تازہ ترینساحر قریشیکالم

یوم ولادت امیرالمومنین حضرت علی (ع)

13رجب  30ہجری عام الفیل میں حضرت علی (ع)  کی ولادت  خانہ  کعبہ  کے  مقدس مقام  پر ہوئی آپ (ع) کے والدابوطالب (ع) اوروالدہ فاطمہ بنت اسد کوجوخوشی ہونا چاہئے تھی وہ توہوئی مگر سب سے ذیادہ رسول اللہ ö اس بچے کودیکھ کر خوش ہوئے ،بچے کے خدوخال سے اسی وقت پر یہ اندازہ ہوگیا تھا۔کہ یہ آگے چل کر رسول اکرم ö کا قوت بازو اوردست راست ثابت ہوگا۔حضرت علی علیہ السلام نے ولادت کے بعد دنیا میں جب آنکھ کھولی توسب سے پہلے والی دوجہاں ö کی زیارت کی سعادت حاصل کی اور رسول اللہ (ص) کی زبان مبارک کوچوس کر اپنے حلق میں ایسی گھٹی اتاری جس کا شرف کائنات میں کسی اورکے حصے میں نہ آیا۔حضرت علی (ع) کی عمر دس سال کی ہی تھی کہ پیغمبر اسلام (ص)کے دعویٰ رسالت کرنے پر ان کے سب سے پہلے پیروبلکہ ان کے دعویٰ کے گواہ قرارپائے۔دوسری ذات جناب خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہاکی تھی۔جنہوں نے خواتین کے طبقے میں سبقت اسلام کے اس شرف کوحاصل کیا۔حضرت محمد(ص) کا دعویٰ رسالت کرتے ہی ہرطرف آپ (ص) کے دشمن نظرآئے۔وہی لوگ جوکل تک آپ (ص) کی سچائی اور ایمانداری کا دم بھرتے تھے۔آج آپ کو ﴿معاذ اللہ﴾ دیوانہ ،جادوگر اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے۔ابوطالب نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ وہ رات بھررسول اللہ(ص) (ص)کوبستر پرنہیں رہنے دیتے تھے۔بلکہ کبھی جعفر،کبھی عقیل،اور کبھی علی (ع) کوآپ (ص) کے بسر پر لٹا دیتے تھے۔مقصدیہ تھا کہ اگر دشمن آپ(ص) کے بسترکا پتہ لگا کر حملہ کرنا چاہے تومیرا جوبھی بیٹا چاہے قتل ہوجائے مگرحضرت محمد(ص) کا بال بھی بیکا نہ ہو،اس طرح حضرت علی (ع) بچپن ہی سے فدا کاری اور جان نثاری کے سبق کوعملی طورپر پردہراتے رہے،اپنے جانثار چچا حضرت ابوطالب (ع) کی وفات سے پیغمبر اسلام (ص) کا دل ٹوٹ گیا۔اور آپ (ص) نے مدینے کی طرف ہجرت کا ارادہ کرلیا۔چنانچہ حضرت علی (ع) کوبلا کر کہا کہ تم آج کی رات میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سوئے رہواور میں مخفی طورپرمکہ سے روانہ ہوجائوں چاروں طرف خون کے پیاسے دشمن تلواریں کھینچے ،نیزے لئے ہوئے مکان کوگھیرے ہوئے تھے،حضرت علی (ع) اطمینان کے ساتھ بسترپر آرام کرتے رہے،دشمنوں کوصبح کے وقت معلوم ہوا کہ رات گھرپر حضرت محمد(ص) نہ تھے،ان کے بستر پرعلی (ع) تھے،جس کی وجہ سے نبی (ص) مکہ سے کافی دورتک بغیر کسی پریشانی اور رکاوٹ کے تشریف لے جاسکے،علی (ع) دشمنوں کے دبائوکی پروا کئے بغیر تین روز تک مکہ میں رہے جن جن کی امانتیں رسول پاک (ص) کے پاس تھیں ان تک امانتیں پہنچا کر خواتین بعیت رسول (ص) کواپنے ساتھ لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔کئی روزتک رات دن پیدل چلتے ہوئے آپ (ص) کے پاس پہنچے آپ (ص) نے مدینے میں آکر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی اکلوتی بیٹی فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا کا عقد علی (ع) کے ساتھ کردیا۔اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی(ص) کے گھر کی بیٹی کی شادی کے لئے اپنے گھرمیں پیدا ہونے والے کواس عزت کے لئے منتخب کیا ہے۔یہ شادی انتہائی سادگی کے ساتھ انجام دی گئی۔دین و دنیا کے بادشاہ حضرت محمد(ص) کی بیٹی کوجہیزبھی نہیں دیا گیا۔خود فاطمہ اسلام اللہ علیہا کا مہر تھا جوعلی (ع) سے لے کر کچھ سامان خانہ داری کے لئے خرید کرساتھ کردیا گیا۔جس میں مٹی کے کچھ برتن کھجورکے پتوں کے تکئے چمڑے کا بستر ،چرخہ ،چکی اور پانی بھرنے کے لئے مشک شامل تھی،علی (ع)نے مہر ادا کرنے کے لیے اپنی ذرہ فروخت کی اور اس سے حضرت فاطمہ زہرہ (ع) سلا م اللہ علیہا کا مہر ادا کیا گیا جو ایک سو سترہ تولے چاندی سے زیادہ نہ تھے اس طرح مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے مثال قائم کردی گئی ۔کہ وہ اپنی شادیوں کی تقریبات کے سلسلے میں فضول خرچی سے کام نہ لیں ۔حضرت فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیہا اور حضرت علی (ع)کی زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی ،مدینے میں آکر پیغمبر (ص) خدا کومخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے آپ (ص) کے خلاف مدینے پر چڑھائی کردی آپ (ص) کے ساتھ تعدادبہت کم تھی،صرف تین سوتیرہ آدمی تھی مگرآپ (ص) نے یہ طے کر لیا کہ دشمن سے مقابلہ کرینگے۔چنانچہ یہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی جوجنگ بدر کے نام سے مشہورہوئی ہے۔اس جنگ میں رسول اللہ(ص) کے چچا ذاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب شہید ہوئے علی(ع) ابن ابی طالب کوجنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا،25برس کی عمر تھی،مگرجنگ کی فتح کا سہرا علی (ع) کے سر رہا،اس کے بعد احد،خندق،خیبر،اور آخرمیں حنین یہ وہ لڑائیاں ہیں۔جن میں علی (ع) نے رسول اللہ کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھائے تقریبا ان تمام لڑائیوں òمیں علی (ع)کوعلمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا،اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول اللہ نے علی(ع) (ع)کوتنہا بھیجا اور انہوں نے اکیلے بھی فتح حاصل کی،خندق کی لڑائی میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمروبن عبدودکوجب علی (ع) نے مغلوب کرلیا اور اس کا سرکاٹنے کے لئے اس کے سینے پر بیٹھے تواس نے علی (ع) کے چہرے پر لعاب دہن پھینک دیا،علی (ع) کو غصہ آگیا،اور آپ (رض) اس کے سینے سے صرف اس خیال سے اترآئے کہ اگر غصے میں اس کو قتل کیا تویہ عمل خدا کی راہ میں نہ ہوگا۔بلکہ اپنی خواہش نفس کے مطابق ہوگا لہذا کچھ دیر بعد علی (ع) نے اسے قتل کیا،اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لئے اس کی لاش کو برہنہ کردیا جاتا تھامگر علی (ع) نے اس کی ذرہ نہیں اتاری اگرچہ بہت قیمتی تھی چنانچہ اس کی بہن اپنے بھائی کی لاش پر آئ

یہ بھی پڑھیں  قصور:ریلوے روڈ پر ٹریفک بلاک ہونا ایک معمول بن چکا ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker