تازہ ترینعلاقائی

’’یوم مطالبات‘‘ پر ہزاروں آئیسکوملازمین کی مری روڈ پر احتجاجی ریلی

iescoراولپنڈی( نامہ نگار) ملک کی سب سے بڑی مزدور تنظیم اور واپڈا کے ایک لاکھ چالیس ہزار ملازمین کی نمائندہ پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک سنٹرل لیبریونین کے زیراہتمام گذشتہ روز ملک گیرسطح پر ’’یوم مطالبات‘‘ منایا گیا۔جس کا مقصد ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ، قدرتی گیس اور سی این جی کے بحران، صنعتوں کی بندش، مہنگے ٹیرف، سرکاری شعبے میں بجلی گھروں کی تعمیر میں تاخیر، حکومتی اداروں کے ذمہ واپڈا کے 250 ارب روپے کی عدم ادائیگی، واپڈا کارکنوں کی اپ گریڈیشن اور ملازمین کے بچوں کی بھرتی کے کوٹہ پرعمل درآمد نہ کرنے، مہنگائی بیروزگاری و نجکاری اورصارفین بجلی کو درپیش مشکلات اور دیگر مسائل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا تھا۔اس موقع پرملک کے تمام بڑے شہروں اور ریجنل ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی مظاہرے اورجلسے کیے گئے۔اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ہزاروں کارکنوں نے شہید بے نظیر بھٹو روڈ پر ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی پریس کلب لیاقت باغ سے شروع ہوئی جس کی قیادت واپڈا ہائیڈرو یونین کے ریجنل چیئرمین میاں رحمن غنی، ریجنل سیکرٹری جاوید اقبال بلوچ، راجہ خلیل اشرف، محمد رمضان جدون، محمد اشفاق، ملک فتح خان، جاوید اختر خلیل، ارشاد کامریڈ، سجاد علی خان، حمید اللہ شاہ ، مسرت حسین کاظمی، سجاد حسین ساجد، عبدالجبار، حاجی عادل، محمد شفیق، ثمر حسین بخاری، رحیم شاہ اور دیگر عہدیداران کر رہے تھے جبکہ ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں کارکن شریک تھے۔واپڈا ملازمین سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان ورکرز فیڈریشن کے ریجنل ڈپٹی سیکرٹری محمد اکرم بندہ اور دیگر مزدور راہنماؤں نے بھی ریلی میں شرکت کی۔ قبل ازیں آئیسکو اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، جی ایس او سرکل اور دیگر واپڈا دفاتر سے کارکن جلوسوں کی صورت میں لیاقت باغ میں جمع ہوئے جہاں سے ایک بڑی ریلی کی صورت میں مری روڈ پر مارچ شروع کر دیا۔ مظاہرین نے ریالٹو چوک پہنچ کر سڑک پر دھرنا دے دیا اس دوران کافی دیر تک مری روڈ پر ٹریفک جام رہی۔ مظاہرین آئیسکو کی مجوزہ نجکاری ، کمرتوڑمہنگائی، بیروزگاری، گیس اور بجلی کی نایابی اور اپ گریڈیشن اور بچوں کی بھرتی کے کوٹہ پرعمل درآمد نہ کرنے کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی اور سینہ کوبی کرتے رہے۔ مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف اور مطالبات کے حق میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ریلی کے اختتام پر کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے واپڈایونین کے راہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تمام ممکنہ وسائل ہائیڈل پاور ہاؤسز کی تعمیرکیلئے وقف کر دئیے جائیں تاکہ عوام کو سستی اور وافر مقدار میں بجلی میسر آسکے۔ سی این جی جیسے غیر پیداواری شعبے کی بجائے گھریلو اور صنعتی استعمال کیلئے ترجیحی بنیاد پر قدرتی گیس فراہم کی جائے تاکہ صنعتی پہیہ چل سکے اور ملک سے غربت و بیروزگاری کا خاتمہ ہو۔ واپڈا اور پیپکو کو یکجا کیا جائے اور اس عوامی مفاد کے حامل قومی ادارے کی نجکاری کا منصوبہ ترک کیا جائے تاکہ ملکی سلامتی اور یکجہتی متاثر نہ ہو۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی کے اعلان کردہ مراعاتی پیکج پر مکمل طور پر عمل کرتے ہوئے ملازمین کی اپ گریڈیشن کی جائے اور ملازمین کے بچوں کی بھرتی کے اضافہ شدہ کوٹہ کا فوری اطلاق کیا جائے۔ انہوں نے کارکنوں کے اتحاد اور یکجہتی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی مزدور دشمن ٹولے کوسازشوں اورغیر جمہوری طریقہ سے واپڈا پر قابض نہیں ہونے دیا جائے گا واپڈا کے ایک لاکھ چالیس ہزار غیور کارکن اپنے جراتمند قائد خورشید احمد کی قیادت میں پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک سنٹرل لیبر یونین کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں اور وہ اپنے حقوق کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیر خارجہ کا کورونا ٹیسٹ کرانے کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker