریت قائدین آذاد ریاست کے دورہ کے بعد دارالحکومت اسلام آباد میں انتہائی مصروف ہیں،ان کی آمد پر ہر کشمیریوں کے دل و دماغ میں روشن مستقبل کے خواب و خیال جا گزیں ہیں کہ 65برس سے لٹکا ہوا مسئلہ کشمیر کسی درست سمت حل کی جانب منزل کا تعین کر سکے۔کشمیر کی تاریخ و تحریک کئی نشیب و فراز پر مبنی طویل ودردناک سفر کی داستان ہے ۔ایک طرف بھارت کی ہٹ دھرمی اور دوسری طرف کشمیری قائدین کے مابین گروپ بندی نے پوری قوم کو الجھاؤ اور تذبذب کا شکار کر رکھا ہے ان حالات میں حریت قائدین کی سرگرمیاں لائق تحسین ہیں۔حالیہ تحریک میں حریت کانفرنس کا کردار اہمیت کا حامل ہے جس نازک صورت حال میں حریت قائدین کشمیری قوم کی موثر نمائندگی کر رہے ہیں اس پر انہیں داد تحسین نہ دینا تاریخی بد دیانتی ہو گی۔دو ایٹمی قوتوں کے حامل ممالک پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر ایسا تنازعہ ہے جس کی وجہ سے امن کو خطرات لاحق ہیں ،ان پیش آمدہ خطرات و خدشات کی روشنی میں حریت کانفرنس کے قائدین کا دورہ پاکستان و آذادکشمیر انتہائی فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔دورہ آذادکشمیر کے دوران قائدین حریت کانفرنس کا جس گرم جوشی سے استقبال کیا گیا اور سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم آذادکشمیر چوہدری عبد المجید نے کھلے دل کے ساتھ چیئرمین حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق کو اپنی وزارت عظمیٰ کی کرسی پیش کرتے ہوئے کہا ’’آذاد ریاست کا اقتدار حریت رہنماؤں کی امانت ہے ‘‘یہ تاریخی کلمات کشمیر کی آرپار قیادت کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔وزیر اعظم آذادکشمیر نے یقیناًحقیقی معنوں میں تحریک آذادی کشمیر کو اقتدار کی جنگ کے بجائے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی آذادی اور اقتدار کا استحقاق واضح کر کے حقیقت پسند قومی رہنما ہونے کا مظاہرہ کیا ۔حریت قائدین نے آذادکشمیر اور پاکستان کے سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔جس سے تحریک آذادی کشمیر پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔مظفرآباد میں استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق نے جن اہداف اور امن و سلامتی کے حوالے سے اظہار خیال کیا اس سے دونوں ممالک پاکستان و بھارت کو ایک مفید و مستقل حل کی یہ تجویز دی کہ ’’مسئلہ کشمیر کے دو نہیں تین فریقین ہیں ‘‘جب تک کشمیری شامل نہیں ہوتے اس وقت تک مسئلہ کشمیر کا حل قابل قبول و عمل نہیں ہو سکتا ۔یہ حقیقت ہے کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اس وقت تک سینکڑوں دوطرفہ مذاکرات سود مند ثابت نہیں ہو سکے ۔حریت قائدین کے جائیز موقف کو اب پاکستان اور بھارت کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دینا چاہئے۔بلکہ آئندہ پاک بھارت مذاکرات میں کشمیری نمائندگی لازم قرار دینی چائیے۔سہ فریقی مذاکرات کی تجویز موجودہ حالات کے تناظر میں تحریک آذادی کشمیر کو نیا رخ دے گی اور یہ حریت کانفرنس کے دورہ کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے معاشی و اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے باہمی تنازعات کو غیر مشروط طور پر حل کر کے عوام کو کئی متوقع خطرات و خدشات سے محفوظ کرنے کے اقدامات اٹھائے ۔باہمی راہداری،تجارت ،سیاحت سمیت کئی شعبوں میں اشتراک عمل کو فروغ دینے کے لئے موثر منصوبہ عمل کا آغازکیا جس کی بنیاد پر یورپی اقوام آج امن و سکون کے ساتھ ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہیں۔21صدی میں جنگ اب زمینوں کی نہیں رہی بلکہ آج ہمیں معاشی و اقتصادی بحرانوں سے مقابلہ کرنا سب سے بڑی جنگی مہم سمجھنا ہوگا۔پاکستان کی نسبت بھارت آبادی کے لحاظ سے افرادی قوت میں کمزور ہے،وہاں کی عوام مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہیں اگرچہ ایسے حالات پاکستان کو بھی درپیش ہیں لیکن 20کروڑ اور ایک ارب سے زائد آبادی کے مسائل بھی اسی تناسب سے بہت زیادہ ہیں۔ان داخلی حالات کے پیش نظر دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں باہمی تنازعات کے حل میں جس قدر جلداور فیصلہ کن ا قدامات اٹھائیں یہ دونوں کے ۔لئے بہتر ہوگا۔بلاشبہ پاکستان نے ہر مرحلہ اور ہر موقع پر ذمینی حالات کی بنیاد پر بھارت سے بہتر تعلقات کے لئے پیش رفت کی مگر صد افسوس بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی اور انا پرستی کی بنیاد پر پاکستان کی امن پالیسی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جس سے ناصرف دونوں ممالک بلکہ جنوبی ایشیاء کا امن خطرات سے دوچار ہے۔حالانکہ دونوں ممالک کے عوام ماضی کی تلخیوں اور جھگڑوں کو فراموش کر کے امن کوششوں کے پیامبر ہیں لیکن چند مفاداتی منصوبہ ساز ٹکراؤ کی فضا قائم کرنے کے درپے ہیں۔
ان حالات کے پیش نظر دونوں ممالک کے مابین سب سے اہم اور درینہ تنازعہ کشمیر ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے کہ اس کا پائیدار حل جو کشمیریوں کی مرضی و منشاء سے حل کیا جانا بنیادی ترجیج قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کی جانب تیز،مفید اور نتیجہ خیز پیش رفت ضروری ہے محض نشستاً برخاستاً کا عمل وقت کا ضیاع رہا ہے اور رہے گا۔دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک یکسو ہیں اگر واقعی بھارت دہشتگردی کی جنگ کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتا ہے تو اسے جاننا چائیے کہ دہشتگردی نے سب سے زیادہ پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔بھارت صرف ممبئی حملوں کے واقعہ کا رونا رو کر معصومیت کی شعبدہ بازی بند کر رہا ہے جبکہ اسے ذمینی حقائق پر غور کرناچا ہئے۔غیر ضروری،خلاف حقیقت اور فرضی الزامات کے سہارے امن بحالی کا عمل آگے ہر گز نہیں بڑھ سکتا ۔
ان حقائق کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب حریت کانفرنس کی سرگرمیاں نیک شگون ہیں ۔آرپار کشمیریوں کو آپس میں ملنے اور باہمی تجارت میں شامل کرنے کا جاری عمل بھی معاشی ترقی کی علامت ہے جسے ناصرف حریت رہنماؤں بلکہ وزیر اعلیٰ عمر فاروق نے بھی باہمی روبط مستحکم کرنے اور امن کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔چیئرمین حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق نے آرپار کی آمدو رفت کو آسان بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے جس انداز سے اظہار خیال کیا ہے اس سے امن کوششیں کار گر ثابت ہونے کا امکان ہے۔یہاں ایک نقطہ پر حریت رہنماؤں کی توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے کہ آر پار آمدو رفت تیز ترکرنے کے لئے حائل شرائط میں نرمی کرنے اور ٹرک سروس کو مفید تر بنانے کے لئے موجودہ طرز عمل بدلنے کی ضرورت ہے۔مشکل شرائط کے سبب کشمیریوں کا آرپار سفر روز بروز کمزور پڑنا طویل ترین تحقیقاتی فرسودہ نظام کی بناپر کار آمد نہیں اور ٹرک سروس کے بارے علم ہوا ہے کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ آئیٹم لسٹ کا تعین جسے تاجروں کی مشاورت کے بغیر مرتب کیا جا رہا ہے اس سے سینکڑوں تاجر کروڑوں روپوں کے مقروض ہو جانے کے بعد اس تجارت کو خیر آباد کر چکے ہیں جبکہ چند تاجر اس سرگرمی میں شامل ہیں انہیں بھی مشکلات درپیش ہیں ۔تاجروں کا کیا قصور ہے کہ انہیں بلا وجہ نقصانات سے دوچار کیا جا رہا ہے بلکہ ان تاجروں کے نقصانات کے اصل ذمہ دار پاک بھارت انتظامیہ ہے جن کی نا لا ئقی کے سبب ہزاروں گھرانے خوشحالی کی بجائے مسائل کا شکار ہیں کیا ان کا یہی قصور ہے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کے عمل کو کامیاب بنانے کے خواہاں ہیں؟
بہرحال جہاں حریت کانفرنس کے قائدین کادورہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب نتیجہ خیز قرار دیا جا رہا ہے امید ہے کہ حریت قائدین وطن واپسی سے قبل مشترکہ اعلامیہ اور مسئلہ کشمیر کے حل کے روڈ میپ سے عوام کو آگاہ کریں گے ۔ان کی دور اندیشی،سنجیدہ پن،بہتر حکمت عملی،جرات مندانہ فیصلے پائیدار امن کی ضمانت ثابت ہونگے۔یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ بھارت جب دنیا بھر میں یہ ڈھندورا پیٹتا ہے کہ وہ جمہوری سیکیولر ملک ہے تو اسے کشمیر کے آرپار صحافیوں کی آمد و رفت پر قدغن عائد نہیں کرنی چاہئے۔اس ضمن میں دونوں جانب سے صحافیوں کو فری پرمٹ دئیے جانے کی سہولت رکھی جائے تاکہ جمہوری دعووں کے مطابق غیر جانب دارانہ اطلاعات کا تبادلہ امن کوششوں کے لئے ممد و معاون ثابت ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم کے پاک افغان سرحد فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker