پاکستانتازہ ترین

آئندہ عام انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے،چیف جسٹس افتخارچوہدری

iftikharاسلام آباد(بیورو رپورٹ) سپریم کورٹ نے بلوچستان امن وامان کیس میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب آگاہ رہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ، اگر اسمبلیوں میں عوام کے حقیقی نمائندے پہنچے تو امکان ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تیزی کے ساتھ بہتر ہو عدالت نے نقل مکانی کرنے والے افراد کی انتخابات سے قبل واپسی یقینی بنانے ، لاپتہ افراد کی بازیابی کی ہدایت بھی کی ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جمعہ کو بلوچستان ٹارگٹ کلنگ کیس کی سماعت کی اس دوران موبائل کمپنیوں کی جانب سے رضا کاظم ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ عدالت نے بلوچستان کی حد تک موبائل سمیں بند کرنے کا حکم دیا تھا مگر حکومت نے پورے ملک میں یہ نظام لاگو کردیا ہے ۔ مسئلہ 3سے 5موبائل سمیں استعمال کرنے کا تھا ۔ موبائل فون کمپنیاں دو طرح کے پروسیجر استعمال کررہی تھیں ایک مختلف دکانوں پر موجود سموں کی فروخت تھیں جس میں شناختی کارڈ کا نمبر اور کاپی دے کر سم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ موبائل فون کمپنیوں کی فرنچائز اور دیگر دفاتر سے بھی سمیں مل سکتی تھیں پہلے پہل ہر کمپنی کو ایک شخص کو دس موبائل فون سمیں فروخت کرنے کی اجازت تھی اور جب عدالت کے حکم پر تین سمیں کردی گئیں تھیں مگر حکومت نے جو آرڈرز جاری کئے تھے اس کے مطابق کمیٹیوں کو موبائل فون سمیں فروخت کرنے سے روک دیا اور کہا کہ وہ تمام تر تصدیق کے بعد اپنے دفاتر یا فرنچائز سے سمیں جاری کریں عام دکانوں پر سے سموں کی خریدوفروخت پر پابندی لگادی گئی ۔ بلوچستان میں تمام سمیں بند کردی گئیں جو 3سے 5 سموں سے زائد تھیں غیر قانونی سمیں ضرور بند کی جائیں اس طرح کے احکامات ایمرجنسی کے دوران جاری کئے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو جرائم سے بچایا جائے مجسٹریٹ اور سپریم کورٹ کے اختیارات میں فرق ہونا چاہیے یہ کام سپریم کورٹ کا نہیں تھا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 21مئی 2012ء کو جب آرڈر جاری کیا گیا تھا اس کے بعد کیا بلوچستان کے حالات میں بہتری آئی لگ تو یہی رہا ہے کہ حالات اسی طرح سے ہیں آپ کی درخواست حالات کے تخمینہ کے بعد دائر کی گئی ہے اور اس حوالے سے ریلیف مانگا گیا ہے ہمیں بلوچستان کے حالات دیکھنا پڑیں گے اس میں کس حد تک بہتری آئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حالات خراب ہونے پر اجلاس بلایا گیا پی ٹی اے کے تحت اجلاس بلایا گیا میٹنگ منٹس بھی ہمیں بھجوائے گئے ۔ رضا کاظم نے کہا کہ کمپنیوں کے اصل نمائندے میٹنگ میں موجود نہیں تھے صرف وہاں کے مقامی ایجنٹ تھے جنہوں نے شمولیت کی تھی 10سمو ں کی اجازت تھی 15سموں کی اجازت نہیں تھی ایک کمپنی صرف دس سمیں فروخت کرسکتی تھی ایک شناختی کارڈ پر ۔ پہلے سے متحرک سموں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ، چیف جسٹس نے کہا کہ صرف بلوچستان ہی کی نہیں پورے ملک کی غیر معمولی صورتحال ہے جہاں کہیں دہشتگردی ہے وہاں سمز استعمال ہورہی ہیں صرف موبائل رابطے ہی کے لئے نہیں بلکہ ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے لیے بھی استعمال ہورہے ہیں کوئٹہ میں اغواء برائے تاوان کی ایک واردات نہیں تھی ۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ آج جرم کے لیے ایک ہتھار اور ایک عددموبائل فون کافی ہے چیف سیکرٹری بابر یعقوب کا کہنا تھا کہ فون کالز کے ذریعے ملزمان کا سراغ لگانا ممکن نہیں ہے چھوٹے چھوٹے بچوں کے پاس ہزاروں سمیں ہیں چھابڑی والے بھی سمیں استعمال کررہے ہیں اس وقت ماحول کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے چیف جسٹس نے کہا کہ حالات خراب ہیں ان کو مزید بہتر کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلوچ رہنماؤں کو واپس لانے کے لیے خود جانا پڑے گا اور مکمل سویلین ماحول پیدا کرنے پڑا گے شناختی کارڈ بنائے جائیں گھر بنا کردیئے جائیں تاکہ لووگں کو تحفظ کا احساس ہو ۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کچھ دن
پہلے ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا تھا ۔ پوسٹل بیلٹ پیپرز کی سہولت دینی پڑی تو دی جائے گی لوگ خوفزدہ ہیں امن چاہتے ہیں ڈیرہ بگٹی پہلے پاکستان کا بعد میں بلوچستان کا حصہ ہے امن وامان کے لیے رقم خرچ کرنا پڑے تو کی جائے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ گورنر راج کے بعد عسکری اور دیگر حکام پر مشتمل کمیٹی بنی ہے تو معاملات دیکھ رہی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ امن وامان کا قیام اداروں کی ذمہ داری ہے یہ عدالت کا کام نہیں ہے ہم تو اپنے تحفظات ظاہر کررہے ہیں سکیورٹی بہتر ہوگی تو باتیں ختم ہوگی ۔چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم نہیں رکھا جائے گا حالات ٹھیک نہیں ہوں گے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال اور بھی مخدوش ہوچکی ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ جعفر آباد اور نصیر آباد پولیس ایریا ہیں جرائم کم ہوتے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں جیسے سندھ میں جرائم ہوتے ہیں پاکستان سے چوری ہونے والی تمام گاڑیاں ہیں سے ملیں گی صفر فیصد برداشت اور صفر فیصد کرائم کریں بدقسمتی اس پر بڑھ کر اور کیا ہوگی آپ کا اپنا ایس پی طارق منظور اغواء کے معاملے میں پکڑا گیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اب سارے ضلع جرائم کے معاملے میں ایک جیسے ہیں ہم تو وہاں کے رہنے والے ہیں جسٹس گلزار نے کہا کہ اگر صرف نوکری کرنی ہے تو بے کار ہے فیلڈ میں کچھ کرکے دکھانا ہوگا آئی جی نے کہا کہ کوشش کررہیہیں کہاس میں وقت لگے گا شاہد حامد نے کہا کہ کافی وقت کی ضرورت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر راج کی مدت اپنی زیادہ نہیں ہے جمہوری رویے کی ضرورت ہے سیاست میں دینا دلانا چالتا ہے گورنر راج میں آپ بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں لوگوں کے تحفظات پر ہم کچھ بھی نہیں کررہے ہیں ۔ شاہد حامد نے کہا کہ ہم نے کچھ فیصلے بھی کئے ہیں کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کئے ہیں ۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ 2010ء سے سماعت شروع ہوئی تھی اب 2013ء آچکا ہے کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم گورنر راج پر کمنٹس نہیں کررہے دو ماہ سے زیادہ وقت نہیں دو سے تین ہفتوں میں کارروائی ممل کریں عبوری حکومت کواس طرح کے حالات دے کر جائیں گے تو وہ کیا کرینگے ایک کام جو پانچ سالہ حکومت نہیں کررہی عبوری حکومت کیسے کرسکے گی شاہد حامد نے کہا کہ عبوری حکومت میں بھی اقدامات جاری رہیں گے جمہوریت بحال کردینگے ۔ حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں ایف سی کو ایک ماہ کے لیے پولیس کے اختیارات دیئے گئے ہیں قلعہ عبداللہ میں کارروائی کی گئی ہے کئی ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور نیٹو کنٹینرز کے ملزمان اور اسحلہ بھی برآمد کیا ہے 20 ڈپٹی کمشنر تعینات کئے گئے ہیں دیگر اعلیٰ حکام کی تعیناتی کی گئی کئی افسران کے تبادلے بھی کئے ہیں کوئی اغواء برائے تاوان اور فرقہ واریت کا واقعہ نہیں ہوا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پشین میں جو کچھ ہوا کیا وہ فرقہ ورانہ واقعہ نہیں تھا تو حکام نے بتایا کہ نہیں یہ واقعہ فرقہ وارانہ نہیں تھا شاہد حامد نے کہا کہ بچھلی مرتبہ بھی پندرہ روز رپورٹ دی تھی اب بھی دے رہے ہیں صورتحال اب کچھ قابو میں ہے زیادہ دعوے تو نہیں کرتے میں کسی شہر کا نام نہیں لیتا عدالت نے کہا کہ آپ نام لیں یا نہ لیں ہمیں سب پتہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر راج ختم ہونے پر عبوری حکومت آئے گی جمہوریت کو سپورٹ کریں عدالتیں موجود ہیں ورنہ مسائل اور بھی زیادہ ہوتے شاہد حامد نے بتایا کہ دس ہزار بلوچستان فرنٹیر کانسٹیبلری میں سے ایک ہزار جوان حاضر ہوئے ہیں باقی سب غائب ہیں اس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ جنہوں نے لاء اینڈ آرڈر بہتر کرنا غلط ہے وہی غائب تو حالات کس طرح بہتر ہوں گے ۔ آئی جی کے پی کے نے کہا کہ ایسی بات نہیں کچھ لوگ کہیں ہوتے تو کچھ کہیں جہاں جتنے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے وہیں اتنے ہی بھجوائے جاتے ہیں ۔ شاہد حامد نے بتایا کہ بہت بڑا اسلحہ اور منشیات کی بھاری کھیپ بھی پکڑی گئی ہے ۔ کان کنی کے شعبے سے وابستہ افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔ زیادہ تر معاملات لاپتہ افراد ، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے ہیں پہلی مرتبہ ملزمان کے چالان بھی بھجوائے جارہے ہیں جن میں ایف سی افسران بھی شامل ہیں ۔ دہشتگردی کا شکار لوگوں کو ریلیف دیا جارہا ہے گورنر نے آرڈر جاری کیا تھا ان سب کے معاملات کو باضابطہ بنا دیا گیا ہے اور اس کے مطابق فنڈز کی ادائیگی اور مدد کی جارہی ہے ۔ تفصیلی آرڈیننس جاری کیا گیا تھا ممبر بار نے بھی اس پر کمنٹس دیئے تھے اور مطمئن تھے رقم کی ادائیگی کا باقاعدہ شیڈول بھی جاری کیا ہے جس کا حقدار ہے اتنی مدد دی جارہی ہے ڈیرہ بگٹی سے غائب تین افراد میں سے چار واپس آچکے ہیں ڈیرہ بگٹی سے غائب تین افراد میں سے چار واپس آچکے ہیں ایک مارا گیا اور دو ابھی تک غائب ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ پتہ نہیں کہ اس میں کون لوگ ملوث تھے شاہد حامد نے کہا کہ اس میں لگا یہی ہے کہ اس میں ایف سی کے لوگ ملوث ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ قانون لاگو کریں کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے اگر ایف سی کے لوگ ملوث ہیں تو انہیں عدالت کے روبرو پیش کیا جائے شاہد حامد نے کہا کہ کچھ وقت دے دیں چوبیس گھنٹوں میں ایسا ممکن نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے باقی معاملات میں کچھ نہ کچھ دیر برداشت کرینگے ۔ سیکرٹری ہوم نے بتایا تھا کہ ایف سی کے لوگ ملوث ہیں ان کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تھی ۔ شاہد حامد نے کہا کہ نصراللہ خان اور اکبر کے نام آتے ہیں جوغائب ہیں ان کو یونیفارم پر سنزے لے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا ک آپ قرار دیں کہ آپ بے
بس ہیں لاپتہ افراد کیس کی وجہ سے یہ سارا کیس شروع کیا ہے جو آپ کو کام تو کرنا پڑے گا زندگی کا تحفظ بنیادی آئینی حق ہے سو کے قریب لوگ لاپتہ ہیں ہمیں یہ آدمی چاہیں ۔ ہماری تسلی تب ہوگی جب جرائم کی شرح صفر ہوگی ۔ ایف سی کے ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرکے ثابت کریں کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے بعد میں چیف جسٹس نے حکمنامہ تحریر کراتے ہوئے کہا کہ امن وامان کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی ڈاکٹر خالد نے عدالت کو بتایا کہ پانچ لوگ مبینہ طور پر ایف سی کی تحویل میں ہیں صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ جرم کے بغیر کسی کو تحویل میں نہ رکھا جائے پانچ افراد کو بازیاب کرایا جائے بارے اضلاع میں امن کے قیام کی کوششیں کی جائیں ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی میں پیش رفت نہیں ہوسکی ہیں اس میں طلال بگٹی سے رابطہ کیا جائے چیف سیکرٹری ڈیرہ بگٹی خود جائیں اور ایف سی کی مدد سے کام کریں ۔ انتخابات کا التواء نہیں ہوگا انتخابات قریب ہیں امن کے لیے جو ضروی ہو قدم اٹھایا جائے گا ۔ آئین کی کتاب کھول کر پڑھی جائے لوگوں کے حقوق محفوظ کئے جائیں ۔ بلوچستان کو اچھا کرنا ہے تو ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں کو بہتر کرنا ہوگا بتا سکتا ہوں کہ کہاں کون ملوث ہے ہم وہاں جا کر بیٹھ جائیں گے آپ کام کریں عدلیہ آپ کی پشت پر ہوگی آپ سب مل کر کام کریں بار کے ممبران بھی ساتھ دینگے لوگوں کو سہولیات دیں تحفظ دیں زخمیوں پر سے قبضے ختم کرائیں دو ہفتوں میں آپ مقاصد حاصل کرسکتے ہیں وہاں جھگڑے کیوں ہورہے ہیں ہمارے لوگ اس میں ملوث نہیں ہیں ۔ ہم آپ کے لئے ہر طرح کا حکم جاری کرنے کے لیے تیار ہیں بلوچستان کو بچانا ہے تو آپ کو خود کچھ کرنا ہوگا اللہ تعالیٰ ایسے مدد نہیں فرماتے خود بھی کچھ کرنا پڑتا ہے کمزوریاں ہوتی ہیں مگر ہم آپ کے ساتھ ہیں جب کوئی تاری خ لکھے گا تو اس میں آپ کا نام لکھا جائے گا آپ بہت اچھے افسران ہیں اس وقت ضیاء فری ہینڈ آپ کو دیا ہے اور آپ کی پشت پناہی کررہے ہیں اس سے قبل ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا تمام اداروں کو امن و امان کے قیام کے لئے استعمال کیا جائے اعلیٰ سطحی کمیٹی نے جو فیصلے کئے ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے کمانڈر سدرن کمانڈ ، ایف سی آئی جی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کریں اور وقت ضائع کئے بغیر اپنا فرض ادا کریں ۔ ایف سی کے حوالے سے شہادتوں کے ملنے کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ملٹری آپریشن ہورہا ہے آپ کے ساتھ ڈیرہ بگٹی جانے کو تیار ہوں بتادیں کہ حالات ایسے بہتر کریں کہ الیکشن کے دوران لوگوں کو ووٹ کے لیے فری ہینڈ مل سکے بعد میں ہم کوئی کمزور نہیں برداشت نہیں کرینگے ۔ دہشتگرد اتنے مضبوط اور زیادہ تعداد میں نہیں ہیں فورس استعمال کرکے ان کو ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے آپ کو ان تمام معاملات کی چھان بین کرنا پڑے گا جو دہشگردی کی اصل وجوہات ہیں بلوچستان میں امن آزادانہ انتخابات کے انعقاد سے قائم ہوجائے گا ۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے بنیادی انسانی حقوق کا مکمل طور پر نفاذ کرکے آرٹیکل 9 کے تحت اقدامات کرے ۔ لاپتہ افراد کا جو معاملہ ہے اس میں بھی پیش رفت کی جائے ۔ اور ڈی آئی جی سی آئی ڈی فیروز شاہ نے رپورٹ پیش کی ہے سات افراد جن کے نام عدالت نے دیئے تھے ان میں حبیب اللہ ولی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کی لاش مل چکی ہے عبدالنبی ، ثناء اللہ شاہنواز ، مولا بخش ابھی تک بازیاب نہیں ہوسکتے ہیں ، تین لاپتہ بازیاب افراد کو متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے لاپتہ افراد کو بازیاب کرا کر ان کی متعلقہ عدالتوں میں پیش کیا جائے جلد سے جلد بلوچستان میں امن بحال کیاجائے کیونکہ عام انتخابات قریب ہیں اس لئے انہیں اپنے نمائندگان کے انتخابات کے لیے بہترین سیاسی ماحول میسر آسکے ۔ ہماری رائے ہے کہ اگر ایک بار بلوچستان میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہوگئے تو امن وامان کی صورتحال جلد بہتر ہوجائے گی اس میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے جمہوری نظام جلد بحال ہونا چاہیے چھ مارچ تک حکم پر عملدرآمد کرکے رپورٹ پیش کی جائے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button