تازہ ترینضیغم وارکالم

قو نصل جنرل بارسلونا عمران علی چو ہد ری سے مل لوملک کی خدمت کر نے والو

ایک طر ف شور ہے، بلکے ہر طر ف شور، کہ ہما رے افسران رشوت لیتے ہیں، اختیا رات کا نا جائز فا ئد ہ اٹھا تے ہیں،بے نظیر انکم سپو رٹ پر وگرام کے بارے جو سا منے آ یا، وہ کم نہیں، افسو س ہی افسو س، سا تھ کہیں اچھا کا م ہو رہا اس طر ف بھی نظر ہو نی چا ہیے، اور عوام کو حو صلہ دینا چا ہیے کہ کر پٹ لو گوں میں ایسے لو گ ہیں جو اصلی پا کستانی چہر ہ ہیں، جو کر پشن کر تے ان کے لیے یہ ایک لا ئن،،،
قو نصل جنرل بار سلو نا عمران علی چو ہد ری سے مل لو ملک کی خد مت کر نے والو
سعو دی عر ب کا ہما را سفارت خا نہ اس کے بارے وہاں رہنے والے پا کستا نیوں سے اکثر سنے کو ملتا ہے کہ سفا رت خا نہ پا کستا نی عوام کو ٹھیک سے ہنڈل نہیں کر تا، ان کے مسا ئل وقت پر حل نہیں ہو تے، مز دوری کر نے وا لے بے چارے دیہاڑی چھو ڑ کر کا غذات کی کا روائی مکمل کر نے کے لیے با ر بار دفتر کے چکر لگا تے ہیں، ایسی مثالیں دوسرے ممالک سے بھی سنے کو ملتی ہیں، کہیں کچھ بہتر کا م بھی ہو رہا ہے۔ مگر بلکل ذلیل کیے بغیر کا م ہو جا ئے یہ بہت ہی کم ہو تا ہے،دیا ر غیر میں پا کستا نی جو کا غذ ی کا روا ئی کر واتے ان کو جلد ی کا م کر وا نے کے لیے ما فیا کا سا منا کر نا پڑتا ہے، ایک وجہ کہ مز دوری دار چا ہتے ان کی دیہا ڑی نہ ضا ئع ہو اور دوسری وجہ کہ کم پڑ ھے لکھے ہو تے ہیں، با ر سلونا میں مو جو دہ سے پہلے جو قو نصل جنر ل ان کے بار یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی سستی کی وجہ سے با ر سلونا میں بہت سے ما فیا گر وپ کا م کر رہے تھے، اب صو رت حا ل یہ ہے کہ یہاں رہنے والے پا کستانی اپنے قو نصل جنر ل سے بہت خو ش ہیں، کیونکہ اب کسی کو پا سپو رٹ بنو انا ہو تو یہ نہیں کہا جا تا کہ چھ ما ہ انتظا ر کر و پا کستان میں انکو ئری ہو رہی ہے، ایسے اور بہت سے بہا نے کیے جا تے تھے اور آ فس میں آ نے والوں کے سے اچھا رو یہ بیی نہیں اپنا یا جا تا تھا، قو نصلیٹ با ر سلونا کا دفتر کا اس میں ایک بڑ ا ہال اور اس بار قو نصل جنرل با ر سلونا عمران علی چو ہد ری صا حب کا اعلا ن ہے کہ کو ئی ادبی پر وگرا م یا کو ئی پا کستا نی کیمو نٹی کے لیے پر وگرام کر وانا چا ہتے تو کر وا سکتے ہیں، مو جو دہ سٹا ف بھی بہت اچھا، ان کیا رویہ بہت ہی پر وفشنل، اور جو کم پڑ ھے لکھے لو گ آ تے ان کو اچھے سے سمجھا تے ہیں کہ ان کے کا غذات میں کیا چیز بہت ضر وری ہے، جیسے کہا جارہا ہے کہ بے نظیر انکم سپو رٹ پر وگر ام میں غر یبوں کا حق کھا نے والوں کا نا م سا منے آ نا چا ہیے تو جو سرکا ری سٹا ف اچھا کا م کر تا ان کے نا م بھی سا منے آ نے چا ہیے، قو نصلیٹ کے آ فس میں انٹر ہو ں تو نو جو ان یا سر صا حب نظر آ تے ہیں اور بہت ہی اچھے انداز سے پو چھتے ہیں کہ آ پ کس سلسلے میں آ ئے اور پھر آ گے ان کو بھجتے ہیں، ورنہ قا رئین جا نتے ہیں ریسپشن پر ہما رےء سر کا ر ی دفا تر میں کس انداز سے بات کی جا تی ہے، قو نصلیٹ با ر سلو نا میں مو جو دہ تمام سٹا ف بہت اچھے انداز سے لو گوں سے بر تا ؤ کر تے ہیں، اور ان کے مسا ئل سنتے ہیں اور حل بھی کر تے ہیں،دفتر کے اندر کسی نے قو نصل جنرل صا حب سے ملنا ہو تو ان کو یہ آ واز سنے کو نہیں ملتی کہ صا حب بزی ہیں تم نیچے سٹا ف سے پو چھ لو جو معلو ما ت چا ہیے، صا حب تم کے لیے فر ی نہیں بیٹھے ہو ئے، اس انداز کی جگہ وہاں سٹا ف میں نو جو ان محسن صا حب ہیں، ان سے کو ئی بھی کہتا کہ قو نصل جنر ل صا حب سے ملنا ہے تو اس بند ے کو سا منے پڑ ئے صو فے ان کی طر ف اشا رہ کر کے کہتے ہیں کہ آ پ بیٹھے ابھی آ پ کی ملا قا ت کر وا تے ہیں، اندر قو نصل جنرل عمران علی چو ہدری صا حب فو ن پر بزی ہو نے کے سا تھ یہ نہیں کہتے کہ آ ج کچھ ذہنی دبا ؤ تو کو ئی بھی آ ئے اسے باہر سے ہی ٹر خا دو، بلکے یہ کہا جا تا ہے کہ بز ی میٹنگ بھی ہو اور کو ئی بہت جلدی میں ہو، یا بڑی پر یشا نی میں ہو یا کہیں دور سے آ یا ہو تو اس کو فو ر نہ اندربلوالیا جا ئے، پا کستان میں اس طر ز کے کم ہی افسران، جو خو د بھی لو گوں کی مشکلا ت کا احسا س کر تے ہیں اور اس کے سا تھ سٹا ف کو بھی کنٹر ول کر تے ہیں،
کچھ دن پہلے عمران علی چو ہد ری صا حب سے ملا قات کے لیے ان کے آفس میں خا کسا ر گیا تو وہاں فصیح الر حمان صا حب اپنی ٹیم کے سا تھ مو جو د تھے، اس ٹیم میں اسپین کے ممبر شامل تھے، یہ پا نچ چھ خو اتین تھیں، فصیح الر حمان بڑ ا نام ہے کتھک ڈانس میں، ما ر چ میں یہاں ہو نے والے پر وگرام میں ان کی ٹیم کو شر کت کی دعو ت دی گئی، اس کا مقصد یہ تھا کہ ہما ری نو جو ان نسل اپنی ثقا فت سے آ گا ہ رہے کہ ہما رے ہا ں یہ کلچر بھی ہے، جو اہم با ت میں نے وہاں نو ٹ کہ وہ یہ تھی کہ فصیح صا حب کے سا تھ مو جو د اسپین کی خو اتین کو پا کستانی چا ئے اور پرا ٹھے اور سمو سہ چا ٹ سر ف کی گئی، اور چا ئے پیتے ہو ئے وہ محسن صا حب سے پو چھ بھی رہی تھیں کہ یہ کس بر نڈ کی ٹی ہے، پر اٹھے کھا تے وہ ہما رے کھا نے کی تعر یف کر رہی تھیں، خا کسا ر ایک طرف بیٹھ کر سو چ رہا تھا کہ عمران علی چو ہد ری صا حب حقیقت میں پا کستانی سفیر کے فر ائض سر انجا م دے رہے ہیں کہ یہاں کہ مقامی لو گو ں کو اپنے کھا نے پینے کی چیزوں سے بھی متعا رف کر وا رہے ہیں، ہو سکتا یہ ہما را کلچر اور تہذیب دیکھنے پا کستان کا وزٹ کر یں، ہم یہ تو چا ہتے ہیں کہ یو رپ سے لو گ ہما رے ملک کا وز ٹ کر یں، مگر کم ہی ہو تا ہو گا کہ عمران علی چو ہد ری صا حب کی طر ح ان کے آ فس میں آ نے والے مہما نوں کو پا کستان کھانے پینے کی چیز وں خا طر توا زو کی جا تی ہو۔
اس ٹیم کے جا نے کے بعد عمران علی چوہد ری صا حب نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کو محسو س ہو ا کہ یہاں پا کستا نی دیہا ڑی لگا نے والے ان کو کم ہی چھٹی ملتی ہے اور اگر ملتی ہے تو وہ صرف اتوار کو، تو وہ لو گ اتوا ر کو اپنا کام نہیں کر وا سکتے، لہذاب یہ فیصلہ کیا گیا کہ دو فروری سے اتوار کو بھی قو نصلیٹ با ر سلونا اوپن رہے گااور عوام کو سر وس فرا ہم کرئے گا،سا تھ ان کا کہنا تھا کہ پو رہ دنیا میں پا کستان کا پہلا یہ سفا رت خا نہ جو اتوا ر کے دن بھی کا م کر ئے گا، تا کہ یہاں مشکلا ت میں کا م کر نے والے پا کستانیوں کو کچھ سہو لت فر اہم کی جا سکے،
عمر ان علی چو ہد ری صا حب مثا ل ہیں، تما م سر کا ری افسران کے لیے، اور ہما ری دعا کے پا کستا ن کے ہر ادار ے میں ان جیسے لو گ ہو ں اور ملک زیا دہ تر قی کر ئے
ایک طر ف شور ہے، بلکے ہر طر ف شور، کہ ہما رے افسران رشوت لیتے ہیں، اختیا رات کا نا جائز فا ئد ہ اٹھا تے ہیں،بے نظیر انکم سپو رٹ پر وگرام کے بار جو سا منے آ یا، وہ کم نہیں، افسو س ہی افسو س، سا تھ کہیں اچھا کا م ہو رہا اس طر ف بھی نظر ہو نی چا ہیے، اور عوام کو حو صلہ دینا چا ہیے کہ کر پٹ لو گوں میں ایسے لو گ ہیں جو اصلی پا کستانی چہر ہ ہیں، جو کر پشن کر تے ان کے لیے یہ ایک لا ئن،،،
قو نصل جنرل بار سلو نا عمران علی چو ہد ری سے مل لو ملک کی خد مت کر نے والو

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker