پاکستانتازہ ترین

کوئٹہ:آئی جی پولیس کا بیان گمراہ کن

igکوئٹہ (سٹاف رپورٹر) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبد الخالق ہزارہ نے آئی جی پولیس کے بیان کو گمراہ کن قرار دیا اور شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ناممکن ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذکرنیوالے اداروں کو فرقہ وارانہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا علم نہ ہو۔ پولیس سربراہ غلط بیانی سے کام لیکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایچ ڈی پی کے زیر اہتمام پارٹی چیئرمین کے 72 گھنٹوں کیلئے منعقدہ بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک ہزاروں خواتین بچوں ، ضعیف العمر افراد مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود اور قائدین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ دہشت گرد ، چور ، ڈاکو ، ڈرگ مافیا کے نمائندوں اور سرپرستوں پر قائم صوبائی حکومت کے بااثر اور بدنام وزراء کی سرپرستی میں کوئٹہ شہر میں قتل عام اور صوبے میں لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ جن کے مراکز اور ٹھکانوں سے صوبے کے اکثر با خبر حلقے آگاہی رکھتے ہیں۔ جس کا اظہار متعدد مرتبہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے صوبے کے ممتاز صحافیوں نے بھی کیا ہے ۔ پولیس سربراہ اپنے ادارے کی ناکامی کو چھپانے کیلئے غلط بیانیوں سے کام لے رہے ہیں، مگر عوام اب تمام حالات سے درست طور پر آگاہ ہوچکے ہیں، اور کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنے مطالبات سے قطعاً دست بردار نہیں ہونگے ، کیونکہ ہم پر امن احتجاجوں کے ذریعے مطالبات کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ صوبائی حکومت کو فوراً بر طرف کرکے سیاسی جماعتوں کے مشورے سے ایک آزادو غیر جانبدار نگران حکومت تشکیل دی جائے ، جسکی نگرانی میں وفاقی ادارے اور فوج فرقہ وارانہ دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کرکے عوام کے قتل عام میں ملوث گروہ اور انکے مراکز کا خاتمہ کرکے خود کش حملوں ، ٹارگٹ کلر اور دھماکوں سے عوام کو نجات دلا سکیں۔ کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور نا اہل وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں قائم حکومت کو عوام پر مزید مسلط رہنے کا کوئی حق نہیں۔ پارٹی چیئرمین نے علمدار روڈ اور باچا خان چوک دھماکوں میں 130 افراد کی شہادتوں کوصوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کی بدترین ناکامی قرار دیتے ہوئے وزیرا علیٰ ہاؤس کے ترجمان کے بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا اور کہا کہ جس وزیر اعلیٰ کو اسلام آباد میں کافی ہاؤس میں دیکھا گیا ہے ۔ وہ لندن کیسے فرار ہوسکتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ ملک میں ہی موجود ہے اوراپنی مجرمانہ غفلت کے باعث وہ عوام اور میڈیا کا سامنا نہیں کر سکتے ۔ جسکی وجہ سے اپنے ملک سے باہر ہونے کا ڈرامہ رچا کر عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے پوری دنیا کی طرف سے ہزارہ قوم کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے اور پورے پاکستان میں شدید مظاہروں اور دھرنوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام دنیا کے انسان دوست قوتوں ، سیاسی رہنماوں ، سماجی اداروں کی طرف سے ہزارہ قوم کے ساتھ مسلسل یکجہتی سے ثابت ہوا کہ ہزارہ قوم کی نسل کشی کے عمل کو دنیا کے مہذب اقوام نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں ۔ پارٹی رہنماء نے سیاسی جماعتوں ، مذہبی پارٹیوں اور شخصیات کی طرف سے واقعہ کے سلسلے میں شدید رد عمل پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بدترین حیوانیت کی مذمت کرنے اور ہزارہ قوم کے دکھ اور غم میں ہمدردی و یکجہتی کی شاندار مثال قرار دیا۔ بھوک ہڑتال کیمپ میں دوسرے دن بھی عوام کا تانتا بلندرہا مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نمائندوں نے پارٹی کیمپ میں آکر عبد الخالق ہزارہ اور ہزارہ قوم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے فرقہ واریت کے نام پر ہزارہ قوم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفود میں نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبد المالک بلوچ، طاہر بزنجو اور مختیار چھلگری شامل تھے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اورنگزیب کاسی نے ٹیلی فون کرکے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کا اظہار یکجہتی و تعزیتی پیغام دیا جبکہ اے این پی کے وفد نے صوبائی جنرل سیکرٹری و سینیٹر واؤد خان اچکزئی کی قیادت میں بھوک ہڑتالی کیمپ اظہار تعزیت اور یکجہتی کی ۔ وفد میں حاجی عبد الستار کاکڑ ، جمیل گلستان اور دیگر رہنما شامل تھے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام مرکزی صدر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور خالد لانگو نے عبد الخالق ہزارہ اور ہزارہ قوم سے یکجہتی اور غم کی اس گھڑی میں بھر پورساتھ دینے کیلئے کیمپ کا دورہ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، جاوید ہاشمی ، جہانگیر ترین، نوابزادہ ہمایوں جوگیزئی اور دیگر مرکزی و صوبائی قائدین نے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دور ہ کیا اوروحشت و بربریت کے بدترین واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے ٹیلی فون کرکے پارٹی چیئرمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جبکہ (ن) لیگ کے ایک وفد نے سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ کی سربراہی میں کیمپ کا دورہ کیا۔ وفد میں میر صلاح الدین رند، ملک خد ابخش لانگو، اقلیتی رہنما طارق گل اور چوہدری جمیل شامل تھے ۔ بی این پی کے کارکن سکندرکرد نے بھی کیمپ میں اظہار یکجہتی کیا اور واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ سندھ عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے ٹیلی فون کرکے عبدالخالق ہزارہ اور ہزارہ قوم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ طلال اکبر خان بگٹی نے اپنی بھر پور حمایت کی یقین دھانی کرائی اور واقعات کی مذمت کی۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبد المتین آخونزادہ نے ٹیلی فون کے ذریعے واقعہ کی مذمت کی اور اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔ ممبر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ظہور احمد شاہوانی ، نائب صدر سپریم کورٹ بار عبد اللہ خان کاکڑ ، بلوچستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے ڈاکٹر فیض ہاشمی ہزارہ وومن فاؤنڈیشن محترمہ جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ ، بلوچستان فرنچیر ایسو سی ایشن رجسٹر کے صدر اور اراکین نے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے قتل عام پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ہزارہ قوم کی نسل کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے فرینڈ آف ہزارہ کے رکن اور برطانوی پارلیمینٹ کے ممبر محترمہ لوسی ووڈ نے عبد الخالق ہزارہ کو فون کرکے برطانوی عوام کی جانب سے ہزارہ قوم کی نسل کشی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ہزارہ قوم کی نسل کشی روکنے کے سلسلے میں فرینڈ آف ہزارہ او برطانوی عوام کی طرف سے بھر پور کردار ادا کرنے کی یقین دھانی کرائی اور مشکل کی اس گھڑی میں ہزارہ قوم کا پور طرح ساتھ دینے کا عہد ظاہر کیا۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن اوکاڑہ کے ہال میں حضرت غلام علی قادری کے "فقہی مقام" پرمنعقدہ سیمینارسے مقررین خطاب کرتے ہوے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker