تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

اداروں کی ممکنہ نجکاری اوراپوزیشن کاردعمل

zafar ali shah logoسامان سمیٹ کر اوردھرنالپیٹ کرشہراقتدار اسلام آبادسے چلے جانے اور ڈاکٹرطاہرالقادری کے بیرون ملک پروازکے نتیجے میں پاکستان عوامی تحریک کادھرناتو اپنے اَنجام کوپہنچا جبکہ پی ٹی آئی کے دھرنے میں اگرچہ اَب وہ دم خم نہیں رہاجواِبتداء میں دکھائی دیتاتھالیکن پھربھی دھرنابدستور جاری ہے اوروزیراعظم کے استعفے کے لئے اب بھی بضد پی ٹی آئی کے چیئرمین کاکہنایہ ہے کہ جب تک نوازشریف استعفیٰ نہیں دیں گے وہ دھرناختم کرکے شہراقتدارسے نہیں جائیں گے۔ دیکھاجائے تواس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو پی ٹی آئی اور پیٹ کے دھرنوں نے غیرمعمولی مشکلات سے دوچارکیاتھا اوردھرنوں کے احتجاج کو اکیلے قابوکرناحکومت وقت کے بس سے باہر نظرآرہاتھالیکن ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منتخب پارلیمنٹ کے اندرتمام جماعتیںآئین وقانون،جمہوریت اور پارلیمنٹ بچانے کی خاطریکجاویکسوہوکر حکومت کی پشت پرکھڑی ہوئیں اوراس مؤقف پر اب تک قائم ہیں کہ منتخب وزیراعظم سے یوں دھرنوں کے ذریعے استعفیٰ طلب کرناغیر آئینی اور غیرجمہوری ہے جس کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی یوں اگرچہ تحریک انصاف اورعوامی تحریک نے زوربہت لگایاجس کے نتیجے میں حکمرانو ں کے قدم ڈگمگائے اوران کی حکومت ایک آدھ بار لڑکھڑاتی نظرضرورآئی تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے حکومت کی پشت پرکھڑاہونے اورحصارباندھنے کے مظہردھرنوں کی سیاست کوپذیرائی اوراپنے مقاصد میں وہ کامیابی نہیں ملی جس کی توقع عوامی اور سیاسی سطح پربھی کی جارہی تھی اورخوددھرنے دینے والے بھی بااعتمادتھے اپنی منزل تک پہنچنے میں ۔ مگر اب لگ یہ رہاہے کہ پیپلز پارٹی سمیت حزب اختلاف کی وہ سیاسی جماعتیں بھی نوازحکومت کے خلاف بطوراحتجاج لنگوٹ کس کرمیدان میں کودنے کی تیاریوں میں ہیں جنہوں نے حکومت کابھرپورساتھ دیتے ہوئے تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک کے احتجاجی دھرنوں کی مخالفت کی تھی اور جن کی دم سے حکومت کونئی زندگی ملی ۔موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ وفاقی حکومت نے ملکی خزانہ پربوجھ بننے والے 157چھوٹے بڑے قومی اداروں کی نجکاری کاعمل تیزکردیاہے اوراس حوالے سے نجکاری کمیشن کو کنسلٹنٹس کی بھرتی کاعمل تیزکرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت ان تمام اداروں کے نجکاری کی خواہاں ہے جوقومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں اس حوالے سے ایک فہرست مرتب کی گئی ہے جس میں نجکاری کے لئے مجموعی طورپر157اداروں کے نام رکھے گئے ہیں اور ان کی نجکاری کے بارے میں ترجیحات کاتعین بھی کرلیا گیاہے ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن کے چیئرمین زبیرعمر مختلف اداروں کی نجکاری کے لئے کئی ملکی وغیرملکی اداروں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے ساتھ ساتھ میڈیااورسیاسی جماعتوں کواس حوالے سے تفصیلات سے بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔موصولہ خباری اطلاعات کے مطابق ذرائع کاکہناہے کہ مالی سال2013-14میں سٹیل ملزکی بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات میں سٹیل ملزکو11ارب روپے کاقرضہ دیاگیا جس سے اس کی پیداواری صلاحیت 25فیصد بڑھ گئی ہے جس کودیکھتے ہوئے اب 157قومی اداروں کی نجکاری کی جارہی ہے اور حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ جن اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہے ان کی نجکاری کردی جائے گی۔دوسری جانب اطلاعات یہ ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی نے حکومت کی نجکاری پالیسی کے خلاف ملک گیر مہم چلانے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کوٹف ٹائم دینے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے رہنماء میاں رضاربانی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرسید خورشید شاہ نے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔قطع نظراس کے کہ واقعی حکومت نجکاری کی پالیسی پرعمل پیراہے کہ نہیں اور اگرحکومت نجکاری پالیسی کوآگے بڑھاتی ہے توتحریک انصاف کے دھرنے کی موجودگی دیگرسیاسی جماعتوں کادباؤبرداشت کرپائے گی کہ نہیں جبکہ دیکھنایہ بھی اہم ہوگاکہ نجکاری کے معاملات پرحکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لئے پیپلزپارٹی اپوزیشن کی دیگرجماعتوں کویکجاکرنے میں کامیاب ہوپائے گی کیونکہ ہرسیاسی جماعت کاالگ پروگرام اوراپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں اورمنتخب پارلیمنٹ کے اندر موجودحزب اختلاف کی کئی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں بھی ہیں جن میں ایم کیوایم کاذکرکیاجائے توسندھ میں ان کے گورنرکامعاملہ ہے ،مولاناعبدالغفورحیدری اوراکرم خان درانی کی صورت میں جے یوآئی (ف)کے دو وزراء وفاقی کابینہ میں شامل ہیں،قومی وطن پارٹی سے متعلق بھی یہ بازگشت ہورہی ہے کہ اس کے قائد افتاب احمد خان شیرپاؤکووفاقی کابینہ میں شامل کیاجارہاہے ، عوامی نیشنل پارٹی،پختونخواملی عوامی پارٹی اور دیگربلوچ جماعتوں کی اپنی ترجیحات ہیں جبکہ تحریک انصاف توپارلیمنٹ سے باہررہنے کے باعث کسی بھی قسم کی قانون سازی کے لئے رائے شماری میں شامل نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں حکومتی نجکاری پالیسی سے اختلاف توکیاجاسکتاہے اور اس کے خلاف احتجاج بھی لیکن احتجاج حکومت کواپنافیصلہ واپس لینے پر مجبورکرسکے گی کہ نہیں اس بارے ابھی حتمی طورپر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ بھی ہے کہ اپنی سیاست چمکانے کے لئے تنقیدبرائے تنقیدکی پالیسی اپناکر قومی مفادات کوبھی داؤپر لگا نے سے دریغ نہیں کرتیں،یہاں اچھے برے کاتمیزہی نہیں، حکومت اپوزیشن کی تجاویزکااحترام نہیں کرتی اوراپوزیشن حکومتی پالیسیوں کاچاہے وہ ملک وقوم کی وسیع تر مفادمیں کیوں نہ ہوں ساتھ نہیں دیتی۔حالانکہ جمہوری نظام کاخاصایہ ہوناچاہیئے کہ بہتراقدامات اوراچھی پالیسیاں اپنانے پر اپوزیشن حکومت کی تعریف اورغلط پالیسیوں پرتنقیدکریں جبکہ عوامی مفادات پرمبنی پیش کردہ تجاویزپر حکومت اپوزیشن کاساتھ دیں اس ضمن میں یہ تعین ضروری ہے کہ اگرحکومتی نجکاری پالیسی قوم وملک کی بہترمفاد میں ہیں اوران اداروں کی کارکردگی نجکاری کی صورت میں بہتر ثابت ہوسکتی ہے جوسرکارکی زیرسرپرستی رہتے ہوئے مسلسل خسارے کاباعث اور قومی خزانے پربوجھ بنے رہتے ہیں توایسے اداروں کی نجکاری میں اپوزیشن اپنی تمام مفادات اور ترجیحات کوبالائے طاق رکھ کرقومی مفادات کی خاطرحکومت کاساتھ دیں لیکن اگر واقعی قومی اداروں کی نجکاری قومی مفادمیں نہیں اورپرائیویٹائزیشن کے بعد ادارے عوام کے نقصان اور مشکلات کاباعث بنتے ہیں یا ملازمین کے لئے مشکلات کاباعث توحکومت کوایسی پالیسیاں اپنانے سے اجتناب کرناچاہئے نہ کہ ہٹ دھرمی اور یہ برتری ثابت کرنے کی کوشش کہ ہم جوچاہیں کریں گے ہمیں کوئی روک سکتاہے نہ پوچھ سکتاہے۔ یادرکھناچاہئے کہ اگرمتحدویکجا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں ٹسٹ سیریزمیںآسٹریلوی ٹیم کی عبرتناک شکست اورپاکستانی ٹیم کی تاریخ سازکامیابی ہوسکتی ہے توپاکستان کے سیاستدان اسی طرح متحد اوریکجا ہوکروطن عزیزکوترقی اور عوامی خوشحالی کی بلندیوں پر لے جاسکتے ہیں ضرورت ہے صرف اتفاق اور قومی سوچ کی۔

یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم عمران خان ، اپنے منہ میاں مٹھو !

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker