تازہ ترینصابرمغلکالم

عمران خان کی طاقتور مافیاز کے خلاف جنگ عروج پر

اقتدار ہو یا اختیا ر ملک کی سب سے بڑ ی ایگزیکٹو پوسٹ پاس ہو،سیاسی طور پر نشستوں کا پلڑا بھی بھاری نہ ہونے کے برابر ہو تو مصلحتیں،خدشات،تحفظات اور اقتدار کی نیا ڈوبے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے مگر اس کے باوجود ریاست کے سب سے بڑے مافیاز کے ساتھ پنگا لے لینانادانی ہے یا وطن کی محب،ماضی میں دو تہائی اکثریت رکھے والے حکمرانوں کو بھی قومی خزانے کو یوں بے دردی سے لوتنے والوں کے خلاف اٹھنے کی توفیق تک نہیں ہوئی، ماہ مقدس کی 27تاریخ کو 1947میں دنیا کی عظیم اسلامی ریاست معرض وجود میں آئی،اس لحاظ سے آج کا دن پاکستانی تاریخ میں اپنی نوعیت کے حوالے سے انتہائی اہم اور تاریخ ساز ہے،پاکستان شروع سے ہی مافیاز کے ہاتھوں یر غمال اور عوام دشمن عوام کا خون نچوڑنے میں مصروف ہیں مگر آج تک کسی بھی ایگزیکٹو نے اقتدارسمیت ان گنت مصلحتوں کے باعث مافیاز کی جانب نہ توجہ دی،نہ لگام ڈالی،نہ عوام کی حالت پر رحم کیا مگر رواں سال جب پاکستان میں اچانک چینی اور آٹے کے بحران نے پھن پھیلایا توعوام کی چیخیں نکلنے پر وزیر اعظم عمران خان نے بحران کا سخت نوٹس لیتے ہوئے عوام سے وعدہ کیا کہ نہ صرف بحران کے ذمہ داران کو بے نقاب کیا جائے گا بلکہ قانون کے کٹہرے میں بھی لا کھڑا کیا جائے گا،تبFIAکےDG واجد ضیاء کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی نے ابتدائی کی انکوائری کی جسے بعد ازاں ایک کمیشن میں تبدیل کرتے ہوئے انکوائری ایکٹ 2017کے سیکشن 9کے تحت فرانزک آڈٹ کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں،کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے آج کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا گیا جس میں واجد ضیاء نے کابینہ کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے تمام پردوں سے نقاب کشائی کر دی،بریفنگ کے کے بعدوزیر اعظم اور ارکان کابینہ نے شاباش دی،عمران کی ہدایت پر کمیشن کی مکمل رپورٹ کو پبلک کر دیا جائے،یہی وعدہ عمران خان نے قوم سے کیا تھا حالانکہ ان کا یہ اقدام عمران خان کی جانب سے پاکستان کے ایک بہت بڑے مافیا سے کھلم کھلا اعلان جنگ ہے جس کا خمیازہ انہیں اقتدار سے علیحدگی کی صورت میں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے، کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کمیشن رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم دیا،کمیشن نے چینی کے مصنوعی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دیتے ہوئے لکھا ان کی مجرمانہ غفلت کے باعث یہ بحران پیدا اور قیمت میں اضافہ ہوا، سندھ حکومت نے منی لانڈرنگ میں ملوث اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر فائدہ پہنچایا،جے ڈی ڈبلیو گروپ نے غیر قانونی طور پر کرشننگ میں اضافہ کیا،ڈبل بیلنگ اور انوائسنگ میں ملوث پائی گئی،گذشتہ 5سالوں کے دوران شوگر ملوں 29ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ اس عرصہ میں شوگر ملز نے صرف22ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کئے اور ان میں سے بھی ریفنڈ کی شکل میں 12ارب روپے واپس نکال لئے،ملک کے 6بڑے گروپس چینی کی 51فیصد پیداوار کنترول کرتے ہیں جن میں جہانگیر خان کا JDW(جمال دین والاگروپ)،رحیم یار خان گروپ 12فیصد،المعیزگروپ6.8فیصد،تاندلیا نوالا گروپ4.9فیصد،شریف فیملی گروپ4.5فیصد اور اومنی گروپ1.65فیصد پیداوار کرتے ہیں،ان گروپس میں انتہائی اہم اور طاقتور سیاسی شخصیات،ان کے قریبی عزیز اور قابل اعتما ددست،شامل ہیں،گذشتہ کئی سالوں سے ان گروپس نے یو ٹیلٹی سٹورز کو بھی چینی فراہم نہیں کی،ایس اے بی اور سی سی بی جے جیسے ادارے مصنوعی چینی بحران کے دوران خاموش تماشائی بنے رہے،پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن جو اس طاقتور طبقے کی نمائندہ تنظیم ہے تمام معاملات اور اہم فیصلوں پر اثر انداز ہوتی،کمیشن نے تجویز کیا ہے کہ اینٹی کرپشن،FBR،FIAاورSECBاورSBBکے افسران پرمشتمل تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے ملک کے تمام شوگر کارخانوں کا آڈٹ کرایا جائے اور نتائج کی روشنی میں قانونی کاروائی کی جائے،نیب کے ذریعے پبلک آفس ہولڈرز،ان کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے چینی کے خارکانوں کے ان عوامل کی تفتیش کرائی جائے جو نیب آرڈننس کے تحت قابل سزا جرم ہیں،قومی خزانے سے سبسڈی کے نام پرجو لوٹ کھسوٹ کی گئی اس جامع تحقیقات ہوں،کمیشن نے قومی خزانے کی لوٹ مار کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں اور موجودہ دور میں وفاق کی بجائے پنجاب حکومت کو زمہ دار قرار دیا،سفارش میں ٹیکس کی مد میں چوری اور کسان کو کم دی گئی رقم کی واپسی یقینی بنائی جائے،وفاقی کابینہ نے مختلف شوگر ملز کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے اور آٹے بحران پر بھی مزید تحقیقات کا فیصلہ کیا،بعض ارکان نے کہا حکومت میں شامل شخصیات کے کاروبار سے مفادات کا ٹکراؤ سامنے آتا ہے جس پر اس قانون کو فوری نافذ العمل کرنے کا حکم دیا گیا،وزیر اعظم نے کمیشن کی رپوٹ پر کہاایسے مافیاز کو نہیں چھوڑوں گاان کے خلاف دو دہائیوں سے جدوجہد کر رہا ہوں،کسی صورت نہیں جھکوں گاحکومت میں آکر پتا چلا کہ ملک میں کتنے بڑے مافیاز سرگرم ہیں،چاہے کوئی کتنا ہی میرے قریب کیوں نہ ہو معافی نہیں ملے گی سب فیصلے قانوں کے مطابق ہوں گے یہ مافیا بہت مضبوط ہے ملک کو برے طریقے سے لوٹا گیااب سب مافیاز بے نقاب ہوں گے یہ سب مل کر غریب دشمن اقدامات کرتے ہیں سخت ترین دباؤ کے باوجود آج غریب عوام کے لئے ڈٹ کر کھڑے ہیں،عمران خان نے اچانک بحران پیدا ہونے پر اس کی تہہ تک جانے کا فیصلہ کیا تھا،وٖٖفاقی وزیرشبلی فراز نے کہا ادارے20ماہ میں خراب نہیں ہوئے سابق حکمرانوں کے کاروباری مفادات تھے جنہوں نے منظم انداز میں اداروں کو تباہ کیا،یہ ملک میں کیا ہوتا رہا سب سامنے آئے گا ابھی یہ شروعات ہیں ہمارا منشور تبدیلی اور مافیاز کو بے نقاب کرنا ہے،کمیشن کی اس ررپورٹ پر اپوزیشن کا رونا دھونا بھی سامنے آ چکا ہے جس نے وزیر اعظم،وفاقی وزیر اسد عمر سمیت دیگر افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے عمران خان کو اتنی جلدی بھاگنے نہیں دیں گے،وزیر اعظم نے ڈرامہ رچایااور اس سے بڑا ڈرامہ کوئی اور ہو نہیں سکتا،بہر حال یہ ان کا نکتہ نظر ہے جو شرم مگر تم کو نہیں آتی کے مصداق ہے،چینی فرانزک آدٹ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکسوں کی مد میں فراڈ کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ شوگر مافیاز تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے منسلک جس کے باعث آج تک کوئی پالیسی نہیں بنائی جا سکی،اسٹیٹ بینک،مسابقتی کمیشن سمیت دیگر ادارے بھی ملوث ہیں جو تحقیقات شروع ہوتے ہی سب ایک ہو گئے،تحقیقاتی کمیشن کو سنگین نتائج کی دھمکیاں اور کروڑوں روپے رشوت کی پیشکش بھی کی گئی،شوگر مافیا کسانوں کا بھی استحصال کرتے رہے گنا خریدنے کے بعد کئی سال تک ادائیگیاں نہیں کرتے رہے مگر کسان مجبوری میں سستے داموں گنا فروخت کر دیتا،گنے کی ٹرالیوں کو ملز میں کئی کئی دن تک روکنے کا بنیادی مقصدوزن میں مزید کمی لانا تھی،چینی بنانے کے عمل سے نکلنے والے بگاس،پھوک،شیرا،مولاسیسزاور گار کو فروخت کر کے بھی اربوں روپے کمائے گئے جبکہ چینی کے علاوہ دیگر بننے والی مصنوعات کو بیرون ممالک فروخت کیا جاتا،ان تمام چیزوں کی فروخت کا ریکارڈ ہی نہیں ہے ان اشیا کی فروخت پر بھی ٹیکس اربوں روپے بنتا ہے،کمیشن کے مطابق ملز مالکان کی جانب سے مختلف بینکوں میں ٹرپل انٹریز بھی کی گئیں،شوگر ملز کو تمام اخراجات نکال کر بھی 10سے15روپے فی کلو بچت ہوتی ہے،اس کے باوجود سبسڈی دی جاتی رہی اگر حکومت خود درآمد کرے تو چینی سستی پڑتی ہے،معاون خصوصی شہزاد اکبر نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایسا ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے اور ہم درست سمت بڑھ رہے ہیں،دسمبر2018سے لے کراگست2019تک چینی کی قیمتوں میں 33فیصد اضافہ کرتے ہوئے 173ارب بنائے گئے،یہ اضافہ پھر بھی جاری رہا،رپورٹ میں سب واضح ہے کہ ایک طبقے نے پوری انڈسٹری پر قبضہ کیا ہوا ہے،یہ مافیاوزن کے دوران کسان کے گنے کی 15سے30تک کٹوتی کرتا،پاکستان میں چینی کی سالانہ کھپت 52لاکھ میٹرک ٹن جبکہ 2016/17میں پیداوار70لاکھ80ہزار میٹرک ٹن تھی،2017/18میں پیداوار66لاکھ30ہزار میٹرک ٹن تھی،جنوری2019میں چینی کی برآمد اوراس سے قبل فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیداوار کم ہونے کی توقع تھی اس لئے چینی برآمد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا،سبسڈی اور مقامی مارکیت میں زائد قیمت بحران کا سبب بنی،بیرون ملک چینی برآمد کے نام پر سب سے بڑا گھپلا ہوا،جہاں جانی تھی وہاں پہنچی نہیں اور اس میں سے68فیصد غیر قانونی طورپر افغانستان پہنچتی رہی،ایک ایکسل ٹرک ظاہر کیا گیا جس میں محض15سے20ٹن لوڈ نگ ہوتی ہے مگر چھوٹے ٹرک ظاہر کر کے 70/80ٹن فی ٹرالر افغانستان بھیجی گئی،حیرت انگیز طور پر افغانستان چینی کی برآمدات کا ریکاڑد ہی نہیں ہے،یوں اسے اسملنگ کہا جا سکتا ہے جو کریمنل لاء کے تحت آتی ہے،اس دوران چینی کے بے نامی خریدار بھی سامنے آئے ہیں یہ ابھی ملک بھرمیں 88کے قریب شوگر ملز کی آڈٹ رپورٹ سامنے آنی ہے نہ جانے تب کیا کیا انکشافات سامنے آئیں گے،شاہد خاقان عباسی خرم دستگیر کے ساتھ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے حالانکہ شاہد خاقان عباسی خود10ارب روپے ک یسبسڈی اپنے مختصر دور میں دے چکے ہیں،2015میں 6.5بلین،2016میں 6.5بلین،2018میں مرکز کی جانب سے15.5اور سندھ کی جانب سے4.1بلین،2019مین سندھ کی جانب 9,3بلین اور اب2020میں پنجاب کی جانب سے2.4بلین روپے اس مافیاز کو جاری ہوئے،جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ ان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں انہوں نے ٹھیک ہی بولاعوام کو لوٹنے والوں پر،ملکی تاریخ میں اشرافیہ پر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ہی ثابت ہوتے ہیں اگر کسی ایک بھی عوام دشمن کردار کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تویوں اس اسلامی ریاست میں اندھیر نگری ر لوٹ مار کا بازار گرم نہ ہوتا عوام کی تقدیر بدلنے والے ہمہ وقت اپنی خباثت کے تحت ان کے چیتھڑے اڑانے کی پالیسی بنانے کی فکر میں رہتے ہیں نت نئے طریقے،نئی مفاداتی پالیسیاں،بلیک میلنگ،اداروں میں کرپٹ ترین افراد کی تعیناتی ان کی ترجیحات میں اولین نبمر پر ہوتی ہیں،میں اور آپ نہیں،اس حوالے سے عمران خان کو داد اور کریڈٹ نہ دینا بھی انصافی کے مترادف ہو گا گو انہیں حکومت سے نیچے اتارنے تک کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں مگر وہ ڈٹ گیا،پنے دوستوں کے خلاف بھی ڈٹ گیا،

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker