آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

جناب عدنان کیانی ! عمران خان گوگل ویب سائٹ تو نہیں مگر۔۔۔

asif langoveچند روز قبل اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سیاسی نوجوان عدنان کیانی نے 2007 مسلم لیگ ق کو خدا حافظ کہہ عمران خان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔بعداذاں عمران خان کے ساتھ انکا کافی تعلقات قا ئم ہوئے اس حد تک عمران خان کو عدنان کیانی پسند آگئے تھے ۔ ایک ورکر کنونشن عمران خان نے ان کی تعریف کرتے ہوئے بھری اسٹیج پر فرمایا کہ” میں عدنان کیانی کو مبارک بعد پیش کرتا ہوں ، عدنان کیانی نے نظریے کے اوپر فیصلہ کیا ہے ” لیکن اب وہ سونامی میں بہہ جانے کی خوف سے اپنی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے سونامی خان کو رخصت کےئے بغیر پاکستان مسلم لیگ ن کا حصہ بن گئے ۔سیاسی روایات کے مطابق پی ایم ایل این کے سربراہ نے اسے خوش آمدید کہا ہے بڑی احترام کے ساتھ مہمان کی استقبال کیا۔میڈیا پر خبرآنے کے بعد عمران خان سے کسی نے پوچھا کہ عدنان کیانی نے پارٹی کو کیوں خدا حافظ کہ کرُ پکے سیاسی حریف نواز شریف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوا ہے ۔ مگر عمران خان کوئی جواب نظر تو نہیں مگر مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہ ” نہ میں نے آج تک عدنان کیانی کا نام سنا ہے اور نہ ہی مجھے پتا ہے کہ عدنان کیانی کون ہے لیکن مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ اسے بڑی اہمیت دی ہے پی ایم ایل این نے ”
شعر یاد آتا ہے کہ
وہ شخص مجھے زندگی بھر کے لئے اداس کر گیا
جو کہتا تھا عدنان کیانی تم کو خوش آمدید کہتا ہوں
عدنان کیانی نے عمران خان کی اس بات کو صیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ” عمران خان نہ صرف مجھے بھول چکے ہیں بلکہ ہر اُ س پرانے ورکر کو بھول چکے ہیں جنھوں نے بُرے حالات میں وفادی کی ہے مزید ا نہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اصل میں مسلم لیگ ق کا گروپ بن چکا ہے اب صرف پرویز مشرف ، چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کے علاوہ سب تحریک انصاف اسٹیج کا گروپ بن چکی ہے ۔
بحر حال عدنان کیانی صاحب ! غور طلب ہے کہ عمران خان گو گل ویب سائٹ کی طرح تو نہیں کہ ہر محفوظ بات کو اسکرین پر لائے اور نہ ہی کوئی کمپیو ٹر یا مشین ہے کہ باتوں کو محفوظ کر کے اپنے ساتھ رکھے ۔ عمران خان ایک انسان ہے جو بھول سکتا ہے اور اس سے غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں ۔ آپ کا نام اور پہچان کو شاید وہ بھول گئے کیونکہ سونامی میں پریشانی ہوتی ہے لوگ اپنے سگے بھائیوں کو بھول جاتے ہیں ۔ عمران خان وزیر اعظم کی کرسی کی یاد میں کم از کم بھولیں گے تو ضرور۔ دکھ اس بات کا نہیں ہے کہ آپ کو اس نے بھولا ہے اور نہ اس بات کہ وہ لوگوں کو بھولتا ہے ۔لیکن دکھ اس بات ضرور ہونا چاہئے کہ عمران خان نے اپنے اُن محسنوں کو نظر انداز کیا ہے جو اس کی اس تھوڑی سی کامیابی کے سبب ہیں ۔
جن لوگوں کی محنت کی وجہ سے ہی عمران خان کو سیاسی میدا ن میں الگ نام اور پہچان ملا ہے ۔جو برے حالات میں عمران خان کے ساتھ تھے۔عمران خان کو گلیوں و سڑکوں میں سیاسی تقاریر کرنے والے ون مین شو پرسن کو سب نے اکھٹے ہوکر مینار پاکستان میں تاریخی جلسہ دیا جس کے بعد اچھے اچھے سیاستدانوں نے عمران خان کے کے پیچھے چلنے پر مجبور ہوئے۔اُن لوگوں کو بھول چکا ہے جو عمران خان کو عمران خان کا نام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ عمران خان ان تمام لوگو ں نظر انداز کر چکا ہے جو عمران خان کے ساتھ اُ س وقت سے ساتھ دے رہے تھے جب عمرا ن خان کو ساتھیوں کی ضرورت تھی۔ عمران خان کی اس بات سے مغروریت بھی نظر آتی ہے اس کی اصلیت کا اندازہ بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ عمران خان کتنا لا پروا ہو چکا ہے ؟
عدنان کیانی صاحب آ ج آ پ کو عمران خان بھول گیا ہے کل آ پ نواز شریف بھی بھول جائیگا۔ عدنان کیانی نے پارٹی کو چھوڑ کر اپنے نظر میں شاید ہی اچھا فیصلہ کیا لیکن عمران خان کی اس جھوٹ پر مبنی جواب کے بعد شکرانہ ادا کیا ہے کہ اچھا ہوا کہ عمران خان کی اصلیت دیکھ لی کیونکہ عمران خان اپنی زبان سے اس بندے کی تعریف کرتے ہوئے اسے مبارک بعد بھی دے رہے ہیں جب کہ اب عمرا ن خان نے میڈیا میں اسے تسلیم کرنے کے بجائے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا کہ میں اسے جانتا بھی نہیں ہوں اور نہ ہی اس کا نام سنا ہے جبکہ سننا تو دور کی بات خان ! آ پ نے خود اس کی نام لی ہے مبارک باد تک دی ہے ۔
ویسے لاہور و کراچی جلسے کے بعد دن میں ہزاروں لوگ پارٹی میں شمولیت اختیا ر کرتے رہئے ہیں ان میں سے تو کسی کو مبارک باد نہیں دی ۔ ایسے لوگوں کو بھولنے کیا ڈرامہ کرنا کسی حد تک تو ٹھیک ہوگا مگر جو تمھارے ساتھ کئی برسو ں سے ساتھ دے رہے تھے ایسے لوگوں کو نظر انداز کرنا یا پہچاننے سے انکار کرنا بہت غلط بات ہے۔ اس نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا تھا ۔اب اگر عمران خان کی تبدیلی سے اسے دکھ پہنچا اور پارٹی و سونامی خان کو چھوڑنے پر مجبور ہوا ہے تو کوئی بات تو ضرور ہوگی ۔
عمران خان صاحب! پاکستان مسلم لیگ ن نے اسے آج اہمیت دی جبکہ آج الیکشن کے اوقات میں ایک ایک ورکر کی قیمت لیڈر کے سامنے سونا و ہیرا جیسے ہے ۔ اسی بندے کوعمران خان نے آ ج سے پانچ سال پہلے بہت اہمیت دیا تھا جب اس نے آ پ کی جماعت تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی اس حد تک اس کا نام لیکر اسٹیجوں پر زکر کیا کرتے تھے ۔ آ ج اگر پی ایم ایل این نے اسے اہمیت دیا تو کیا فرق پڑا ہے ۔ جیسے آپ نے اسے خوش آمدید کہا تو ویسے نواز شریف نے بھی کیا ہے۔ آپ کو انکار نہیں کرنا چایئے تھا خیر میڈیا نے آ پ کی چوری پکڑ لی ہے۔اس میں عمران خان کو قصور کم ہے کیونکہ کہ پاکستانی سیاسی میدان میں یہ نئی بات نہیں ہے کہ سیاستدان کام نکالنے کے بعد اپنے محسنوں ، ووٹروں اور ورکروں کو بھول جاتے ہیں ۔
بحرحال دیکھنے میں ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان سے پاکستان میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آنے والی ہے ۔ عمران خان سے تبدیلی کی توقع رکھنا نہ صرف خو د فریبی ثابت ہو گی بلکہ عمران خان زرداری کی طرح ثابت ہونگے ۔ یعنی ٰ کے کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں رہے گی ۔
زرداری صاحب روٹی کپڑا اور مکان کی بات کرتے ہیں اور بی بی اینڈ بھٹو کا نام استعمال کیا ہے ۔ اسی طرح عمران خان بی بی یا بھٹو کا تو نہیں بلکہ تبدیلی کا نعرہ لگاتے رہے گے ۔ عمران خان نے قریشی ، قصوری جیسے لیڈران کو ساتھ لیکر مشرف اور زرداری کے خاص ساتھیوں کو گلے لگا لیا ہے بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خا ن کو مشرف نے اپنے نقش قدم پر چلانے کے لئے اپنے قریبی ساتھی سابق وفاقی وزیر خارجہ خورشید احمد قصوری اور زرداری نے اپنے نقش قدم پر چلانے کے لئے سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو عمران خان کا دائیں بائیں پہنچا دیا ہے تاکہ عمران خان کو با آسانی سے استعمال کی جا سکے ۔ عمران خان ایک سادہ سیاستدان جو ان کی کہنے پر تمام فیصلے کر سکتا ہے اگر نہیں کر یگا تو یہ ناراض ہونگے جو عمران خان کو پسند نہیں آئیگا۔
عمران خان کو سیاستدان نہیں بلکہ ایک خلفاء راشدین کی پیرو کار بننے کی ضرورت ہے ۔ لیکن عمران خان میں خلفاء راشدین کی طرح بننے کی موجودہ کوئی پوائنٹ تک نہیں ہے ۔
عدنان کیانی صاحب ! عمران خان گوگل کی طر ح کوئی ویب سائٹ تو نہیں ہے کہ ہر بندے کو سرچ کر کے منظر عام پر پیش کرے ۔ ایک انسان ہے آخر بھول سکتا ہے ۔ لیکن میں اس بات سے متفق ہوں کہ عمرا ن خان ہر اُس شخص کو بھول چکا ہے جس نے عمران خان کے لئے بہت قربانیاں دیئے ہیں ۔ جن لوگوں نے عمران کا بری حال اور برے وقت میں ساتھ دیا ہے جن لوگوں نے عمران خان کو ایک لیڈر بنانے کے لئے کردار ادا کیا ہے ۔
جن لوگوں نے رات 2:00اور 3:00 بجے رات گئے عمران خان کی تصاویر اور تحریک انصاف کے جھنڈے لگائے ہیں ۔ جو دور دراز سے سفر کر کے عمران خان کی جلسہ کو کامیاب کرنے کے لئے آ تے رہئے ۔ جو وقت مقرر پر جلسہ گاہ میں پہنچ کر کئی گھنٹے عمران خان کی انتظار کی ہے ۔ جو لوگ جلسہ گا ہ میں عمران خان سے پہلے پہنچتے رہئے ہیں جو عمران خان کے بعد جلسہ گاہ سے گھر گئے ہیں ۔
جلسہ گاہ میں کئی گھنٹے کڑی دھوپ اور لکڑی کی طرح کھڑے رہئے ہیں ۔ جو ہمیشہ یونٹ کے دفاتر میں پابندی کے ساتھ آتے ہیں
عمران خان اُ ن لوگوں کو بھی بھول گیا ہے جو عمران خان کی جلسہ گاہ میں بغیر کھائے پیئے آٹھ آٹھ گھنٹے کھڑے رہئے ہیں
درحقیقت عمران خان سب کو بھول گیا ہے ۔
کیونکہ عمران خان جانتا ہے کہ کارکن اسے وزیر اعظم نہیں بنا سکتے ہیں ان کو یاد کر کے وقت ضائع کرنے کی مترادف ہے بلکہ اسے وزیر اعظم تو ایم این اے بنا ئیں گے اسی لئے وہ ہاشمی ، قریشی ، قصوری ، ترین ، سواتی جیسے کارکنوں کو دن میں دس بار یاد کرتا ہے ۔ ان کی خیریت دریافت کرنا عمران خان کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ۔
عام کارکنوں کو عمرا ن خان تمام سیاستدانوں کی روایات کو قائم رکھنے کی غرض سے بھول جانا ہی بہتر سمجھتے ہیں ۔
عمران خان کی اس روایت کی وجہ سے بلوچستان کے سابق صوبائی صدر و مرکزی نائب صدر شاہد قاضی نے بھی احتجاج کے طور نہ صرف خدا حافظ بھی ہے بلکہ عمران خان کے لئے دل میں نفرت بھی پیدا کی ہے ۔ عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں اور بھی نام ہیں ایڈمرل جاوید اقبال، شیریں مزاری و سینکڑوں ساتھی ایسے بھی ہیں جو ان کی طرح عمران خان کے قریبی ساتھ اور ہر دکھ سکھ میں شریک ہونے تھے جن لوگوں نے عمران خان کے ساتھ اپنا تعلق کو ختم کر دی ہے۔
یہ مسئلہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ تمام اہم سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا آرہا ہے مشرف کے بھی بہت سے ساتھیوں نے مشرف کو قصوری جیسے درجنوں نے چھوڑ دی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن کو اعظم سواتی ، نواز شریف کو ہاشمی ، زرداری کو قریشی اسی طرح معتد سیاستدانوں کو ان کے محسنوں نے ہی چھوڑ دی ہے ۔ لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ عمران خان تو باقی سیاستدانوں سے الگ قسم کے لگتے تھے مگر عمران خان "خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ”
عمران خان نے بھی پاکستان کے ماہناز سیاستدانوں کو دیکھ کر کارکنوں کے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنے کا رنگ پکڑ لی ہے ۔
اب عمران خا ن کی جگہ کسی دوسرے کی تلاش نا گزیر ہے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button